جمعہ کو ریلی، پھر کرفیو نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کٹھمنڈو میں جمعہ کے روز بڑے پیمانے پر عوامی ریلی کی اپیل کی ہے تاکہ شاہ گیانندرا پر اقتدار سے دستبردار ہونے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ دو ہفتوں سے جاری رہنے والی ان کی ہڑتال غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گی۔ اپوزیشن کے اس فیصلے کے بعد نیپال کی حکومت نے دارالحکومت کٹھمنڈو میں جمعہ کو دن بھر کے لیے پھر سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے جمعرات کو مظاہرین پر فائرنگ کی جو کرفیو کی خلاف ورزی میں سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ پولیس کی اس فائرنگ میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف ’سکیورٹی فورسز کے ارکان کی جانب سے طاقت کے مہلک استعمال‘ کی مذمت کی ہے۔
جمہوریت حامی مظاہرین پر بائیں بازوں کے ماؤنواز باغی اثر انداز ہیں اور حکومت ان پر مظاہروں میں ماؤنواز باغیوں پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز کٹھمنڈو کے رِنگ روڈ پر مظاہروں کے لیے نکل آئیں۔ دارالحکومت کٹھمنڈو کی سڑکیں گزشتہ دو ہفتوں سے سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد کی جانب سے مظاہروں اور قومی ہڑتال کی گرفت میں رہی ہیں۔ جمعرات کو تین افراد کی ہلاکتیں اس وقت پیش آئیں جب ’دیکھتے ہی گولی مارکر ہلاک کردینے‘ کا حکم نافذ تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات سے قبل دو ہفتوں کے مظاہروں میں دس افراد پہلے ہی ہلاک ہوچکے ہیں۔
کٹھمنڈو میں جمعہ کے روز کرفیو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سے شروع ہوگا اور شام کے آٹھ بجے تک جاری رہے گا۔ لیکن اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کی ہڑتال غیرمعینہ مدت تک چلتی رہے گی۔ ایک اندازے کے مطابق نیپالی دارالحکومت میں ہونے والے مظاہروں میں ایک لاکھ سے زائد افراد شرکت کرتے رہے ہیں۔ کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے ملک کے بادشاہ کے خلاف بڑے پیمانے پر غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ شاہ گیانندرا نے دوہزار ایک میں غیرمعمولی حالات میں ملک کا باگ ڈور سنبھالا تھا جب اس وقت کے بادشاہ سمیت ان کے تمام اہم رشتہ دار محل میں مارے گئےتھے۔ نیپال کمیونسٹ پارٹی (یونائیٹیڈ مارکسٹ لیننسٹ) کے ایک رہنماشنکر پوکھرل کا کہنا تھاکہ ’اگر اس دیش میں جمہوری حکومت ہوتی تواب تک جنتا کی آواز اس تک پہنچ جاتی لیکن یہ سرکار چونکہ ایک تانا شاہ سرکار ہے اس لیے وہ اس آواز کو ان سنا کر رہی ہے۔‘ نیپالی کانگریس پارٹی کے رہنما نوین راج جوشی نے کہا ہے کہ ’سبھی جماعتوں کا اب صرف ایک ہی نصب العین ہے اور وہ ہے جمہوریت کا قیام، اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘ انہوں نے کہا’عوام یہ چاہتے ہیں کہ اب ایک ایسا جمہوری نظام قائم ہوجسے کوئی ہلا نہ سکے۔‘ |
اسی بارے میں نیپال: کرفیو ٹوٹ گیا، تین ہلاک20 April, 2006 | آس پاس دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم19 April, 2006 | آس پاس نیپال میں کرفیو نافذ، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس نیپال: مظاہرے جاری، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو: خوراک اور تیل کمی16 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس سیاستدان مدد کریں: شاہ گیانندرا13 April, 2006 | آس پاس پولیس اور نیپالی مظاہرین کی جھڑپیں09 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||