زلزلے نے سولین قوت کو بیدار کردیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتوبر کی آٹھ تاریخ کو آنے والے زلزلے کے بعد پاکستانی قوم نےایک ایسے جذبے کا مظاہرہ کیا ہے جو 1965 کی جنگ کے بعد نہیں دیکھا گیا۔ عام لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں متاثرین کی امداد کی ہے جس میں مالی عطیات جمع کرنا اور ٹرکوں کے ذرعے سامان کشمیر بھیجنا شامل ہے۔ عوام کے اس طرح متحد ہونے کے یقیناّ گہرے سیاسی اثرات مرتب ہونگے اور صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کوشائد سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔ حکومت کے ردعمل پر کافی تنقید ہوئی ہے جبکہ نجی کوششوں کو سراہاگیا ہے۔ زلزلے کے چند ہی گھنٹے بعد ڈاکٹروں نے کراچی اور لاہور سے جا کرمتاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کرلۓ۔ زیادہ تر ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں ملازم ہیں اوروہ صرف وزیر اعظم شوکت عزیز کی خاص اجازت کے بعد متاثرہ علاقے جا سکے۔ ملک کے ہر کونے سے عام لوگوں نے امدادی سامان بھیجا جبکہ دوسری طرف لوگوں نے مستقل بحالی کی کوششوں کیلیے مالی عطیات دیئے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں نے بھی پیسے اور امدادی سامان بھیجا ہے جبکہ باہر سے پاکستانی ڈاکٹر اب تک کیمپوں میں کام کرنے کیلیے واپس ملک آرہے ہیں۔ تاہم واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے رکاوٹیں پیدا کی ہیں، سفارت خانے نے نہ تو رقوم جمع کرنے میں کوئی مدد کی اور نہ ہی ڈاکٹروں کےلیے سفر آسان بنانے میں۔
اس کے علاوہ پی آئی اے کو صرف وہ امداد بھیجنے کی اجازت دی گئی جو صدارتی ریلیف فنڈ کو دیا جائےگا۔ اس کے مقابلے میں لندن کےسفارت خانے کا رویہ بہت بہتر رہا۔ اس نے ہر قسم کے امدادی سامان بھیجنے میں مدد فراہم کی۔ اب تک صدارتی ریلیف فنڈ کو دس کروڑ ڈالر دیے گئے ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی کوششوں کے نتیجے میں اس کے مقابلے میں دس گنا زائد عطیات جمع ہوئے ہیں۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ عطیات کا مکمل حساب رکھا جائے گا تاہم اب تک اس دعوے کو یقینی بنانے کیلیے غیر جانبدار کمیشن قائم نہیں کیاگیا۔ لہذا عام لوگ حکومتی فنڈ میں رقم دینے سے گریز ہیں۔ زلزلے کے ایک ہفتے بعد بین الاقوامی ادارہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو سب سے زیادہ بدعنوان ممالک میں شمار کیا۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا کم از کم ڈھائی فیصد حصہ ہر سال زکوۃ میں دیں۔ لیکن پاکستانیوں نے اس سے بہت زیادہ رقوم دی ہیں۔ آغا خان فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمان ممالک میں سب سے زیادہ خیرات پاکستانی عوام دیتے ہیں۔ اب تک فوج نے اس جذبے سی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ جتنا زیادہ عوام متحرک ہورہے ہیں اتنا ہی زیادہ فوج کے کردار پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ نئے جی ایچ کیو کے منصونے اور مہنگے ہتھیار خرید نے پرتنقید سب سے زیادہ ہو رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے جنرل مشرف نے امریکہ سے ساڑھے چار ارب ڈالر کے ایف16 جہاز خرید نے کا پروگرام فی الحال ملتوی کردیا ہے تاہم سویڈن سے ایک ارب ڈالر کے خرچ سے چھ جہاز خریدےگۓ ہیں۔ |
اسی بارے میں ’وعدے ٹھیک پر پیسے کہاں ہیں‘27 October, 2005 | پاکستان زلزلہ اور عید: کون کیا سوچتا ہے؟ 04 November, 2005 | Debate زلزلہ: شوکت عزیز کے ساتھ ٹاکنگ پوائنٹ07 November, 2005 | Debate یہ ایک مہینہ08 November, 2005 | پاکستان محمد نذیر بول نہیں سکتا10 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان مظاہرین پر لاٹھی چارج11 November, 2005 | پاکستان کیا تعمیرِ نو کا مرحلہ شروع ہو پائے گا؟11 November, 2005 | Debate زلزلہ: سولہ ہزار تعلیمی ادارے متاثر14 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||