BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 10:31 GMT 15:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوامِ متحدہ کی تنبیہہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کو پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لئے ایک ماہ کے اندر اندر دو سو پچاس ملین ڈالر کی غیر ملکی نقد امداد نہ ملی تو ادارے کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اپنے آپریشن گھٹانے پڑیں گے جس میں خوراک کی فراہمی بھی شامل ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریلیف آپریشنز کے نگران جان وینڈامورٹیل نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ہمیں اگلے ماہ تک ڈھائی سو ملین ڈالر درکار ہوں گے ورنہ ہم لوگوں کو موت، بیماری اور بھوک سے بچانہیں پائیں گے۔‘

انہوں نے کہا دو روز قبل جینیوا میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لئے منعقد کی جانے والی کانفرنس میں پانچ سو اسی ملین ڈالر کا وعدہ تو کیا گیا ہے مگر اقوام متحدہ کو نقد امداد فوراً چاہئے۔

کیا آپ کی رائے میں اقوام متحدہ کو فوری طور پر یہ نقد رقم مل جائے گی؟ اور اگر نہیں ملی اور ادارے نے اپنا آپریشن گھٹا دیا، تو پھر کیا ہوگا؟ کیا بین الاقوامی برادری پاکستان کو امداد دینے کے بارے میں سنجیدہ ہے؟

آپ کی رائے

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200


کرن احمد، واٹرلو، کینیڈا:
خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ’تم خود رحم کرو تو تم پر رحم کیا جائےگا‘۔ دوسرے ممالک تو دور کی بات ہے مجھے خود اس بات کا اعتبار نہیں کہ میری دی ہوئی منی ضرورت مندوں تک پہنچ پائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ دکھی انسانیت تک تو ہڈیاں ہی شاید پہنچ پائیں، بوٹیاں تو یہ سکھی انسانیت ہی لے اڑیں گے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
مجھے نہیں امید کہ یو این او کو مقررہ امداد مل پائے گی۔ کیوں کہ اس سے پہلے سونامی، بام کے زلزلے وغیرہ میں بھی جو امداد کا وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا تھا۔ اور اب اگر خدا نخواستہ ابھی بھی وہی بات پھر دہرائی گئی تو حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، کوئی نہیں کہہ سکتا۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
جب تک پاکستانی حکمران کشکول پھیلائے امداد کی بھیک مانگتے رہیں گے پاکستان کے عوام مرتے دم تک مقروض رہیں گے۔ ہمیں جاپان سے سبق حاصل کرنا چاہئے جہاں چند سال پہلے زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد انہوں نے غیرملکی امداد قبول نہیں کی۔ یہ غیرت مند قوم کی نشانی ہے۔

ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، بدوملہی:
میں پہلے بھی کہ چکاہوں۔ خدا نخواستہ پاکستان مسلم ملک نہ ہوتا تو ممالک امداد دیتے۔ اسرائیل گروپ کا یا امریکہ گروپ کا ہوتا تو امداد مل جاتی، دنیا ظالم ہے۔

اشرف خان، پیر بابا بنیر:
اب حکومت لوگوں کو بتائے کہ ہماری پالیسیاں کامیاب ہیں دنیا میں، پاکستان کا امیج اچھا ہوگا ہے، یہ حکومت کی کامیابی ہے، اس وقت ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ کتنی کامیابی ہے ہمیں حکومت نے دنیا والوں کے لئے کیا نہیں کیا، یہاں تک کہ اپنے لوگوں کو مروایا۔ اپنی ہی فوج سے بغیر کسی ثبوت کہ جس کو بھی ان لوگوں نے مانگا ہم نے حوالے کیا، اپنے مذہب تک کو بدل ڈالا، روشن خیال اور اعتدال پسند اسلام لیکن اس کے باوجود اگر یہ ملک ہمیں اس مشکل گھڑی میں پانچ سو ملین ڈالر نہیں دےسکتے تو میرا پرویز مشرف صاحب سے التجا ہے کہ اب بھی وقت ہے یو ٹرن لے لو۔

