زلزلہ: شوکت عزیز کے ساتھ ٹاکنگ پوائنٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے بعد جہاں بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے وہاں امدادی کارروائیوں میں تاخیر، سرکاری ردِعمل اور منصوبہ بندی میں کنفیوژن، بیرونی امداد کی کمی اور اس طرح کے دیگر مسائل نے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ کیا حکومتِ پاکستان کو زلزلے سے آنے والی تباہی کا بروقت اندازہ ہوگیا تھا؟ آخر زلزلے کی تباہی سے متعلق مختلف سرکاری ذرائع سے آنے والے بیانات متضاد کیوں تھے؟ کیا عالمی برادری کو بروقت مدد کے لیے پکارا گیا؟ بھارتی امداد اور ایل او سی کو کھولنے جیسی سفارتی کوششوں میں پاکستانی حکومت کا کردار کیسا رہا؟ زلزلے کے متاثرین، امدادی کارکن اور ہمارے قارئین نے منگل آٹھ نومبر کو بی بی سی اردو کے پروگرام سیر بین کے خصوصی ٹاکنگ پوائنٹ میں پاکستانی وزیرِ اعظم شوکت عزیز سے اس موضوع پر سوالات پوچھے۔ یہ پروگرام پاکستانی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے اور گرینج کے معیاری وقت کے مطابق تین بجے سہ پہر نشر کیا گیا۔ |
اسی بارے میں لائن آف کنٹرول کھولنے کا فیصلہ30 October, 2005 | Debate اقوامِ متحدہ کی تنبیہہ28 October, 2005 | Debate زلزلہ اور ذرائع ابلاغ کا کرادر25 October, 2005 | Debate کیا عالمی برادری وقت پر کام آئی؟ 24 October, 2005 | Debate بدنظمی، معاشرے کی عکاس؟ 22 October, 2005 | Debate متاثرین کن حالات میں رہ رہے ہیں؟17 October, 2005 | Debate ایل او سی میں نرمی کی ضرورت؟16 October, 2005 | Debate شدید زلزلہ، ہزاروں ہلاک و زخمی08 October, 2005 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||