BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 April, 2006, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال میں کرفیو نافذ، دو ہلاک
نیپال میں اپوزیشن کے مظاہرے
نیپال میں اپوزیشن کے مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں
نیپال میں شاہ گیانندرا کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت کھٹمنڈو میں اٹھارہ گھنٹے کا کرفیو لگا دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔

تاہم جمعرات کو اپوزیشن نے نیپال میں ایک بڑے مظاہرے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ شاہ گیانندرا براہِ راست اقتدار سے دستبردار ہوں۔ دو ہفتوں سے جاری ان مظاہروں میں اب تک آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ مظاہرین کی ہلاکتوں کا واقعہ ملک کے مشرقی ضلع جھاپہ میں پیش آیا جہاں پولیس نے شاہ گینانندرا کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولی چلا دی۔

دریں اثناء حکومت نے اپوزیشن کے ان دو سینئرہنماؤں کو رہا کر دیا ہے جنہیں تین ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

ادھر نیپال کے سیاسی حالات پر شاہ گیانندرا سے بات چیت کے لیئے ایک سینیئر انڈین سفارتکار کھٹمنڈو پہنچ گئے ہیں جبکہ نیپال میں جاری احتجاج کے دوران لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہروں میں حصہ لیا۔

نیپال میں جمہوریت کی بحالی کے لیئے کی جانے والی ہڑتال چودہویں دن میں داخل ہوگئی ہے اور ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سکیورٹی فورسز نے پوکراہ کے قبضے میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شاہ کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے والے ڈھائی سو کے قریب اساتذہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

نیپال کے لیئےانڈیا کے ایلچی کرن سنگھ

اس احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور پولیس کے ساتھ تصادم میں پولیس والوں سمیت درجنوں مظاہرین زخمی ہو گئے۔ اسی دوران نیپال گنج میں آنسو گیس کا گولہ لگنے سے زخمی ہونے والی خاتوں انتقال کر گئی ہیں۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کرن سنگھ نیپال کے شاہ گیانندرا سے بات چیت کریں گے۔ ماضی میں امریکہ میں انڈین سفیر کی خدمات سر انجام دینے والے کرن سنگھ نیپالی بادشاہ کے رشتہ دار بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈین وزیرِاعظم نے انہیں اپنا پیغام نیپالی بادشاہ کو پہنچانے اور ملک کے حالات کا جائزہ لینے کو کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نیپال کے مسائل کا حل چاہتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’نیپال کی تیزی سے بگڑتی صورتحال انڈیا کے لیئے پریشانی کا باعث ہے۔ نیپالی عوام بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں اور ملک میں تشدد اور طوائف الملوکی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ انڈیا نیپال کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا لیکن نیپال اور انڈیا کے مضبوط تعلقات کی بناء پر اگر ہم انہیں کوئی حل بتائیں گے تو وہ ضرور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے‘۔

انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انڈین سیکرٹری خارجہ شیام سرن بھی بدھ کو بھوٹان سے واپس انڈیا جاتے ہوئے کھٹمنڈو میں رکیں گے۔

دریں اثناء نیپالی حکومت نے منگل کو پوکھارا میں پولیس اور ہزاروں مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد علاقے میں دن کا کرفیو لگا دیا ہے۔ منگل کو ہی پولیس نے نیپالی وزارتِ داخلہ کی عمارت کے احاطے میں مظاہرہ کرنے والے پچیس سرکاری ملازمین کو بھی گرفتار کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد