نیپال: کرفیو ٹوٹ گیا، تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں کرفیو کی پروا نہ کرتے ہوئے ایک لاکھ کے قریب مظاہرین شہر کے اطراف میں جمع ہیں اور کئی مقامات پر کرفیو توڑ دیا گیا ہے اور عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں بھی چلائی ہیں جس سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ جمعرات کو اپوزیشن جماعتوں کی کال پر ایک بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا جسے روکنے کے لیے حکومت نے شہر میں اٹھارہ گھنٹے کا کرفیو لگا دیا تھا اور فوج کو کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بعض جگہوں پر مظاہرین کے خلاف آنسوگیس استعمال کی گئی ہے اور بڑی تعداد میں مظاہرین سکیورٹی رکاوٹوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں۔ بھگتہ پور میں بھی سینکڑوں مظاہرین نے کرفیو توڑ دیا ہے جبکہ نیپال میں آئےخصوصی انڈین ایلچی کرن سنگھ شاہ گیانندرا سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ بظاہر حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے کچھ مراعات کا تقاضہ کریں گے۔ اس سے پہلے حکام نے کرفیو میں کسی طرح کی نرمی کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو’دیکھتے ہی گولی ماردی جائے گی‘۔ یہ کرفیو بدھ اورجمعرات کی شب دوبجے سے نافذ ہوگیا۔
دو ہفتے سے جاری شاہ مخالف مظاہروں میں اب تک دس افراد ہلاک ہوچـکے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ’محل کی طرف مارچ‘ کا سیاسی جماعتوں کا یہ پروگرام کتنا کامیاب ہوگا لیکن اتنا ضرورہے کہ کرفیو کے نفاذ اور سخت اقدامات سے عوام میں شاہ مخالف جذبات کو اور زیادہ ہوا مل سکتی ہے۔ نیپال کمیونسٹ پارٹی (یونائیٹیڈ مارکسٹ لیننسٹ) کے ایک رہنماشنکر پوکھرل کا کہنا تھاکہ ’اگر اس دیش میں جمہوری حکومت ہوتی تواب تک جنتا کی آواز اس تک پہنچ جاتی لیکن یہ سرکار چونکہ ایک تانا شاہ سرکار ہے اس لیے وہ اس آواز کو ان سنا کر رہی ہے‘۔ نیپالی کانگریس پارٹی کے رہنما نوین راج جوشی نے کہا ہے کہ ’سبھی جماعتوں کا اب صرف ایک ہی نصب العین ہے اوروہ ہے جمہوریت کا قیام، اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن اسے روکا نہیں جا سکتا‘۔ انہوں نے کہا’عوام یہ چاہتے ہیں کہ اب ایک ایسا جمہوری نظام قائم ہوجسے کوئی ہلا نہ سکے‘۔ شاہ سے بات چیت کے لیے ہندوستان کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر کرن سنگھ بھی یہاں دارالحکومت کٹھمنڈو میں موجود ہیں۔
مظاہرین نیپال کے بادشاہ شاہد گیانندرا سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اقتدار سے دستبردار ہوجائیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغی مظاہرین کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں اور تشدد بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دریں اثناء حکومت نے اپوزیشن کے ان دو سینئرہنماؤں کو رہا کر دیا ہے جنہیں تین ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ بدھ کو کیورٹی فورسز نے پوکھرا کے قصبے میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شاہ کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے والے ڈھائی سو کے قریب اساتذہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ |
اسی بارے میں نیپال: کرفیو برقرار مگر ہڑتال جاری10 April, 2006 | آس پاس سیاستدان مدد کریں: شاہ گیانندرا13 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد14 April, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو: خوراک اور تیل کمی16 April, 2006 | آس پاس نیپال: ’معصوم‘ قیدیوں کی حالتِ زار19 April, 2006 | آس پاس نیپال: مظاہرے جاری، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس نیپال میں کرفیو نافذ، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||