نیپال: ’معصوم‘ قیدیوں کی حالتِ زار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافی کنک مانی ڈکشٹ کو آٹھ اپریل کو کٹھمنڈو سے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نیپال میں جمہوری حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ذیل میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں انہوں نے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے قریب واقع حراستی مرکز میں قیدیوں کی حالت زار اور خاص طور پر دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب قیدیوں کو پیش آنے والی مشکلات کو قلم بند کیا ہے۔ اسیری کے دوران لکھی گئی یہ تحریر جیل سے باہر سمگل ہو کر سب سے پہلے نیپال ٹائمز میں شائع ہوئی:- ’کٹھمنڈو کے مضافات میں دیوواکوٹ پولیس کی بیرکوں میں قائم اس عارضی حراستی مرکز میں تین قسم کے قیدی ہیں۔‘ پہلی قسم انسانی حقوق کے معروف کارکنوں کی ہے جنہیں گرفتاری کے بعد کسی طرح کے تشدد کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ دوسری قسم مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیئر اور جونیئر سیاسی کارکنوں کی ہے جنہیں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں اپنی پارٹی کے اثرورسوخ سے سہارا ملتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تعداد نوجوانوں اور حال ہی میں لڑکپن کی حدوں کو عبور کرنے والے لڑکوں کی ہے جو دور دراز کے پہاڑی اور میدانی دیہات سے تعلق رکھتے ہیں اور کٹھمنڈو میں چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں۔ وہ مختلف لسانی و مذہبی گروہوں اور قبیلوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ریاست کے ڈھانچے میں کسی طرح کے بھی اثرورسوخ کی غیر موجودگی نے انہیں ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔ سیاسی معاملات میں بے دست و پا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دیوواکوٹ کے ان نوجوانوں پر کئی سطح پر مظالم ڈھائے گئے ہیں اور ڈھائے جارہے ہیں۔ سب سے پہلے انہیں ڈنڈوں سے مسلح پولیس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو دارالحکومت کی گلیوں او بازاروں میں ان کا پیچھا کرتی ہے، لاٹھیوں سے ان کی مرمت کرتی ہے اور انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرکوں میں بھر کے حراستی مرکز پہنچا دیتی ہے۔ حراست کے دوران انہیں جن جگہوں پر رہنا پڑتا ہے وہاں ٹوائلٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر انہیں بغیر بتائے ایک حراستی مرکز سے دوسرے مرکز لے جایا جاتا ہے۔ یہ خوف بھی ہر وقت موجود رہتا ہے کہ حکام جمہوریت کے لیئے چلائی جانے والی اس تحریک میں ماؤنواز باغیوں کی ’دراندازی‘ کو ثابت کرنے کی ضرورت کے پیش نظر بیک جنبش قلم آپ کو ایک مزاحمت کار نہ قرار دے دیں۔ اس صورت میں آپ کی زندگی کو خطرہ ہوتا ہے اور آپ کے بچنے کے امکانات معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ کے خاندان کو کون اطلاع دے گا؟ آپ کے آجر کو کون بتائے گا؟ آپ کے مقدمے کی پیروی کون کرنے گا اور آپ کے لیئے آواز کو اٹھائے گا؟ آپ کا دفاع کون کرے گا اور حکومت کو آپ کی غلط گرفتاری کو قصوار ٹھہرائے گا اور کسی عدالت میں آپ کی رہائی کے لیئے ’حبس بے جا‘ کی اپیل کون دائر کرے گا؟ دامبار نیپالی کی عمر 14 سال ہے۔ وہ ملک کے مشرق میں واقع اودھے پور کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کٹھمنڈو میں ایک تعمیراتی مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور انہیں اس وقت مار پیٹ کے بعد گرفتار کیا گیا جب وہ کام سے گھر واپس آرہے تھے۔ تئیس سالہ رمیش باسنیٹ کا تعلق ڈھاڈِنگ سے ہے۔ وہ اس وقت پولیس کے ہتھے چڑھے جب وہ پرنٹنگ پریس سے کام کر کے واپس آ رہے تھے۔ رام کمار تمانگ ایک مائیکروبس چلاتے ہیں۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کرفیو کے دوران ایک سڑک کو عبور کر رہے تھے۔ اٹھارہ سالہ برج شرما کرفیو کی حدود سے باہر واقع ایک پان سگریٹ کی دکان کے پاس ٹہل رہے تھے۔ ’پولیس والے صحیح معنوں میں شیطانوں کی اولاد ہیں۔ انہوں نے میرے سر کو پاؤں سے ایسے ٹھوکریں ماریں جیسے ایک فٹ بال کو مارتے ہیں۔‘ حراستی مرکز میں تین ایسے لڑکے بھی لائے گئے جو گرفتاری کے وقت ایک سٹاپ پر کھڑی بس میں آرام کر رہے تھے۔ ان سب نوجوانوں کو اب کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے۔ قیدی جتنا غریب اور بے آسرا ہوتا ہے اسے رفع حاجت کے لیئے اتنا ہی دور جانا پڑتا ہے اور سب سے بدمزہ چاول کھانے پڑتے ہیں۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کو چاہیے کہ ایسے قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ کرے اور ان کا پتا لگائے۔ پولیس والوں میں سے کچھ اچھے اور حساس بھی ہو سکتے ہیں لیکن انہیں ظالم و جابر ریاست کے احکامات پر عمل کرنا پڑتا ہے جس کے معاملات ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہیں جو بار بار نیپالی عوام سے اپنی حقارت کو ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ جب مطلق العنان حاکمیت کے ساتھ طاقت کے استعمال اور حقارت کا اضافہ بھی کردیا جائے تو بے آسرا افراد سب سے زیادہ ظلم سہتے ہیں اور ان کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی وجہ ہے جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ملک میں جمہوریت، سیاسی سرگرمیاں اور امن فوری طور پر بحال ہو۔ |
اسی بارے میں کٹھمنڈو: خوراک اور تیل کمی16 April, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد14 April, 2006 | آس پاس سیاستدان مدد کریں: شاہ گیانندرا13 April, 2006 | آس پاس پولیس اور نیپالی مظاہرین کی جھڑپیں09 April, 2006 | آس پاس نیپال: ہڑتال جاری، ڈیڑھ سوگرفتار07 April, 2006 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||