مسلح کارروائی کی معطلی کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے ماؤ باغیوں نے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت کھٹمنڈو میں غیر معینہ مدت کے لیے مسلح کارروائیاں معطل کررہے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک اعلٰی اہلکار نے باغیوں اور سکیورٹی افواج کے درمیان جاری اس تنازعے اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ماؤ باغیوں نے اپنی کارروائیاں معطل کرنے کا یہ اقدام حزب اختلاف کے سات جماعتی اتحاد کی شاہی خاندان کے خلاف ریلی اور ہڑتال کے اعلان کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ریلی نہیں ہو سکتی کیونکہ باغی اس دوران دراندازی اور پرتشدد کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
حزب اختلاف کا یہ اتحاد شاہ گیاندرہ کے 2005 میں براہ راست اقتدار میں آنے کے سخت خلاف ہے اور اسی سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کررہا ہے۔ پیر کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں باغی رہنما پراچندرا نے اپنی مسلح کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ شاہ کے خلاف حزب مخالف کی ریلی کا انعقاد ممکن ہوسکے۔ حزب مخالف نے قوم سے چار روزہ ہڑتال کی اپیل بھی کی ہے۔ مجوزہ ہڑتال جمعرات سے شروع ہوگی جبکہ شاہ مخالف ریلی ہفتہ کو نکالی جائے گی۔ احتجاجی مظاہرے سے قبل شہر کی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ کئی وزراء کا کہنا ہے کہ مظاہرے روکنے کے لیئے شہر میں کرفیو بھی نافذ کیا جاسکتا ہے۔ پراچندرا کا کہنا ہے کہ حکومت باغیوں کی آڑ میں شاہ مخالف مظاہروں کو روکنا چاہتی ہے۔ حزب مخالف کے سات رکنی اتحاد نیپال کے شاہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ دوسری جانب نیپال کے لیئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ ایئن مارٹن کا کہنا ہے کہ اس حکومت اور باغیوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماؤ باغی حکومت مخالف کارروائیوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ وہ مسلح کارروائیوں کے لیئے بچوں کو بھی ’پیپلز لبریشن آرمی‘ میں بھرتی کررہے ہیں۔ دوسری جانب ان کا کہنا تھا کہ حکومتی فوج بھی جوابی کارروائیوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہر اس جگہ کو نشانہ بنا رہی ہیں جہاں باغیوں کی موجودگی کا امکان ہو۔ اور نتیجتاً عام شہری ہلاک ہورہے ہیں۔ انہوں نے فوج پر زور دیا کہ وہ سکولوں یا دیگر عوامی عمارات کو نشانہ نہ بنائیں۔ حزب مخالف کی مجوزہ ریلی اور ہڑتال کے بارے میں انہوں نے تشویش ظاہر کی انہیں فکر ہے کہ حزب مخالف کو آزادی اظہار کا حق دیا جائے گا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو پر امن مظاہروں کا حق حاصل ہے۔ دری اثناء نیپالی فوج نے کہا ہے کہ اس نے تیرہ فوجیوں کا کورٹ مارشل شروع کیا ہے جن پر شہریوں کے خلاف زیادتی کرنے کے الزامات ہیں۔ یہ اقدام اس عدالتی تحقیق کے بعد اٹھایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوا ہے کنچنپور ضلعے میں فوجیوں نے گاؤں کے افراد کو مارا پیٹا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان تیرہ افراد نے اپنے ایک ساتھی کی موت کا بدلہ لینے کے لیئے گاؤں کے افراد کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان فوجیوں کو قاتلوں کے بارے میں گاؤں والوں کی جانب سے معلومات نہ دینے پر اشتعال تھا۔ حقوق انسانی کے اداروں نے اس فوجی اقدام کی مذمت کی ہے۔ حال ہی میں ماؤ باغیوں نے چار ماہ تک فائر بندی کی تھی تاہم حکومت نے یہ کہہ کر اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ باغیوں پر اعتبار نہیں کرسکتی۔ جنوری میں فائر بندی کے خاتمے کے ساتھ ہی پرتشدد کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ ماؤ باغیوں کی دس سالہ کارروائیوں میں 13000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں نیپال میں حقوق انسانی پر تشویش23 January, 2005 | آس پاس نیپال میں ایمرجنسی اٹھا لی گئی30 April, 2005 | آس پاس عالمی رہنماؤں سے اپیل06 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||