نیپال: ’تحریک عوام کے ہاتھ میں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں جمہوریت حامی عوامی تحریک اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا اتحاد شاہ گیانندرا کی پیشکش پر ہفتے کے روز ایک میٹنگ کے بعد باضابطہ بیان جاری کرے گا۔ لیکن اپنے ابتدائی ردعمل میں ہی یہ جماعتیں شاہ کی پیشکش کو مسترد کرچکی ہیں۔ اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شاہ کے اعلان سے تحریک کے مقاصد پورے نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ نیپالی کانگریس (ڈیموکریٹک) کے ترجمان ڈاکٹر منندر رزال کا کہنا تھا کہ ’جب شاہ نے یہ کہا کہ وہ اقتدار عوام کو سونپ رہے ہیں تو ان کو اپنی بات وہیں ختم کر دینی چاہيئے تھی۔‘ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا نصب العین اپنے درمیان سے ایک وزیراعظم چننا نہیں ہے۔ نیپال سدبھاؤنا پارٹی کے رہنما راجندر مہتو نے کہا کا شاہ کی پیشکش سے یہ تاثرملتا ہے کہ جیسے سیاسی جماعتیں اقتدار کی بھوکی ہیں ۔ ’ہم وزارت عظمی کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں ۔ ہم ایک آئین ساز اسمبلی سے کم کسی پیشکش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔‘ نیپالی کانگریس کا کہنا تھا کہ شاہ نے سیاسی اتحاد کے مطالبات کو پورا نہیں کیا۔ کمیونسٹ رہنماؤں نے بھی شاہ کی پیشکش کو مسترد کیا ہے۔ ادھر عوامی تحریک کے ایک کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے پیشکش قبول بھی کر لی تو بھی وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ’عوام کا رہنما کون ہوگا اب اس کا فیصلہ خود عوام کریں گے۔‘ گزشتہ دو دنوں میں کرفیو اور دیکھتے ہی گولی مارنے کے حکم کے باوجود لاکھوں لوگوں نے جمہوریت کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔ عوام کی زبردست شرکت سے فوج بھی نروس نظر آرہی تھی۔ کئی مقامات پرمسلح فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ دارالحکومت میں جس مقام پر گزشتہ روز تین مظاہرین پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے عوامی تحریک نے اس مقام کا نام بدل کر ’لوک تانترک چوک‘ ( جمہوریت چوک) رکھ دیاہے۔ عوام کے حوصلے بلند ہیں۔ شاہ گیانندرا کی پیشکش کو وہ عوام کی طاقت کا نتیجہ مانتے ہیں۔ وہ اب صرف جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ ایک ایسے نظام کے متمنی ہیں جس میں شاہ کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ عوامی موڈ کے پیش نظرسیاسی جماعتوں کے لیے یہ انتہائی مشکل ہے کہ وہ محل سے کوئی مفاہمت کر سکیں۔ یہ تحریک اب عوام کے ہاتھ میں ہے اور اس کی سمت شاہ گیانندرا اور سیاسی اتحاد دونوں کے لیے ہفتے کے روزبہت حد تک واضح ہوسکتی ہے۔ نیپال کی تاریخ میں آج کا دن بہت اہم ہے۔ |
اسی بارے میں نیپال میں کرفیو نافذ، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم19 April, 2006 | آس پاس نیپال: کرفیو ٹوٹ گیا، تین ہلاک20 April, 2006 | آس پاس ’بادشاہت نہیں، جمہوریت چاہیے‘20 April, 2006 | آس پاس نیپال کے بادشاہ جمہور کی مان گئے21 April, 2006 | آس پاس جمعہ کو ریلی، پھر کرفیو نافذ21 April, 2006 | آس پاس نیپال کے مظاہرین کی ہلاکتیں21 April, 2006 | آس پاس مظاہرے جاری رہیں گے: نیپالی اپوزیشن22 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||