ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو پانچ مقامات پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زلزلے کے متاثرین کی مدد کی جاسکے اور متاثرین اپنے رشتہ دارں سے مل سکیں۔ اس فیصلے پر سات نومبر سے عمل شروع ہوجائے گا۔ ابتدائی طور پر ان کشمیری خاندانوں کو لائن آف کنٹرول کے پار جانے کی اجازت ہوگی جن کے رشتہ دار دوسری جانب ہیں۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ چونکہ سڑکیں یا ہیں نہیں یا ٹوٹ گئی ہیں لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیری کنٹرول لائن پر سڑک کو پیدل ہی پار کریں گے۔ کشمیریوں کے آنے جانے کے کاغذات اسی طریقۂ کار پر بنائے جائیں گے جس پر مظفرآباد-سری نگر بس سروس کا اجراء ہوا تھا۔ البتہ یہ کوشش کی جائے گی کہ اس عمل میں تاخیر نہ ہو اور بیوروکریٹک رکاوٹیں خلل نہ ڈالیں۔ اس سمجھوتے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ انتیس اکتوبر کو ہونے والے اس سمجھوتے کا برصغیر پر کیا اثر پڑے گا؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200
اویس اعوان،ڈیرہ اسمٰعیل خان پاکستان: میں آج الائی اور مانسہرہ کی تحصیل ڈاڈر کے گاؤں نواز آباد، گندا مچہ، اور جابوڑی میں امدادی کام سے آیا ہوں، میرے خیال میں اگر یورپ کی تمام این جی اوز کام کریں تو بھی کام سست رہے گا۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں رستے سے صرف مقامی آبادی واقف ہے۔ این جی اوز ایک جگہ خیمہ بستی بنانا چاہتے ہیں اور یہ بات پٹھان ثقافت اور غیرت کے خلاف ہے۔ وہ لوگ ختم ہو سکتے ہیں لیکن غیر آدمی کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اگر عوام کو ان کے گھروں میں امداد نہ دی گئی تو وہ قبول نہیں کریں گے۔آصف محمود: لاہور:پاکستان: واہ کیا بات ہے وزیرِاعظم پاکستان کی جو یہ اعتماد ظاھر کرتے ہیں کہ زلزلہ ذدگان کی کافی امداد ہو رہی ہے۔ حکومت کے ملازمین فوجی تو ڈیوٹی کے پابند ہیں ہی بہت زیادہ رضاکار، ایدھی ٹرسٹ اور درجنوں این جی اوز بھی امداد کر رہی ہیں، بہتر ہوتا کہ اقوامِ عالم کی سست روی کی نشاندہی کی جاتی، اور یہ کام کنٹرول لائن کے نرم ہونے سے جتنا جلدی ہو اتنا بہتر ہے لوگ بغیرچھت کے آنے والی قیامت خیز سردی کا شکار ہو سکتے ہیں شبانہ، امریکہ: ہم دوسرے لوگوں سے مدد کیوں مانگ رہے ہیں؟ خالد محمود، اسلام آباد، کشمیر: صدر صاحب آپ تو اچھے فوجی بھی نہیں ہیں کیونکہ فوجی ہمیشہ اپنے اسلحے پر بھروسہ کرتا ہے۔ ذرا سوچئے اگر اس حالت میں بھارت ہم پر حملہ کر دے تو آپ ہمارا دفاع کیسے کریں گے؟ : مینا سحر، بھکر: لائن آف کنٹرول کھلنے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ اور مسائل پیدا ہوجائیں۔ آصف ججہ، ٹورانٹو: وہ کب تک انڈیا اور پاکستان کے رحم و کرم پر رہیں گے؟ اٹھاون سالوں کے بعد صرف پانچ مقامات پر لاک کھولنے کا فیصلہ۔ یہ دونوں ممالک غریب کشمیروں کے قاتل ہیں۔ امریکہ جمہوری کشمیر کو آزاد کرنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے؟ انہیں وہاں جانا چاہئے اور دونوں ملکوں سے اسے آزاد کرانا چاہئے۔ دونوں ممالک دنیا کے سامنے ایک کھیل کھیل رہے ہیں، دونوں رنگ باز ہیں، وہ اس مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ جواد یونس، لاہور: دیر آید، درست آید۔ اللہ کرے ان فیصلوں کے پس منظر میں اخلاقی رواداری ہو، نہ کہ سیاسی مفادات۔ ساجل احمد، امریکہ: اچھی بات ہے اگر یہ امداد کرنے کے لئے کھلی جارہی ہے، نہیں تو کل پرسوں تک الزام شروع ہوجائیں گے انڈیا کی طرف سے کہ پاکستانی گھس پیٹھیا انڈیا اور کشمیر مںی گھس آئے ہیں۔ ویسے صرف ایک دوسرے کے رشتہ داروں کو ہی پرمیسن ملنی چاہئے آنے جانے کے لئے، اس فیصلے کا کچھ اثر نہیں پڑےگا، نفرتوں کو ختم ہونے کے لئے بہت وقت چاہئے ہوتا ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے مگر اس طرح کے فیصلے کرنے سے پہلے اے پی سی بلانی چاہئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس سے پاکستان کی سالمیت کو خطرہ درپیش ہو جائے، لیکن اگر اس فیصلے کو دونوں ملکوں کے لوگوں نے اگر مثبت لیے تو یہ بہت فائدہ مند ہوگا۔ راجہ مصطفیٰ خان، آزاد کشمیر: جب کچھ رہا ہی نہیں باق تو انڈیا اور پاکستان نے بارڈر کھول دیا۔ یہ کشمیروں پر کوئی مہربانی نہیں ہے۔ یہ تو قدرت کی وجہ سے ہوا ہے۔ انڈیا اور پاکستان نے ہمیشہ اپنے مفاد کی بات کی، کبھی بھی کشمیریوں کے غم کو حقیقت میں نہیں لیا۔ اس دفعہ بھی صرف دنیا کو دکھانے کے لئے کچھ اپنے آپ دکھا رہے ہیں۔۔۔۔ شہزاد احمد، جاکھر، پاکستان: حال ہی میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے دورے کی طرح یہ بھی ایک بےکار اقدام ثابت ہوگا۔ اس بار کی طرح اس وقت بھی سب کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ تاریخ ساز ہوگا۔ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے۔ طاہر چودھری، جاپان: امریکہ کے حکم پر لائن آف کنٹرول کھولنے کا فیصلہ بظاہر تو بہت اچھی بات ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ڈبل بی یعنی بش اور بلیئر کمپنی اس سے کیا فائدہ اٹھاتی ہے۔ نیر خان، ٹیکساس: میرا نام نیر خان ہے، میں پاکستانی مقبضہ کشمیر سے ہوں۔ میری فیملی پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے چار سو یارڈز کے قریب رہ رہی ہے۔ کشمیر میں زلزلے کے بعد سے بی بی سی کو یہ میرا تیسرا پیغام ہے، لیکن مجھے دکھ ہے کہ بی بی سی کا اپنا ہی سیاسی ایجنڈا ہے کیوں کہ میرا کوئی بھی پیغام شائع نہیں ہوسکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تنازعۂ کشمیر پر اپنا غیرجانبدارانہ رویہ بنائے رکھتے ہوئے بی بی سی کشمیر کے مسئلے کو دنیا کو سمجھانے میں اپنا کردار جاری رکھے گی۔ یہ مثبت بات ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں نے پانچ مقامات پر لاک کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ کافی تاخیر سے ہورہا ہے۔ زلزلے کے متاثرین فوری امداد کی امید کررہے تھے، اور میں سجھتا ہوں کہ لاک کو مکمل طور پر ختم کردینا ہی بہتر ہوگا کیوں کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے، اور لاک مقبوضہ طاقتوں نے بنایا تھا۔ میں انڈیا اور پاکستان کو مشورہ دوں گا کہ اپنی افواج وہاں سے واپس ہٹائیں۔ اور کشمیری قوم کو موقع ملے کہ وہ جمہوری، سیکولر اور پروگریسیو راستہ اختیار کرے۔ یہ سب کچھ پرامن طریقے سے ہوسکتا ہے۔ زبیدہ خاتون، کشمیری، یو کے: پرویز مشرف کو چاہئے کہ ذرا مولویں کو پٹہ ڈالیں، یہ لوگ امن قائم ہونے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ محمد اعظم ضیا، پونچ: ایل و سی کھولنے کا فیصلہ اچھا قدم ہے لیکن کچھ قوانین کے تحت پار کرنے کی اجازت نہ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ جو بھی چاہتا ہے ادھر جانا اسے اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ تمام لائن آف کنٹرول کشمیریوں کے لئے فری ہونی چاہئے، اور انڈین اور پاکستانی فوجیوں کی تعداد محدود ہونی چاہئے۔ میرے خیال میں صرف ان ہی لوگوں کو اجازت نہیں ہونی چاہئے سرحد پار جانے کی جن کے رشتہ دار اس پار ہیں، بلکہ تمام کشمیریوں کو اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ نجف علی شاہ، بھکر: لاک کھلنے سے ایک تو دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہوں گے، دوسرا ایک دوجے سے کشمیری خاندان مدت بعد مل کر خوش ہوں گے، اس سے زیادہ اور نیکی اور کیا ہوسکتی ہے؟ رضوان سعید، لاہور: میرے خیال میں یہ ایک اچھا قدم ہے جس سےعرصۂ دراز سے بچھڑے ہپوئے لوگوں کو ملنے کا موقع ملے گا۔ لیکن یہ بہت لیٹ ہورہا ہے کیوں کہ بہت سے لوگ موت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ بہرحال یہ ایک اچھا قدم ہے لیکن پاکستانی حکومت کو بہت خیال رکھنا ہوگا کہ غلط لوگ پاکستانی ایریا میں نہ آجائیں۔ پاکستانی گورنمنٹ کو بڑی احتیاط برتنی ہوگی۔ خالد سلیم، لاہور: مجھے ڈر ہے کہ دونوں ملکوں کی سیاست کی وجہ سے اچھی شروعات بےکار ہوجائے گی۔ آصف محمود میاں، لاہور: بہت خوشی کی بات ہے۔ میں سوچتا ہوں یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔ خدا کرکے کے پاکستان اور انڈیا کے بارڈر بھی مزید ایسے ہوجائیں، لوگوں میں پیار بڑھے، نفرتیں کم ہوتی جائیں گیں، تو بےشمار مواقع ملیں گے ترقی کے۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی: دونوں ممالک کی طرف سے لائن آف کنٹرول کھولنے کا فیصلہ لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر کشمیر کے مسئلہ کا حل ہونا ہے تو یو این او کی قرارداد کے مطابق ہونا ہے۔ عاطف، خوش آْب: اگرچہ دیر ہوئی ہے مگر اچھا فیصلہ ہے۔ کنٹرول لائن ضرور کھلنا چاہئے۔ عبدالسلام، تیمرگارا: وقتی طور پر اس سے کشمیری لوگ خوش ہوں گے، مگر یہ کشمیر پر ہندوستان کا ناجائز قبضہ تسلیم کرنے والی بات ہوگئی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کو کشمیری لوگوں کی مدد سے کوئی لینا دینا نہیں، بس صرف اور صرف اپنی گندی سیاست چمکانی ہے۔ امداد علی شاہ، بوکیرہ شریف: لاک تو صرف یہ ظاہر کرنے کے لئے تھی کہ ایک طرف کا کشمیر جنتِ نظیر ہے اور دوسری طرف کا کشمیر جہنم نظیر۔ لیکن زلزلے کے بعد تو دونوں کشمیر جہنم نظیر بن گئے ہیں، تو اب لاک کی ضرورت ہی کیا؟ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: بہت دیر کی مہربان آتے آتے، میری رائے سے کیا ہوا جو کچھ بھی کرنا ہے پہلے ہی اس میں بہت دیر ہوچکی ہے۔ خدارا جو کچھ بچے کھچے رہ گئے ہیں ان کی آتی جاتی سانسوں کو تھوڑی سی آس دے دیں۔ وہ آنکھیں جو اپنے پیاروں کو دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں ان کو سیراب ہونے دیں۔۔۔۔ جاوید اقبال کشمیری، بیجنگ: پاکستان اور انڈیا کو کشمیریوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ دونوں ممالک کشمیر کی مکمل آزادی کو خودمختاری کی تحریک کو ختم کر لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنانے کی سازش کررہے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ کشمیریوں کی مدد کے پردے میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا معاہدہ بھی ایس سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے کشمیری کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ زلزلے کے وقت جب کشمیری ایک دوسرے کی مدد کرسکتے تھے، جس سے ہزاروں جانیں بچ سکتی تھیں تو انڈیا اور پاکستان کی افواج بندوقیں تانے کشمیریوں کو آرپار جانے سے روکے بیٹھی تھیں اور جب سب کچھ ختم ہوگیا تو دنیا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے لائن آف کنٹرول عارضی طور پر پانچ مقامات پر سے کھولنے کا جو اعلان کیا گیا ہے اس سے کشمیریوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ فرید بھٹو، شیکاگو: خدا کا شکر ہے کہ آخر دونوں ملکوں نے عام کشمیری لوگوں کی مشکل کو سمجھا، اور پہلی بار سیاست سے اوپر اٹھ کر فیصلہ کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سرحد کھولنے سے زلزلہ زدگان کی تکالیف اور غم کم نہیں ہوں گے۔ ملنے پر ان کے رشتہ دار انکے غم میں شریک ہوں گے۔ غلام مجتبیٰ، پاکستان: میرے خیال میں لائن آف کنٹرول کھولنے سے دونوں ملکوں کے درمیان سی بی ایم بڑھیں گے اور تنازعہ کشمیر کا حل ہوگا، نوے فیصد لوگ اس فیصلے سے اتفاق کریں گے۔ ایم شیر، بریمپٹن، کینیڈا: یہ بہت بڑا فیصلہ ہے، ہم دوسرے مسائل میں بھی نارمل تعلقات کی جانب بڑھیں گے۔ اگرچہ انڈیا اور پاکستان کشمیری لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں اپنے فائدے کے لئے، وہ ان کے مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں معلوم ہے کہ پچاس سالوں میں دو جنگوں نے کچھ حل نہیں کیا، اس لئے حقیقت پسند ہونا چاہتے ہیں کہ اسے ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جائے۔ اگر انڈیا اور پاکستان کے لیڈر اپنے عوام سے محبت کرتے ہیں تو انہیں گیو اینڈ ٹیک کی بنیاد پر ایک حل نکالنا چاہئے۔ وصیت خان، ٹوکیو: اگر پاکستان اور انڈیا کا یہی نیک ارادہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس نیک کام میں برکت ڈالیں۔ آمین۔ ساحل خان، چین: پھر آرمی والے کیا کھائیں گے؟ اگر لائن آف کنٹرول کھل گیا اور کشمیر کا تنازعہ حل ہوگیا تو ان لوگوں کے جیب کس طرح بھریں گے؟ شاہ شفیق پرویز، اٹک: بہت دیر ہوگئی ہے۔۔۔ جاوید اقبال، برسلز: میرا تعلق کمشیر کے راولاکوٹ سے ہے۔ اب سے پہلے میں انڈیا اور پاکستانی گورنمنٹ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس وقت مشکل فیصلہ کیا ہے، گو کشمیریوں کی پرانی خواہش تھی کہ بارڈر کو ختم کیا جائے۔ لاک کو توڑنے کے لئے سب سے پہلے چناری کے مقام پر جے کے این ایس ایف نے کوشش کی تھی۔ پرویز بلوچ، بحرین: لائن آف کنٹرول پہلے کھلنا چاہئے تھا، دیر آید درست آید۔ اس سمجھوتے سے برصغیر پر اثر پڑے نہ پڑے مگر کچھ غمزدہ لوگوں کے غم ضرور ہوجائیں گے۔ شریف خان، فرینکفرٹ: اللہ کرے لائن آف کنٹرول کھل جائے اور کشمیری فیملیاں آپس میں مل جائیں۔ اس سے بڑی خوشی کی بات اور کچھ نہیں۔ توحید احمد رانا، ترکی: زلزلے میں بچے کھچے، پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بچھڑے ہوئے خاندانوں کو آپس میں ملنے کا موقع فراہم کرنے پر میں پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا۔ نئی دہلی میں ہونے والے دھماکوں کی سخت سے سخت لفظوں میں مذمت کرتا ہوں اور انشاء اللہ اس شیطانی عمل کو پاک-بھارت دوستی میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوگا۔
|