BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 April, 2006, 02:40 GMT 07:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمعہ کو ریلی، پھر کرفیو نافذ
مظاہروں میں اب تک تیرہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں
نیپال میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کٹھمنڈو میں جمعہ کے روز بڑے پیمانے پر عوامی ریلی کی اپیل کی ہے تاکہ شاہ گیانندرا پر اقتدار سے دستبردار ہونے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ دو ہفتوں سے جاری رہنے والی ان کی ہڑتال غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گی۔

اپوزیشن کے اس فیصلے کے بعد نیپال کی حکومت نے دارالحکومت کٹھمنڈو میں جمعہ کو دن بھر کے لیے پھر سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے جمعرات کو مظاہرین پر فائرنگ کی جو کرفیو کی خلاف ورزی میں سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ پولیس کی اس فائرنگ میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف ’سکیورٹی فورسز کے ارکان کی جانب سے طاقت کے مہلک استعمال‘ کی مذمت کی ہے۔

بادشاہت سے سیاسی پہل کی امید
 بہت جلد ہی شاہ گیانندرا ایک اعلان کریں گے جس سے حالات کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔
بھارتی ایلچی کرن سنگھ
نیپال کے بادشاہ شاہ گیانندرا نے فروری 2005 میں منتخب شدہ حکومت کو برطرف کرکے ملک کا باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ شاہ گیانندرا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ حکومت ملک میں ماؤنواز باغیوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی تھی۔

جمہوریت حامی مظاہرین پر بائیں بازوں کے ماؤنواز باغی اثر انداز ہیں اور حکومت ان پر مظاہروں میں ماؤنواز باغیوں پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز کٹھمنڈو کے رِنگ روڈ پر مظاہروں کے لیے نکل آئیں۔

دارالحکومت کٹھمنڈو کی سڑکیں گزشتہ دو ہفتوں سے سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد کی جانب سے مظاہروں اور قومی ہڑتال کی گرفت میں رہی ہیں۔ جمعرات کو تین افراد کی ہلاکتیں اس وقت پیش آئیں جب ’دیکھتے ہی گولی مارکر ہلاک کردینے‘ کا حکم نافذ تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات سے قبل دو ہفتوں کے مظاہروں میں دس افراد پہلے ہی ہلاک ہوچکے ہیں۔

کرن سنگھ، خصوصی ایلچی
ہندوستان کے خصوصی ایلچی کرن سنگھ نے نیپال کے بادشاہ سے ملاقات کی ہے اور ان سے ملک میں فوری طور پر کثیرالجماعتی جمہوریت کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کرن سنگھ نے، جو شاہ گیانندر کے رشتہ دار بھی ہیں، اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ جمعرات کی شام نئی دہلی پہنچنے پر کرن سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بہت جلد ہی شاہ گیانندرا ایک اعلان کریں گے جس سے حالات کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

کٹھمنڈو میں جمعہ کے روز کرفیو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سے شروع ہوگا اور شام کے آٹھ بجے تک جاری رہے گا۔ لیکن اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کی ہڑتال غیرمعینہ مدت تک چلتی رہے گی۔ ایک اندازے کے مطابق نیپالی دارالحکومت میں ہونے والے مظاہروں میں ایک لاکھ سے زائد افراد شرکت کرتے رہے ہیں۔

کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے ملک کے بادشاہ کے خلاف بڑے پیمانے پر غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ شاہ گیانندرا نے دوہزار ایک میں غیرمعمولی حالات میں ملک کا باگ ڈور سنبھالا تھا جب اس وقت کے بادشاہ سمیت ان کے تمام اہم رشتہ دار محل میں مارے گئےتھے۔

نیپال کمیونسٹ پارٹی (یونائیٹیڈ مارکسٹ لیننسٹ) کے ایک رہنماشنکر پوکھرل کا کہنا تھاکہ ’اگر اس دیش میں جمہوری حکومت ہوتی تواب تک جنتا کی آواز اس تک پہنچ جاتی لیکن یہ سرکار چونکہ ایک تانا شاہ سرکار ہے اس لیے وہ اس آواز کو ان سنا کر رہی ہے۔‘

نیپالی کانگریس پارٹی کے رہنما نوین راج جوشی نے کہا ہے کہ ’سبھی جماعتوں کا اب صرف ایک ہی نصب العین ہے اور وہ ہے جمہوریت کا قیام، اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘ انہوں نے کہا’عوام یہ چاہتے ہیں کہ اب ایک ایسا جمہوری نظام ‍ قائم ہوجسے کوئی ہلا نہ سکے۔‘

بادشاہ نہیں، جمہور
کھٹمنڈومظاہرے: بی بی سی کےنامہ نگارنےدیکھا؟
نیپال میں مظاہرے
گیانیندراقتدار کی رساکشی
نیپال کی شاہی تاریخ پر ایک نظر
نیپال کے فوجیامریکہ کو خدشہ
’نیپال دہشتگردوں کی پناہ گاہ نہ بننے پائے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد