نیپال: مظاہرے جاری، دو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں شاہ گیانندرا کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ یہ واقع ملک کے مشرقی ضلع جھاپہ میں پیش آیا جہاں پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی۔ دریں اثناء حکومت نے اپوزیشن کے ان دو سینئرہنماؤں کو رہا کر دیا ہے جنہیں تین ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ ادھر نیپال کے سیاسی حالات پر شاہ گیانندرا سے بات چیت کے لیئے ایک سینیئر انڈین سفارتکار کھٹمنڈو پہنچ گئے ہیں جبکہ نیپال میں جاری احتجاج کے دوران لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہروں میں حصہ لیا۔ نیپال میں جمہوریت کی بحالی کے لیئے کی جانے والی ہڑتال چودہویں دن میں داخل ہوگئی ہے اور ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں چھ مظاہرین بھی مارے جا چکے ہیں۔ نیپال میں سکیورٹی فورسز نے پوکراہ کے قبضے میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شاہ کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے والے ڈہائی سو کے قریب اساتذہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور پولیس کے ساتھ تصادم میں پولیس والوں سمیت درجنوں مظاہرین زخمی ہو گئے۔ اسی دوران نیپال گنج میں آنسو گیس کا گولہ لگنے سے زخمی ہونے والی خاتوں وفات پا گئی ہیں۔ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کرن سنگھ نیپال کے شاہ گیانندرا سے بات چیت کریں گے۔ ماضی میں امریکہ میں انڈین سفیر کی خدمات سر انجام دینے والے کرن سنگھ نیپالی بادشاہ کے رشتہ دار بھی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انڈین وزیرِاعظم نے انہیں اپنا پیغام نیپالی بادشاہ کو پہنچانے اور ملک کے حالات کا جائزہ لینے کو کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نیپال کے مسائل کا حل چاہتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’نیپال کی تیزی سے بگڑتی صورتحال انڈیا کے لیئے پریشانی کا باعث ہے۔ نیپالی عوام بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں اور ملک میں تشدد اور طوائف الملوکی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ انڈیا نیپال کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا لیکن نیپال اور انڈیا کے مضبوط تعلقات کی بناء پر اگر ہم انہیں کوئی حل بتائیں گے تو وہ ضرور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے‘۔ انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انڈین سیکرٹری خارجہ شیام سرن بھی بدھ کو بھوٹان سے واپس انڈیا جاتے ہوئے کھٹمنڈو میں رکیں گے۔ دریں اثناء نیپالی حکومت نے منگل کو پوکھارا میں پولیس اور ہزاروں مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد علاقے میں دن کا کرفیو لگا دیا ہے۔ منگل کو ہی پولیس نے نیپالی وزارتِ داخلہ کی عمارت کے احاطے میں مظاہرہ کرنے والے پچیس سرکاری ملازمین کو بھی گرفتار کیا تھا۔ | اسی بارے میں نیپال: ’معصوم‘ قیدیوں کی حالتِ زار19 April, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو: خوراک اور تیل کمی16 April, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد14 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس سیاستدان مدد کریں: شاہ گیانندرا13 April, 2006 | آس پاس پولیس اور نیپالی مظاہرین کی جھڑپیں09 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||