نیپال: مظاہروں میں ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے مغربی علاقے میں کرفیو کے دوران شاہ گیانندرا کے خلاف مظاہرہ کرنے والا ایک شخص پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوگیا ہے۔ یہ احتجاجی ریلی پکھارا نامی قصبے میں نکالی جارہی تھی۔ ہڑتال کے تیسرے دن جلوس کے اعلان پر نیپالی حکام نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں دن بھی کا کرفیو لگا دیا ہے اور تمام موبائل فون نیٹ ورکس بند کردیئے گئے ہیں۔ ب یہ ریلی اتوار تک کے لیئے موخر کردی گئی ہے۔ اعلان کیا گیا تھا کہ مطابق کرفیو صبح دس بجے سے گیارہ گھنٹے تک جاری رہے گا اور اس دوران خلاف ورزی کرنے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ شاہ گیانندرا نے چودہ ماہ قبل حکومت کو ہٹا کر مطلق اختیارات حاصل کر لیے ہیں۔ نیپال کے بادشاہ شاہ گیانندرا کے خلاف ملک میں جاری تحریک زور پکڑ رہی ہے اور جمعہ کو دارالحکومت کھٹمنڈو میں مظاہروں میں شریک کم از کم ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت کی جانب سے سیاسی ریلیوں پر پابندی کے بعد پولیس اور ماہرین کے درمیان پرتشدد تصادم بھی ہوئے ہیں۔ پولیس نے جمہوریت کے حق میں نعرے لگانے والے طلباء اور مظاہرین پر آنسوگیس پھینکی اور انہیں منتشر کرنے کے لیےلاٹھی چارج بھی کیا۔ مظاہرین نے حکومتی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ایک ڈاکخانے کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ نیپالی حکام نے بدھ کو بھی حزبِ اختلاف کے مظاہروں کو روکنے کے لیے کارروائی کی تھی اور سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نمائندے سشیل شرما کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کال پر کی جانے والے ہڑتال سے شہر میں نظامِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ شاہ گیانندرا کے اقتدار پر قابض ہونے کے ایک سال کی تکمیل پر خلاف احتجاج کے طور پر حزبِ اختلاف نے جمعرات کو چار روزہ ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں ماؤ باغیوں کے حملے، 24 ہلاک 06 April, 2006 | آس پاس مسلح کارروائی کی معطلی کا اعلان03 April, 2006 | آس پاس نیپال: انتخابات میں تشدد08 February, 2006 | انڈیا نیپال کی بادشاہت02 February, 2005 | آس پاس نیپال میں حقوق انسانی پر تشویش23 January, 2005 | آس پاس جمہوریت بحال ہوگی: گیانندرا23 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||