نیپال کے بادشاہ جمہور کی مان گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے بادشاہ نے کہا ہے کہ وہ اقتدار عوام کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں اور اپوزیشن جماعتیں جتنی جلدی ممکن ہو وزیر اعظم کے لیے کسی فرد کو نامزد کریں۔ تاہم شاہ گیانندرا نے انتخابات کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ دو ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد نیپال کے بادشاہ نے ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار عوام کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں اور اب اپوزیشن متفقہ طور پر وزارت عظمیٰ کے لیے مناسب شخص کو نامزد حزب احتلاف نے کہا ہے کہ بادشاہ کا اعلان عوامی امنگوں کی ترجمانی نہیں کرتا اور بادشاہ مخالف تحریک جاری رہے گی۔ شاہ گیانندرا جون سن دو ہزار ایک میں شاہی محل میں قتل عام کے بعد نیپال کے تخت پر بیٹھے تھے۔انہوں نے چودہ ماہ پہلے وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کو برطرف کر کے ملک کی باگ ڈور خود سنبھالی تھی۔ بادشاہ گیانندران کے اعلان سے پہلے نیپال میں امریکی سفیر نے کہا تھا کہ اگر بادشاہ نے فوراۙ سیاسی مراعات کا اعلان نہ کیا تو نیپال کی بادشاہت ختم ہو جائے گے۔ انڈیا نے بھی نیپال میں اپنا ایلچی بھیجا تھا جس نے شاہ گیانندرا سے بات چیت کے بعد کہا تھا کہ شاہ گیانندرا جلد کوئی اعلان کریں گے۔ جمعہ کو بھی شہر میں کرفیو کے باوجود ہزاروں مظاہرین نے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا اور اس پولیس چوکی کو آگ لگا دی جہاں جعمرات کے روز تین بادشاہ مخالف مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف ’سکیورٹی فورسز کے ارکان کی جانب سے طاقت کے مہلک استعمال‘ کی مذمت کی ہے۔
جمہوریت حامی مظاہرین پر بائیں بازوں کے ماؤنواز باغی اثر انداز ہیں اور حکومت ان پر مظاہروں میں ماؤنواز باغیوں پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز کٹھمنڈو کے رِنگ روڈ پر مظاہروں کے لیے نکل آئیں۔ دارالحکومت کٹھمنڈو کی سڑکیں گزشتہ دو ہفتوں سے سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد کی جانب سے مظاہروں اور قومی ہڑتال کی گرفت میں رہی ہیں۔ جمعرات کو تین افراد کی ہلاکتیں اس وقت پیش آئیں جب ’دیکھتے ہی گولی مارکر ہلاک کردینے‘ کا حکم نافذ تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات سے قبل دو ہفتوں کے مظاہروں میں دس افراد پہلے ہی ہلاک ہوچکے ہیں۔ کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے ملک کے بادشاہ کے خلاف بڑے پیمانے پر غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ شاہ گیانندرا نے دوہزار ایک میں غیرمعمولی حالات میں ملک کا باگ ڈور سنبھالا تھا جب اس وقت کے بادشاہ سمیت ان کے تمام اہم رشتہ دار محل میں مارے گئےتھے۔ نیپال کمیونسٹ پارٹی (یونائیٹیڈ مارکسٹ لیننسٹ) کے ایک رہنماشنکر پوکھرل کا کہنا تھاکہ ’اگر اس دیش میں جمہوری حکومت ہوتی تواب تک جنتا کی آواز اس تک پہنچ جاتی لیکن یہ سرکار چونکہ ایک تانا شاہ سرکار ہے اس لیے وہ اس آواز کو ان سنا کر رہی ہے۔‘ نیپالی کانگریس پارٹی کے رہنما نوین راج جوشی نے کہا ہے کہ ’سبھی جماعتوں کا اب صرف ایک ہی نصب العین ہے اور وہ ہے جمہوریت کا قیام، اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘ انہوں نے کہا’عوام یہ چاہتے ہیں کہ اب ایک ایسا جمہوری نظام قائم ہوجسے کوئی ہلا نہ سکے۔‘ |
اسی بارے میں نیپال: کرفیو ٹوٹ گیا، تین ہلاک20 April, 2006 | آس پاس دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم19 April, 2006 | آس پاس نیپال میں کرفیو نافذ، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس نیپال: مظاہرے جاری، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو: خوراک اور تیل کمی16 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس سیاستدان مدد کریں: شاہ گیانندرا13 April, 2006 | آس پاس پولیس اور نیپالی مظاہرین کی جھڑپیں09 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||