پاکستان میں تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے تین ہفتے بعد چار نومبر کو پاکستان بھر میں عید منائی جارہی ہے۔ اس موقعہ پر ہمارے مختلف قارئین نے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ جہاں دنیا بھر اور پاکستان سے کئی قارئین اس عید کو زلزلے کے متاثرین کے لئے نہیں منانا چاہتے اور ابھی تک آگے بڑھ چڑھ کر امدادی کاموں میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہاں کئی قارئین نے اس رائے کا اظہار بھی کیا ہے کہ زلزلے پر بہت بات ہوچکی۔ آپ کی اس پر کیا رائے ہے؟ آپ نے چاند رات پر کیا کیا؟ کیا آپ عید منارہے ہیں؟ آپ کی عید کیسی گزری؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
طارق رفیق، خانیوال، پاکستان: سچ بتاؤں تو یارو عید پر ایک عجیب ہی اداسی تھی دل پر۔ خدا کے خوف کا بہت احساس ہوا۔ دعا ہے اللہ سے کہ سب لوگ جو اس زلزلے میں وفات پا گئے ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین۔جہانگیر احمد، راولپنڈی، پاکستان: جیسا کہ بہت سے بہن بھائیوں نے اس عید کو زلزلے سے متاثرہ ہم وطنوں کی وجہ سے نہیں منایا، اسی طرح ہم نے بھی اس عید کو عید سمجھ کے نہیں منایا۔ ہم نے اس بار دوستوں کو عید کارڈ نہیں بھیجے، فون اور ایس ایم ایس بھی نہیں کئے۔ ہم نے اس بار ایس ایم ایس موبی لنک عید فنڈ میں کئے۔ نصیر عباسی، اسلام آباد، پاکستان: زندگی کے گزرے ماہ و سال کی بے شمار عیدیں دوست احباب کے ساتھ گزاریں ہیں لیکن اس بار پہلی دفعہ گاؤں سے دور نیم خوش دلانہ عید تھی۔ ایک شعر ہے، بچھڑے ہوؤں کی یاد میں آنکھیں اداس ہیں اے صبحِ عید گھر کو سجاؤں کس طرح آصف قریشی، ٹنڈو محمد خان، پاکستان : عید اس مرتبہ غم کا سامان لائی تھی کیونکہ زلزلے نے عید کو ماتم میں بدل دیا تھا۔ لوگ مر رہے ہوں اور ہم خوشیاں منائیں یہ کس طرح ممکن ہے۔ میں تو اس عید پر دل کھول کر رویا ہوں کیونکہ اتنے بڑے سانحے کے بعد عید کیا مناتا۔ میں نے اس بار عید نہیں منائی۔ ضیاء شاہ، پاکستان: عید خوش ہو کر منائی، خوب خوش ہو کر، کیونکہ اس رمضان کے بعد مسجد میں نمازیوں کی تعداد تو ویسے بھی گھٹ رہی ہے، فجر اور جمعے کا فرق وہی ہے، ایسے میں اگر تھوڑے سے زلزلے آ گئے تو کیا ہوا؟ خیر ہے۔ ہم نے ڈوبنا تو ہے ہی، تو کیوں نہ یہ چار دن کی زندگی ہنس بول کے گزار لیں۔ اللہ سب پر رحم کرے۔ عمیر ثانی، کراچی، پاکستان: یہ زلزلہ جن کی آزمائش تھا، اللہ ان کو ثابت قدم رکھے، جن کے لیے شہادت کی نعمت تھا، اللہ ان کے رشتہ داروں کو صبر دے، اور جن کے لیے عذاب تھا، ان کے بارے میں سوچتے ہوئے دل گھبراتا ہے۔ بس اللہ رحم کرے۔ شاہدہ اکرم، عرب امارات: عید آ کر جا چکی ہے لیکن دل چاہ رہا ہے کہ پھر بھی کچھ لکھوں۔ عید کا لغوی مطلب ہی خوشی ہے لیکن جب دل ہی اداس ہو تو کیسی خوشی، کیسی عید؟ جب ایک مسلمان تکلیف میں تو دوسرا مسلمان بھائی ویسی ہی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ یہی حال اس وقت ہم سب کا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس عظیم سانحے سے سنبھلنے کی ہمت دے۔ ایک موت ہو جائے تو سارا خاندان اس کے سوگ میں رہتا ہے اور یہاں تو اموات کی تعداد کا سوچ کر ہی دل پھٹ جانے کو ہے۔ شیخ محمد یحیٰ ، کراچی: آٹھ اکتوبر سے بیس اکتوبر تک امداد کا سلسلہ ہر فورم پر موجود رہا۔ لیکن بیس اکتوبر سے یہ سلسلہ ختم ہوتے ہوتے عید کے دو دن پہلے تک بہت کم رہ گیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا میڈیا ہے۔ بی بی سی اردو اور پاکستان ٹیلی ویژن کے علاوہ تمام میڈیا سے زلزلے سے تباہی کی اہمیت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ عطیہ عارف، کینیڈا: عید کے دن کوئی لمحہ ایسا نہیں آیا جب پاکستان نہ یاد آیا ہو۔ دل بہت پریشان اور دکھی ہے۔ سعدیہ سلام، دلی، انڈیا: گھر کے گرنے کا غم تو ہوتا ہی ہے لیکن اس کے ملبے پر تو نہیں سویا جا سکتا۔ بہتر ہے کہ اب ساری توجہ آبادکاری کی طرف دی جائے تا کہ جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں ان کی زندگی کو اس عذاب سے نجات مل جائے جو بے شک ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ارسلان رشید، گوجرانوالہ: ہمیں ایک دوسرے کو عید مبارک نہیں کہنا چاہیے کیونکہ ہمارے پاکستانی بھائی مر رہے ہیں۔ تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنی عیدی متاثرین کو دیں۔ صداقت رسول گوندل، اونٹاریو، کینیڈا: ایک تو پردیس میں اپنوں سے دوری کا دکھ ہوتا ہے اور اوپر سے اتنا بڑا سانحہ۔ اس عالم میں کوئی کیسے عید کر سکتا ہے۔ جب دل خون کے آنسو رو رہا ہو تو ہماری تو دعا ہے کہ خدا ان لوگوں کو صبر دے جو اس آفت میں متاثر ہوئے ہیں۔ مہر افشاں ترمذی، الجبیل، سعودی عرب: یہ کہنا بے حسی کی انتہا ہے کہ زلزلے پر بہت بات ہو چکی۔ اللہ نہ کرے ایسی سوچ رکھنے والوں کو ایسی آزمائش سے گزرنا پڑے اور انہیں پتا چلے کہ بات بہت ہوئی ہے یا نہیں۔ کریم خان، ایڈمنٹن، کینیڈا: آج جب میں عید کی نماز کے لیے گیا تو مسجد میں نوٹس بورڈ پر لکھا تھا’ہدف 45000 ڈالر، ابھی تک موصول ہونے والی رقم 31200 ڈالر ہے‘۔ دو دن بچے ہیں اور اب بھی 13800 ڈالر کم ہیں۔ یہ پڑھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکا۔ سوچتا رہا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے کتنے لوگوں کی زندگی اجڑ گئی۔ مصطفٰے قریشی، کیلیفورنیا، امریکہ: کیونکہ میں اپنے پچانوے فیصد رشتہ داروں سے دور ہوں جہاں عید کا مشکل سے ہی پتا چلتا ہے مگر عید کارڈ بھیج کر عید کا مزا مل جاتا ہے۔ لیکن اس دفعہ تو عید کارڈ بھیجنے کو بھی دل نہیں کیا۔ اللہ ہماری مشکلات میں آسانی پیدا کرے۔ باقی دنیا سے اپیل ہے کہ امداد دیں اور ہم کو صرف انسان سمجھیں، پاکستانی اور مسلمان سمجھ کر منہ نہ موڑیں۔ جاوید اقبال، برسلز، بلجیم: کشمیر کی تاریخ کےسب سے بڑے زلزلے کو اتنی جلدی بھول جاتا آسان نہیں اسی لیے لوگوں نے عید سادگی سے منائی ہے۔ وقت گزرنے کےساتھ ساتھ دنیا داری شروع کرنی پڑے گی، اس لیے لوگوں کے حوصلے بلند کرنے ہوں گے۔ مخزن اسرار احمد، ٹورانٹو، کینیڈا: کیسی عید؟ مسلمان بھائیوں کے گھر اجڑ گئے۔ اس موقع پر دل خون کے آنسو ہی رو سکتا ہے۔ بشارت خان، برطانیہ: سمجھ میں نہیں آتا کیا لکھوں۔ یہ عید تھی یا غم کو تازہ کرنے کا ایک اور بہانا۔ سارا دن روتے گزر گیا ان سب لوگوں کے لیے جن کے بارے میں ہم بی بی سی پر پڑھ رہے ہیں۔ میرا کوئی قریبی رشتہ دار متاثر نہیں ہوا مگر اس کے باوجود عید پر نئے کپڑے نہیں پہنے، دل نہیں چاہا۔ میری سب پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ امداد کرتے رہیں۔ داؤد بٹ، سیؤل، جنوبی کوریا: عید خوشی کا موقع ہے مگر ان پاکستانی بھائیوں کو جو مصیبت درپیش ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور مالی و جانی امداد کریں۔ شریف زدران خان، فرینکفرٹ، جرمنی: عید تو ہوتی ہے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ۔ وہ نہیں رہے تو عید کیا منائیں۔ ہر عید پر جب ان کو فون کرتا تھا تو وہ مسکراتے تھے، ہنستے تھے لیکن اس بار فون کیا رو رہے تھے فریاد کر رہے تھے۔ ایسا لگا میرا کوئی نہیں بچا دنیا میں۔ افتخار احمد کشمیری، برطانیہ: عید پر فضول خرچی کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کہ ان پیسوں سے کسی کے لیے کمبل، دوآئیں یا تنبو بھی خریدا جا سکتا ہے، کسی کی جان بھی بچائی جا سکتی ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: میں نے اپنی عید پھول جیسے بچوں کے نام کی اور آٹھ اکتوبر کو شہید ہو جانے والوں کے لیے بہت دعائیں کیں۔ میں ان کو کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ فیصل چانڈیو، حید آباد: عید تو عید ہوتی ہے۔ ہم اس کی خوشی میں کمی تو کر سکتے ہیں ختم نہیں کر سکتے۔ سادگی کی عید سب سے اچھی بات ہے اور اُن لوگوں کے ساتھ عید منائیں جو آپ کا ساتھ چاہتے ہیں۔ رسول اکرم (صلعم) کی شخصیات سے بڑی کوئی شخصیت نہیں۔ ہم ان کی وفات کے بعد بھی تو عید منا رہے ہیں۔ قیصر، نامعلوم: معصوم بچوں کی تصویریں دیکھ کر دکھ تو بہت ہوتا ہے مگر کچھ کیا بھی تو نہیں جا سکتا۔ جیو پھر سے عینی سیدہ، کراچی: عید تو خوشی کا نام ہے۔ کون لوگ ہوں گے جنہوں نے اس دکھ کے لمحے میں چاند رات یا خریدار وغیرہ کی ہو گی۔ دل کا دکھ چہرے پر سے عیاں ہونا سچائی کی علامت ہے، اس میں شرمندگی کیسی؟ آج قوم دکھی ہے اور اس کو ہونا بھی چاہیے۔ سید شاہ شفیق پرویز، اٹک، پاکستان: تباہی بربادی اور معصوم بچے ٹیلیوژن پر دیکھ کر عید کیسی؟ ویسے تو عید کے معنے خوشی کے ہیں، میں اسے دکھی عید کا نام دوں گا آصف محمود، لاہور، پاکستان: عید مبارک بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی پوری ٹیم۔ دل تو میرا اداس ہے ناصر شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے اس وقت حال یہ ہے کہ سارے شہر بلکہ سارے ملک کا دل اداس ہے۔ سمجھ نہیں آتی یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے پر معصوم بچے خواتین اور کم گناہ گار لوگ اس کا شکار ہوئے۔ میں چاند رات اور عید ہر بہت اداس رہا ہوں۔ عید کی نماز جہاں پڑھی انہوں نے لاؤڈ سپیکر ہی نہیں چلایا۔ اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ کے لئے گیا وہاں بھی زلزلہ میں مرنے والے یاد آتے تھے۔ براہِ کرم ہمارا ساتھ دیتے رہیں شائد آپ کی وجہ سے عالمی ضمیر کو کوئی خلش ہو جائے۔ ظفر حسین، فیصل آباد، پاکستان: آج جب میں نمازِ عید کے بعد مسجد سے نکلا تو جماعتِ اسلامی کا ایک کارکن رو رو کر لوگوں سے زلزلہ زدگان کی مدد کی اپیل کر رہا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بی بی سی اردو پر ایک متاثرہ بزرگ کی تصویر دیکھ کر سارا دن سوگواری میں گزرا۔ خدا ہمیں اس آزمائش میں سرخرو کرے عباس حیدر عثمان، بھکر، پاکستان: آج پھر چڑھ کہ ستم گر کی چادر پر عید کا چاند غریبوں کو رلانے نکلا نجف علی شاہ، بھکر، پاکستان: عید تو خوشیوں کی نوید ہوتی ہے مگر یہ عید اشکوں کا خزانہ لائی ۔ عید کی خریداری کا سوچتے تھے تو معصوم بچوں کی آہیں اور سسکیاں سماعتوں میں سیسہ گھولتی تھیں۔ طارق محمود، سرگودھا، پاکستان: پاکستانی قوم بھی ایک عجیب قوم ہے کوئی پتا نہیں کس وقت اس کا مذاج بدل جائے۔ زلزلے کے بعد اس قوم کا ایک نیا روپ دیکھ کر بندے کی کوشش تھی کہ وہ زلزلہ زدگان کے لئے بڑھ چڑھ کر امداد کرے، لیکن کل چاند رات کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ 20 دن پہلے اس قوم پر کیا گزری۔ بازار بھرے پڑے تھے، ہر کوئی عید کی شاپنگ کر رہا تھا، ایک عجیب سی خوشی تھی، 5 فیصد لوگ ایسے تھے جو زلزلہ زدگان کے لئے کچھ کر رہے تھے ورنہ باقی تو اس قیامت کو بھول گئے۔ واہ پاکستانی قوم تیرا بھی جواب نہیں۔ اشتیاق احمد، ابوظہبی، متحدہ عرب امارات: عید کا مطلب ہے کہ ہم اسلامی قانون کے مطابق رمضان گزار کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ خوشی صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم نے اپنا فرض صحیح طریقے سے نبھایا۔ یہ بھی سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کی ہر طرح سے مدد کریں۔ دعا کے ساتھ ان کی مدد کریں۔ میں چاند رات پر بھی ایسے دوستوں سے ملا جو عبادت کے ذریعے عید منا رہے تھے۔ بے روزگار بابا، جرمنی: دل اداس ہے ان لوگوں کے لیے جو اس زلزلہ میں مرگئے ہیں، زخمی ہیں ، بے گھر ہو گئے ہیں۔ عید تو پھر آ جائے گی اگر زندگی رہی۔ اللہ کرے پھر ایسی آفت نہ آئے ہمارے ملک پر۔ میری کوئی عید نہیں، میں ان بہن بھائیوں دوستوں کے غم میں شریک ہوں حامد علی، عمان: میرا تعلق آزاد کشمیر باغ سے ہے۔ یہ زلزلہ ہمارے خاندان کے 23 لوگ لے گیا اور باقی بری طرح زخمی ہیں۔ زخم خراب ہو جانے کی وجہ سے کسی کا بازو کٹ گیا اور کسی کی ٹانگ۔ ان کی عید تو کیا پوری زندگی خراب ہو گئی۔ مسقط آنے سے پہلے میں باغ میں سپرنگ فیلڈ سکول میں پڑھا رہا تھا۔ میرے شاگرد جو میرے واپس جا کر ان کو پڑھانے کا انتظار کر رہے تھے، ان میں سے زیادہ تر اب انتظار نہیں کر سکتے۔ عید کا پورا دن میں نے رو کر گزارا۔ میں ان سب کو کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ میری عید تبھی ہوگی جب میرے لوگ دوبارہ آباد ہوں گے۔ یاسر نوید، آزاد کشمیر، پاکستان: ویسے بھی عید کا دن صرف اور صرف اونچے طبقے کے لیے ہے، اس طبقے کے لوگوں کو صرف اور صرف بہانہ چاہیے ہوتا ہے پیسے خرچ کرنے کا۔ نچلے طبقے کی نہ پہلے عید تھی اور نہ اس بار ہوئی۔ چاند رات گزری اور پھر عید کا دن گزرا ہمیں تو کچھ بھی پتا نہیں چلا پرویز بلوچ، بحرین: عید کی نماز پڑھ کر بعد میں رشتہ داروں سے ملنے گیا، سوچتا ہوں کہ ان زلزلہ زدگان کی عید کیسی ہوگی جن کے نہ رشتہ دار ہیں اور نہ گھر۔ اللہ تعٰالی ان سب کو صبر اور ہمت دے، ہم سب اس دکھ اور غم میں آپ کے ساتھ شریک ہیں۔ آپ لوگوں کی ذرا سی مسکراہٹ ہی ہماری عید ہے |