عظیم سبحانی:
کیا اقوام متحدہ اتنی ہی بےبس اور مجبور ہے؟ اگر اقوام متحدہ بھی بے بس اور لاچار ہے تو اسے امداد نہیں ملیں گے اور لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ اس ادارے پر سے دنیا کا اعتماد ختم ہوجائے گا اور اس کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ متاثرین کی مدد کرے اور انسانیت کا احترام کرے۔

رضوان سعید، لاہور:
میرے خیال میں پاکستان کو امداد نہ ملنے کی وجہ اس کی غلط پالیسیاں ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی حکومت نے ہنگامی حالات میں کبھی بھی دانشمندانہ فیصلے نہیں کیے۔ لیکن دوسرے ملکوں کو چاہئے کہ وہ یو ان کو امداد دیں تاکہ انسانوں کو ایک اور بڑی تباہی سے بچایا جاسکے اور خود اپنے طور پر ان بےبس لوگوں کی مدد کریں۔ پاکستان کی گورنمنٹ کو خدا کے واسطے اب کچھ نہ دیں، اپنے طور پر مدد کریں یا این جی اوز کے ذریعے سے امداد کریں۔

محمد امین چودھری، نارووال:
کسی بھی حالت میں امدادی آپریشن نہیں کم کیا جانا چاہئے۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو:
جب پاکستانی خود ہی اپنی مدد کرنے کو تیار نہیں تو کسی سے توقع رکھنی فضول ہے کیوں کہ خدا اس کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتا ہے۔ پاکستانی خود چیلوں گدھوں کی طرح زلزلہ زدگان کا امدادی سامان لوٹ رہے ہیں۔

جاوید ایوب کشمیری، بیجنگ:
تمام ممالک کو وعدے کے مطابق امدادی رقم فراہم کرنی چاہئے۔ انسان کچھ ہتھیاروں پر اگر اربوں اور کھربوں ڈالر سالانہ خرچ کرسکتا ہے تو چند لاکھ انسانوں کی زندگی بچانے کے لئے امداد دینے میں ہیل و ہجت کیوں کی جارہی ہے؟ اقوام متحدہ کی جانب سے آپریشن گھٹانے کے مطلبو زلزلے سے متاثرہ لاکھوں انسانوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان کی کرپٹ حکومت کے ریکارڈ کی وجہ سے بھی شاید انٹرنیشنل کمیونیٹی امداد دینے میں ہچکچا رہی ہے۔ اور ان کے خدشات بہت حد تک درست ہیں بھی کیوں کہ ہر آدمی کوپتہ ہے کہ زلزلہ متاثرین کے نام پر ملنےوالی امداد کا بہت بڑا حصہ پاکستانی جنرل، بیوروکریٹ اور حکمرانوں کی جیبوں میں جائے گا۔

علیم اختر، گجرات:
امریکہ پر تو پہلے ہی اعتبار نہیں تھا، اس نے تو پاکستان کی مجبوری سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہے۔ اپنی آرمی کو آزاد کشمیر میں نہ جانے کے لئے داخل کردیا، پاکستانی حکومت نہیں جانتی کہ جہاں ایک دفعہ امریکہ داخل ہوجائے وہاں سے نہیں نکلتا۔ امریکہ اس سے زیادہ پاکستان کی کیا مدد کرے گا کہ اس نے اپنی سیٹلائٹ کا رخ آزاد کشمیر کی طرف موڑ دیا لیکن پاکستان کی ہیلپ کے لئے نہیں، بلکہ اسامہ کی ڈیڈ باڈی تلاش کرنے کے لئے۔

ساجل احمد، امریکہ:
یہ وقت ایسا ہے کہ کوئی بھی مدد نہیں کرے گا۔ کوئی ملک بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کرےگا۔ اس وقت میں ان سیاست دانوں کو اپنی چھ چھ لاکھ کی گاڑیاں بیچنے چاہئیں ہے جو انہوں نے باہر کے ملکوں سے ملکی خزانے سے منگوائی تھیں۔ اپنے ایک ایک ماہ کی سیلری دینے چاہئیں۔۔۔۔

ساجد شاہد، بیلفاسٹ:
بناکر فقیروں کا ہم بھیس غالب،
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں۔

کیا عالمی ضمیر مرگیا ہے؟ یہ ایک نیوکلیئر مسلم ملک میں ہوا ہے۔ اس لئے سب تماشہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

رابعہ ارشد، ناروے:
ہمیں چاہئے کہ حکومتِ پاکستان کو ایک چمچہ اور ایک پلیٹ دیکر بیٹھا دیں اور جس ملک کو جتنی بھی امداد دینی ہو وہ خود جاکر دے۔ ورنہ تو جو ضرورت مند ہیں اسی طرح امداد مانگتے مانگتے مر جائیں گے۔

طاہر خانیوال، خوانیوال:
ہمیں کسی نہ کیا امداد دینی ہے؟ دنیا سا بات کا ثبوت ہے کہ جب بھی مسلمانوں پر مشکل حالات کا وقت آیا ہے مسلم ممالک نے سب سے زیادہ مدد کی ہے کیوں کہ ہمارا ان کا ساتھ ایک ناطہ ہے، اسلام پیار مذہب کا دین ہے۔

مہر افشان ترمذی، سعودی عرب:
ہم آخر کب تک اس طرح دوسروں کے منہ دیکھتے رہیں گے؟ ہر شخص کو خود آگے بڑھ کر اپنی بساط سے بڑھ کر کرنا ہے، جو ملک میں ہیں ان کے پاس بھی لاکھوں روپئے بینکوں میں پڑے ہیں، اور جو ملک سے باہر ہیں وہ بھی لاکھوں کے مالک ہیں۔ اگر ہم اس میں سے ایک لاکھ نکال دیں گے تو ہمارے پاس کمی نہیں ہوگی، جس اللہ نے ہمیں اتنا دیا ہےوہ اور بھی دے گا، بلکہ بہت زیادہ دے گا کیوں یہ اس کا وعدہ ہے کہ تم میری راہ میں ایک خرچ کرو تو میں تمہیں دس سے ستر گنا واپس لوٹاؤں گا۔۔۔۔

انعام اللہ خان، بٹگرام:
میں نے پہلے بھی اپنی رائے سینڈ کی تھی، امید ہے کہ شائع ہوجائے گی۔ لیکن میری خواہش ہے کہ آپ کا کوئی نمائندہ ہمارے علاقے میں وِزٹ کرے۔ امید ہے کہ میری رائے کو آپ نظرانداز نہیں کریں گے۔ پتہ ہے: بانڈیگو، ضلع بٹگرام۔

نجف علی شاہ، بھکر:
یو این او کی امداد کے علاوہ اگر پاکستانی حکومت ایمانداری سے کام کرے تو تعمیر نو کا عمل خوش اسلوبی سے ہوسکتا ہے۔

اومیش ملانی، تھرپارکر:
جہاں تک میرا نقطۂ نظر ہے دنیا کے تمام ممالک مدد کریں کہ پاکستان زلزلے کی تباہی سے نمٹ سکے، انسانیت کے ناطے۔ مجھے خوشی ہے کہ یو این او نے پوری دنیا کے ممالک سے اپیل کی ہے وہ مدد کریں۔ ایک چیز واضح نہیں کہ امداد اتنے بڑے پیمانے پر ملی ہے لیکن ریلیف کی تقسیم میں بدنظمی ہے کیوں ہے۔

طاہر چودھری، جاپان:
دنیا اعتبار پر قائم ہے۔ چاہے بزنس ہو یا کوئی بھی معاملہ۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ابتدا سے اب تک اسے سیاست دان ملے، کرپٹ فوجی جرنیل ملے تو ان سے بھی کرپٹ۔ ہر حکمران نے صرف اپنی کرسی بچانے میں وقت ضائع کیے اور دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹا۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
کبھی نہیں کیوں کہ پاکستانی حکمران خود صرف اور صرف اپنی ذات سے مخلص ہیں۔ ان کا ماضی بہت تاریک ہے، اس لئے بین الاقوامی برادری کی بروقت امداد تو دور کی بات اپنے پاکستانی چاہتے ہوئے بھی امداد دیتے وقت سو بار سوچتے ہیں کہ کیا ہماری یہ امداد مستحقین تک پہنچے گی۔۔۔۔

پاکستانی، کینیڈا:
میں صرف یہ کہوں گا کہ جب تک یہ کمینے سیاسی لوگ ہیں، ہمارے پاکستانی دنیا میں ذلیل ہوتے رہیں گے۔ پاکستانی مررہے ہیں اور یہ وزیر اور صدر صرف ہنس ہنس کر فوٹو کھینچوا رہے ہیں اور دنیا سے بھیک مانگنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ جتنی گندی فوج اب پاکستان کی ہے شاید پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوئی۔ یہ فوج صرف عیاشی کرسکتی ہے اور اپنے بےگناہ لوگوں پر حملہ کرسکتی ہے اور سِول لوگوں کی نوکری پر قبضہ کرسکتی ہے اور اس کے علاوے کچھ نہیں کرسکتی ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جب ایران کے سٹی بام میں زلزلہ آیا تھا تو وہاں بھی بڑے وعدے کیے گئے تھے۔ مگر امداد نہ مل سکی۔ یہاں بھی یہی صورتحال ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اتنی بڑی رقم یو این او اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوجائےگا۔

ارشد احمد، لاہوٹی، پشاور:
ایسے ہی موقعوں پر یو این کے اثرانداز ہونے کی طاقت کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر بڑی طاقتیں اسی یو این کو تباہی کے سرٹیفیکٹ کے طور پر استعمال کرکے ملکوں پر حملے تو کیا جاسکتے ہیں۔ مگر کسی انسانی جان کو بچانے کے لئے ان کے پاس کوئی لازمی اختیارات نہیں ہے جسے استعمال کرکے امیر ملکوں کو پابند کیا جاسکے، کہ یو این او اپنے ہی ایجنڈا پر عمل درآمد کرنے کے لئے اسری دنیا تعاون کرے۔

ابو سہیل، اسلام آباد:
دراصل یہ ممالک امریکہ، یو کے اور دوسرے یا انسانیت کی بربادی کے لئے یا اپنی بھلائی کے لئے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ دکھی انسانیت کی بھلائی کے لئے نہیں۔ یہ اقوام متحدہ کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

احسان شاہ، ڈیرہ اسماعیل خان:
یہ تو ویسے بھی امریکہ کے لئے ہے، اس کے مفادات ہوں تب ہی یہ کام کرتی ہے۔ ابھی اسی کو دیکھ لیں کہ ایران نے اسرائیل کے لئے کہا تو بات یہ کہ دنیا میں ایران وار کی دھمکی دی جارہی ہے۔ مگر امریکہ جو ایک ایک کا نام لیکر حملے کررہا ہے وہ یو این او کے چارٹر میں ہے جہاں تک پاکستان میں اس کی ہیلپ ہے تو ہو بھی کچھ بھی نہیں ہے، کل میں نے جماعت الدعویٰ کے اخبار میں دیکھا کہ جو ہیلپ بھی ہوئی ہے وہ مسلم کنٹری نے بہت زیادہ کی ہے اور غیرمسلم نے کوئی خاص ہیلپ نہیں کی۔ امریکہ کے افغانستان میں کوئی دو سو کلومیٹر ہیں۔ مگر کیا دیا؟

انجم ملک، جرمنی:
اللہ بھلا کرے بی بی سی والوں کا۔ بی بی سی زلزلہ زدگان کو جتنی کوریج دے رہا ہے اتنی کوئی پاکستانی اخبار نہیں دےرہا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے کرکٹ ٹیم کو بلا لیا ہے، قوم کے ساتھ مزاق کرنے والے ہیں۔ لوگ غم غلط کریں گے یا بھول جائیں گے۔ کیا یہ میچ اتنے ضروری تھے؟ کوئی بھی اس بارے میں نہیں لکھتا۔ شاید پاکستانیوں میں انسانی بےحسی عام انسانوں سے زیادہ ہے۔

راجہ مصطفیٰ خان، میرپور:
اس موقع پر میں صرف یہ کہوں گا کہ اس سے پہلے اقوام متحدہ نے کشمیر کے بارے میں کون سا کردار ادا کیا ہے کہ اب کرے گی؟ جب بھی کشمیر کا لفظ آتا ہے تو اقوام متحدہ خاموش ہوجاتی ہے۔ کشمیر کے اندر تو ہم کو انڈیا مارتا ہے۔۔۔۔ (واضح نہیں)

ریاض فاروقی، دبئی:
کون کتنی امداد کرے اور کب تک کرے۔ اب تو حکومت پاکستان کو اپنی واضح پالیسی کا اعلان کردینا چاہئے تھا کہ وہ کرنا کیا چاہتی ہے زلزلہ زدگان کے ساتھ۔ حکومتِ پاکستان تو ایک دم لاتعلق ہوگئی ہے۔ یو این کو یہ مسئلہ پکڑا دیا ہے، جو امداد براہ راست حکومت کو ملی ہے اس کا کیا ہوا، کچھ نہیں معلوم ہے۔

فواد احمد محمد زئی، لاہور:
پاکستانی حکومت اور فوج کی جانب سے مناسب امداد نہیں مل رہی۔ پاکستانی گورنمنٹ کو شرم آنی چاہئے۔۔۔۔

عزیز، رگبی، یوکے:
اگر امداد نہیں ملی تو پھر وہی ہوگا جو ابھی ہورہا ہے۔ بہت سارے علاقوں میں ابھی تک امداد کی رسائی مشکل ہورہی ہے اور جیسے جیسے سردیاں قریب تر ہوجائیں گی، امدادی کاموں کا جاری رہنا زیادہ مشکل ہوجائے گا۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد:
میں اسلامی ملکوں اور چین کو سلام کرتی ہوں جنہوں نے پاکستانی مسلمانوں کا دکھ اپنا دکھ محسوس کرتے ہوئے عملی طور پر اپنا حق ادا کردیا۔ رہی بات بین الاقوامی برادری کی تو عرض کرتی چلوں کہ اگر پاکستانی حکمران دہشت گردی کے نام پر یہ مدد طلب کرتے یا خاندانی منصوبہ بندی کی مد میں، تو پلک جھپکنے میں یہ ڈھائی سو ملین ڈالر کا سنگ میل اب تک بین الاقوامی برادری پورا کرچکی ہوتی۔ بین الاقوامی برادری کا موٹو مسلمانوں کی زندگیوں کو دوام بخشنا نہیں بلکہ ان کو چن چن کر تلف کرنا ہے۔ اس لئے روشن خیال پاکستانی حاکموں کی اب آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔

نامعلوم، کراچی:
جی نہیں، یہ ہمارے اپنے کرتوتوں کا پھل ہے۔ سارے عالم میں پاکستان کا نام دہشت گرد ملک کی حیثیت سے ہے اور ہمارے بہادر مجاہدوں نے باہر جاجاکر ایسے گل کھلائیں ہیں اور اوپر سے اسلام اور پاکستان دشمن جھوٹا میڈیا سب نے ملکر پاکستان کی یہ حالت بنائی ہے کہ کوئی ملک دل سے مدد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اب پاکستانیوں کو اپنی مدد آپ کرنی ہوگی۔ یو این صرف رسم نبھا رہا ہے تاکہ وہ کہہ سکے کل کو کہ وہ عالمی ذمہ داریاں پاکستان کے لئے نبھا چکا۔ اگر امریکہ میں ایسا ہوتا تو اقوام متحدہ کی دولت لگ جاتی۔

نصیر عباسی، اسلام آباد:
میں اس بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہوں۔ امداد اللہ کی طرف سے آئے گی۔ ہمت مرداں مرد خدا۔

محمد عظیم عالم خان، لاہور:
یہ غلط ہے کہنا کہ آرمی اچھا کام نہیں کرتی۔ میں نے باغ اور بالاکوٹ میں الخدمت ٹرسٹ کے ساتھ ایک ہفتے گزارے۔ میں نے دیکھا کہ آرمی نے وہ کیا جو وہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو بچانے کی تمام کوششیں کی، ایسی حالت میں جب کام کرنا مشکل تھا۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ شہر پہاڑوں پر ہیں، وہاں عام دنوں میں پہنچا بھی آسان نہیں اور زلزلے کی وجہ سے سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں۔ وہاں عالمی امداد کی ضرورت ہے۔

شاہ شفیق پرویز، اٹک:
بہت مشکل ہے وقت پر امداد یو این او کے مطابق ملنا چاہئے۔۔۔۔

جواد یونس، لاہور:
عجب تماشہ ہے، ہم چلا رہے ہیں، واویلا کررہے ہیں، لیکن ہماری فریاد، آہیں اور سسکیاں سب رائیگاں جارہی ہیں۔ کوئی سننے والا نہیں، درد کا درماں نہیں، میں محترم مشرف صاحب سے کہنا چاہوں گا کہ جناب صدر یہ آپ ہی کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ صدر بش کے ایک فون پر آپ نے ان کی افواج کی راہ میں آنکھیں بچھادیں۔ اور آج جبکہ پوری پاکستانی قوم درد سے کراہ رہی ہے انہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، ساری دنیا کے سامنے فریاد کرتے ہوئے اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم ہی جھوٹے ہیں۔ جناب صدر میرا خیال یہ ہے کہ اب اپنی امیدوں کا ماتم منا ہی لیجئے تو اچھا ہے۔۔۔۔۔

عامر، بنوں:
توبہ کا وقت ہے سارے مسلمانوں کے لئے۔ اب بھی وقت ہے۔

ریاض احمد، بیجنگ:
میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے ناطے بچ جانے والے کشمیریوں کو اس ناپاک فوج کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ اس فوج کا کام صرف صرف انسانوں کی جان لینا اور حکومت پر قبضہ کرنا ہے، انسانوں کی جان بچانا نہیں۔۔۔۔

کہکشاں، کینیڈا:
ہم ایجنسیوں اور اپنی حکومت پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ میں سو فیصد یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ تمام امداد حکومت کو جائے گی، ضرورت مندوں کو نہیں۔

ندیم احمد، ٹوکیو:
آخر ہم لوگ کب تک بھیک مانتے رہیں گے؟ ہماری یہ حالت صرف اس لئے ہے کہ ہم اپنی آباء و اجداد کو بھول گئے ہیں۔ یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا تھا۔ اور بقول علامہ اقبال:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

شاہزیب خان، ایتھنز:
مشرف صاحب تو کہہ رہے تھے کہ خزانے بھر گئے ہیں۔ پھر آج کیوں دنیا کے سامنے ہم لوگ بھیک مانگ رہے ہیں؟ مصیبت کی اس گھڑی میں ایٹم بم کام نہیں آئے گا؟ وہ لوگ کہتے تھے کشمیر ہمارا ہے، آج اس کشمیر میں رہنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں تو مقبوضہ کشمیر کو لیکر کیا کرنا ہے؟ یو این آپریشن کیسے بڑھے، اب جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے۔ سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ کیا حقدار کو حق مل رہا ہے؟ بی بی سی والوں کے فوٹو سے تو اندازہ ہوتا ہے جیسے ان لوگوں کا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔

کبیر خان احمدزئی، کابل:
یہ اچھا موقع ہے کشمیری لوگوں کے لئے فنڈ دینے کا۔ یہ ایک ایشو ہے جو گورنمنٹ آف پاکستان نہیں چاہتی، کشمیری لوگوں کی مدد کرنا ضروری ہے۔

محمد عمران صادق، راولپنڈی:
یہ دنیا کا نسلی تعصب ہے، اگر قطرینہ طوفان کے لئے دنیا ایک دن میں ایک ہزار ہیلی کاپٹر دے سکتی ہے تو پاکستان کے لئے کیوں نہیں؟ مشرف اور فوج کو برا کہنے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ یہ سلوک مسلمان ہونے کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔ ورنہ اگر پانچ سو ہیلی کاپٹر بھی کچھ دن کے لئے ان لوگوں کی مدد کے لئے پاکستان کو دے دیتے تو کیا مشرف نے ان میں بھی کرپشن کر دینے تھے۔

جمیل مقصود، بیلجیم
ہماری شدید خواہش ہے کہ اقوامِ متحدہ دور دراز علاقوں میں اپنا آپریشن تیز کرے۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ حکومتِ پاکستان کو پیسے دینے کی بجائے اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کو دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ این جی اوز اور یو این بھوک سے مرتے ہوئے کشمیری لوگوں کی مدد کریں۔

تنویر کاظمی، واہ کینٹ، پاکستان:
دنیا میں اکثر یہ ہوتا ہے امداد کے وعدے تو ہوتے ہیں لیکن امداد ندارد۔ خود پاکستان میں کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے تصویریں تو بہت بنوائی ہیں لیکن عملی کام کوئی نہیں۔ آج ہم یہ سوال بھی کرناچاہیں گے کہ دو دو کروڑ کی گاڑیوں میں گھومنے والے وزیر اور جرنیل اگر سستی گاڑی میں سفر کر لیں اور اس پیسے سے مشینیں اور کرینیں خریدی جاتیں تو آج یہ حال نہ ہوتا۔ خود فوج کے پاس اتنے ہیلی کاپٹر نہیں۔ 55 سال سے یہ لوگ جھک مار رہے ہیں۔ میں نے باغ میں 12 ، 13 اور 14 اکتوبر گزارا، یہ ضلعی شہر ہے لیکن پورے شہر میں ایک کرین یا بلڈوزر نہیں تھا۔ بچے، لڑکے اور لڑکیاں چھتوں کے نیچے آخری سانسیں لے رہے تھے لیکن کوئی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس صورت حال میں باہر کی دنیا کیا کرے گی؟ ہماری طرح وہ بھی سوچتی ہوگی کہ کیا یہ امداد بھی وزیروں اور جرنیلوں کے گھروں میں جائے گی؟

چاند بٹ، جرمنی
جس طرح پاکستان میں حکومت ہے اور حکمت کا نام نہیں اسی طرح زلزلہ زدگان سے ہمدردی ہے مگر امداد موجود نہیں۔ بین الاقوامی برادری اب پاکستان کی کسی بھی اپیل کو سنجیدہ نہیں لے رہی حالانکہ اب تو ایک قدرتی آفت نے تباہی مچائی ہے، مگر دنیا میں جس طرح پاکستان کی عوام کو اور مصیبت زدہ لوگوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ اپنی خدمت کرنے والی حکومت پر کوئی بھی اعتماد نہیں کرتا۔ یہ حکومت کی ناکامی اور پاکستانی مصیبت زدگان کی بد قسمتی بھی ہے۔ لیکن جو لوگ کہتے ہیں کہ آپریشن گھٹانا پڑے گا ان کو نہیں بھولنا چاہیے کہ خزانہ بھرا ہوا ہے اور 12 ارب ڈالر آپس میں بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ وہ پاکستان کے عوام کی ہی دولت ہے اور فوراً پاکستان کے عوام پر خرچ کی جانی چاہئے۔ اس سے نازک موقع اور کیا ہو گا؟ پاکستان کے عوام کو نظر انداز کرنا مجرمانہ حرکت ہو گی۔

خواجہ کبیر، بیلجیم
انسانیت کے ناتے، انسانیت کو بچانے کے لئے پوری دنیا کو چاہئے کہ فوری طور پر کشمیری قوم کی مدد کریں۔ جہاں تک ہو سکے اپنی ٹیموں کے ذریعے وہاں امدادی کام کروائیں، چونکہ حکومتِ پاکستان مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ فوج غریبوں کے لئے کچھ بھی تو نہ کر سکی اگر یہ فوجِ ظفر موج کوشش کرتی تو کئی ہزار انسانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ یہ تو تین دن تک صرف مارگلہ ٹاور کو ہی روتے رہے۔ دوسری طرف یہ ایک بہت بڑا سبق بھی ہے کشمیری قوم کے لئے۔ شائد اس ناگہانی تباہی سے سنبھلنے کے بعد کشمیری قوم جو اب تک ہزاروں جانیں قربان کر چکی ہے ہوش میں آ جائے۔ اقوامِ متحدہ اپنی نگرانی میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی امداد کرے اقوامِ متحدہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لے تو ہو سکتا ہے دنیا کے اکثر ممالک جعلی امداد کے اعلان کو یقینی بنا دیں۔ چونکہ دنیا پاکستان کے سیاست دانوں اور فوجی حکمرانوں کو اچھی طرح جانتی ہے، اور دنیا کو یہ پتا ہے کہ انکی کی ہوئی امداد صرف فوج پر خرچ ہوگی نہ کہ تباہ حال انسانوں پر۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66آپ نے کیا دیکھا؟
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال ہمیں لکھ بھیجیے
66زلزلے کے بعد
اگر آپ مدد کرنا چاہیں۔۔۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد