نیپال: ہڑتال جاری، ڈیڑھ سوگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے بادشاہ شاہ گیانندرا کے خلاف ملک میں جاری تحریک زور پکڑ رہی ہے اور دارالحکومت کھٹمنڈو میں حکام نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک کم از کم ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سیاسی ریلیوں پر پابندی کے بعد پولیس اور ماہرین کے درمیان پرتشدد تصادم بھی ہوئے ہیں۔ پولیس نے جمہوریت کے حق میں نعرے لگانے والے طلباء اور مظاہرین پر آنسوگیس پھینکی اور انہیں منتشر کرنے کے لیئے لاٹھی چارج بھی کیا۔ مظاہرین نے حکومتی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ایک ڈاکخانے کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ مظاہروں میں شریک کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے ایک کارکن سووا سپکوتا کا کہنا تھا’ یہ مظاہرے حکومت کے لیئے آخری دھکا ثابت ہوں گے اور بادشاہ کے دن گنے جا چکے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ ہم مظاہروں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے‘۔ نیپالی حکام نے بدھ کو بھی حزبِ اختلاف کے مظاہروں کو روکنے کے لیے کارروائی کی تھی اور سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نمائندے سشیل شرما کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کال پر کی جانے والے ہڑتال سے شہر میں نظامِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ شاہ گیانندرا کے اقتدار پر قابض ہونے کے ایک سال کی تکمیل پر خلاف احتجاج کے طور پر حزبِ اختلاف نے جمعرات کو چار روزہ ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ جلسوں اور مظاہروں پر پابندی کے باوجود ہفتے کے روز نیپال میں بادشاہت کے خلاف دارالحکومت کھٹمنڈو میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ماؤ باغیوں کے حملے، 24 ہلاک 06 April, 2006 | آس پاس مسلح کارروائی کی معطلی کا اعلان03 April, 2006 | آس پاس نیپال: انتخابات میں تشدد08 February, 2006 | انڈیا نیپال کی بادشاہت02 February, 2005 | آس پاس نیپال میں حقوق انسانی پر تشویش23 January, 2005 | آس پاس جمہوریت بحال ہوگی: گیانندرا23 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||