BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 April, 2006, 10:00 GMT 15:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس اور نیپالی مظاہرین کی جھڑپیں
مظاہرین
مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور پتھر رکھ کر راستے بند کر دیے
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت دیگر شہروں میں کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ان جھڑپوں میں متعدد افراد پولیس فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ پولیس نے فائرنگ کے دوران اصل یا ربر کی گولیاں استعمال کیں۔

سنیچر سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ نیپالی ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کرفیو کے خلاف ورزی کرنے والوں کو گولی مار دی جائے۔

سب سے بڑا مظاہرہ نیپال کے جنوبی قصبے بھارت پور میں ہوا جہاں دو ہزار افراد نے تلسی چرتی نامی اس خاتون کی ہلاکت پر سخت احتجاج کیا جو اپنے گھر کی بالکونی میں پولیس کی گولی کا نشانہ بن گئی تھیں۔

پولیس نے شاہ گیانندرا کی حکومت کے خلاف مظاہرے میں شریک افراد پر آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے۔ کھٹمنڈو میں مظاہرین نے احتجاجی ریلیوں کے دوران حکومتی املاک کو بھی نقصان پہنچایا اور مختلف مقامات پر ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں۔ اس وقت بھی کٹھمنڈو کی مرکزی شاہراہوں پر مسلح فوجیوں اور پولیس کی بھاری تعداد موجود ہے۔

خبر رساں دارے رائٹرز کے مطابق پوکھارا کے قصبے میں ہزاروں مظاہرین نے اس ہسپتال میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں فوجیوں کی گولی کا نشانہ بننے والے شخص کی میّت رکھی گئی تھی۔

کھٹمنڈو کی سڑکوں ہر بڑی تعداد میں فوج اور پولیس کے جوان موجود ہیں

کھٹمنڈو سے 159 کلومیٹر دور نیارن گھاٹ نامی قصبے کے ایک ڈاکٹر کے مطابق فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے ولی عورت بھی اتوار کو انتقال کر گئی ہے۔

یاد رہے کہ سنیچر کو بھی کھٹمنڈو میں کرفیو نافذ رہا تھا تاہم ملک کے مغربی علاقے میں کرفیو کے باوجود احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن کے دوران ایک شخص پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا جب کہ کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔

یہ پابندیاں نیپال میں اس لیے لگائی جا رہی ہیں کہ شاہ گیانندرہ کے خلاف جاری مظاہروں کو روکا جا سکے۔ ہڑتال کے تیسرے دن جلوس کے اعلان پر نیپالی حکام نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں دن کے وقت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا اور تمام موبائل فون نیٹ ورکس بند کردیے تھ۔

نیپال کے بادشاہ شاہ گیانندرا کے خلاف ملک میں جاری تحریک زور پکڑ رہی ہے اور جمعہ کو بھی دارالحکومت کھٹمنڈو میں مظاہروں میں شریک کم از کم ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
بادشاہ ملک بدر یا مقدمہ
13 February, 2006 | آس پاس
نیپال: انتخابات میں تشدد
08 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد