نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کی سیاسی جماعتوں نے شاہ گیانندرا کی جانب سے انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیئے مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ ان سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ شاہ گیانندرا کی پیشکش میں کچھ نیا نہیں ہے۔ نیپال کی حزبِ اختلاف نے بادشاہ پر مطلق العنانیت کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر غور نہیں کر رہے ہیں۔ نیپال کانگریس پارٹی کے کرشنا ستولا کا کہنا ہے کہ’ بادشاہ مظاہرین اور جمہوریت کی تحریک چلانے والوں سے بات کرنے میں ناکام رہے ہیں اور وہ مذاکرات کی پیشکش کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیئے استعمال کرنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس مطلق العنان بادشاہت کے خاتمے کے لیئے اپنے مظاہروں میں تیزی لائیں گے‘۔ شاہ گیانندرا کے ملکی اور غیر ملکی ناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ موجودہ غیریقینی حالات میں انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے اور اگر یہ انتخابات ہوتے بھی ہیں تو اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی ان کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکی ہیں۔ نیپال کے شاہ گیانندرا نے قوم سے خطاب میں سیاسی جماعتوں سے کہا تھا کہ وہ ملک میں انتخابات کے انعقاد میں ان کی مدد کریں۔ ٹیلیوژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے شاہ گیانندرا نےکہا کہ وہ اگلے سال انتخاب کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن انہوں نے انتخابات کوئی تاریخ نہیں بتائی۔ شاہ گیانندرا نےچود ہ ماہ پہلے منتخب حکومت کو برطرف کرکے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ یاد رہے کہ نیپال میں شاہ گیانندرا کے خلاف احتجاجی تحریک زوروں پر ہے اور اب تک چار مظاہرین بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں سیاستدان مدد کریں: شاہ گیانندرا13 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس نیپال: کرفیو برقرار مگر ہڑتال جاری10 April, 2006 | آس پاس پولیس اور نیپالی مظاہرین کی جھڑپیں09 April, 2006 | آس پاس سابق نیپالی وزیر اعظم جیل سے رہا14 February, 2006 | آس پاس بادشاہ ملک بدر یا مقدمہ13 February, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو: سینکڑوں مظاہرین گرفتار21 January, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو میں کرفیو، سینکڑوں گرفتار20 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||