بادشاہ ملک بدر یا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے اہم ماؤ نواز باغی رہنما نے کہا ہے کہ وہ نیپال کے بادشاہ کے لیے مستقبل میں دو ہی راستے تصور کر سکتے ہیں، ملک بدری یا پھر ان پر مقدمہ۔ ماؤ نواز باغی رہنما پرچندا نے یہ بات بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ وہ بہت کم انٹرویو دیتے ہیں لیکن انہوں نے بی بی سی سے بات چیت نیپال میں ماؤ نواز بغاوت کے دسویں سالگرہ کے موقع پر کی۔ نیپالی بادشاہ کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ عوامی عدالت میں چلایا جا سکتا ہے اور اس کا ممکنہ نتیجہ سزائے موت بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہ نے پچھلے سال ملک میں اقتدار چھیننے کے بعد اب مفاہمت کی بہت کم گنجائش چھوڑی ہے۔ تاہم باغی رہنما نے یہ بھی کہا کہ اگر عوام بادشاہت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے۔ ماؤ نواز باغی رہنما چاہتے ہیں کہ نیپال میں ایک منتخب اسمبلی آئے جو پھر ملک کے لیئے ایک آئین تیار کرے۔ پرچندا کا کہنا ہے کہ انتخابات کے ذریعے عوام جو راستہ اختیار کریں وہ ان کو قبول ہوگا۔ یہ پرچندا کے ساتھ پہلا رو برو انٹرویو ہے۔ وہ سیاسی طور پر پچھلے پچیس سال سے زیر زمین ہیں۔ باغی رہنما پرچندا کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ نیپال میں پچھلے دس برس سے چلنے والی اس لڑائی میں تیرہ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مخبروں کے خلاف تشدد کا استعمال بالکل جائز ہے۔ جب پرچندا سے پوچھا گیا کہ کیا ماؤ نواز باغی دارالحکوت کاٹھمنڈو پر فوجی حملہ کر کے قابض ہو سکیں گے تو انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملنے والی غیر ملکی امداد نے اس کو مشکل بنا دیا ہے اور اس سے نیپالی عوام کو بہت نقصان پہنچے گا۔ نیپال میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے ایک گروہ کو پرچندا کی باتوں سے خاصی مایوسی ہوگی کیونکہ انہوں نے حال میں باغیوں کے ساتھ ایک سیاسی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بادشاہ کے لیے سزائے موت کی بات پر بھی نیپال میں منفی رد عمل ہو سکتا ہے کیونکہ نیپال میں موت کی سزا نہیں ہے۔ | اسی بارے میں باغیوں کاشاہ سے بات کرنے سےانکار 04 September, 2005 | آس پاس نیپال: ہڑتال سے زندگی مفلوج05 February, 2006 | آس پاس نیپال: جھڑپوں میں بیس ہلاک22 January, 2006 | آس پاس ماؤ باغیوں کے حملوں میں اضافہ22 August, 2004 | آس پاس نیپالی کمپنیوں کو پھر دھمکی 10 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||