BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلے اور دفاعی بجٹ
صدر جنرل پرویز مشرف
صدر جنرل پرویز مشرف
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے دفاعی بجٹ میں کمی نہیں کر سکتے۔ راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر نے کہا کہ دفاعی بجٹ اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ان کو ایک ہی تناظر میں دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں کمی کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں سوچا ہے کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنا ملک کی سلامتی کی صورتحال کے لیے مناسب نہیں ہو گا۔

دفاعی بجٹ کم نہ کرنے کے حکومت کے فیصلے پر آپ کیا ردعمل ہے؟

آپ کی رائے

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200

عبدالوہاب، کراچی، سندھ، پاکستان:
آج تک جتنے فیصلے مشرف نے کیے ہیں، وہ سب ان کے اپنے فیصلے تھے۔ اسی طرح آگے ہوتا رہے گا۔ پارلیمان، عدالت، میڈیا بھی ان کے سامنے کھلونے ہیں۔ میرے خیال میں فوجی بجٹ کا کوئی فائدہ پاکستانی قوم کو آج تک نہیں ملا۔

احمد، کراچی، پاکستان:
یہ تو بےحسی ہے فوج کی۔ اللہ ان کو ہدایت دے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
فوج کا سربراہ ہونے کے ناطے مشرف کو زیادہ معلوم ہے کہ فوج کی کیا ضروریات ہیں۔ اس لیے یہ فیصلہ اچھا ہے۔

محمد عمران صادق، راولپنڈی، پاکستان:
فوج دی موج۔

سید انوار الحق شاہ، ہری پر، پاکستان:
اب تو مشرف صاحب کو استعفی دے دینا چاہیے کیونکہ وہ ملک اور قوم کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ افغانستان، کشمیر اور بلوچستان کی حالت خراب ہے۔ لوگ مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر صدر صاحب کہتے ہیں کہ ملک کی اقتصادی پوزیشن مضبوط ہے۔

جواد یونس، لاہور، پاکستان:
جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، ورنہ نہیں، مجھے ان سے شدید اختلف ہے۔ پاکستانی ہی نہ زندہ رہے تو ملک کا کیا فائدہ؟ گھر اور ملک انسانوں سے بنتے ہیں نہ کہ انسان گھروں اور ملکوں سے۔ میرے خیال کو دفاعی بجٹ کو صرف زلزلے کے لیے ہی نہیں مستقل طور پر کم ہونا چاہیے۔

نسیم ترین، بلوچستان، پاکستان:
پاکستانی حکمرانوں نے کبھی غریب عوام کے بارے میں نہیں سوچا ہے۔ ان کو ہمیشہ اپنے مفادات اور فوج کے مفادات عزیز ہیں۔ انڈیا کے ساتھ کشیدگی بھی اسی لیے بنائی گئی کہ دفاعی بجٹ بڑھایا جا ئے۔

وسیع اللہ بھامبھرو، سندھ، پاکستان:
یہ صرف سیاست چمکا رہے ہیں۔

سیدہ، کراچی، پاکستان:
مشرف صاحب سے کیا اچھی امید کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی فوجی سے آپ کیا امید کر سکتے ہیں۔

اشتیاق احمد، لاہور، پاکستان:
پاکستان اور کشمیر کے عوام کو اس وقت بہت بڑی مصیبت کا سامنا ہے۔ ہزاروں، لاکھوں لوگ بے گھر اور زندہ رہنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ حکومت نے نہ تو پہلے کوئی خاص قدم اٹھائے اور اب متاثرین کی مدد کی بجائے اپنے بجٹ میں کمی تک نہیں کر رہے۔

عباس علی لغاری، سندھ، پاکستان:
بیرون مملک سے جو اعلانات کیے گئے ہیں وہ پورے نہیں کیے گئے ہیں، نہ تو مطلوبہ امداد ملی ہے اور نہ اس کی امید نظر آتی ہے۔ زلزلے کی تباہی اس سے کئی زیادہ ہے، جتنی بتائی گئی یا نظر آ رہی ہے۔ اس میں پاکستانی حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ اب بھی وقت ہے کہ سردی آنے سے پہلے پہلے ان کی مدد کی جائے نہیں تو بہت سی زندگیاں موت کے منہ میں چلی جائیں گی۔

جاوید اختر خان، ہری پور، پاکستان:
میرے خیال میں جو امداد پاکستان کو مل رہی ہے اگر اس کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے، تو وہ بھی کافی ہے۔ میں صدر کے فیصلے سے متفق ہوں کیونکہ دفاع کا ہونا بھی ضروری ہے، تاکہ پاکستان اپنی پوزیشن اس خطے میں مستحکم رکھ سکے۔

عمران ، لندن:
یہ بالکل غلط فیصلہ ہے۔

اسحاق ملک، پاکستان:
یہ فوج تو ایک سفید ہاتھی ہے جس پر پیسہ خرچ کرنا فضول ہے۔ عوام کا فرض ہے کہ وہ آگے آ کر نہ صرف فوجی بجٹ کم کروائیں بلکہ فوج کا شعبہ ہی ختم کر دیں۔

محمد شفیق، شیخوپورا:
دفاعی بجٹ نہ صحیح صرف اسلام آباد میں تعمیر ہونے والا نیا جی ایچ قیو کا منصوبہ ملتوی کر دیا جائے تو زلزلے کے متاثرین کی کافی مدد ہو سکتی ہے۔ لیکن اس فوج کو کون سمجھائے۔

مبشر سید، اسلام آباد:
دفاعی بجٹ اور امدادی فنڈس دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم لوگوں کو اپنی جذباتی روش بدلنی ہوگی۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم بھی نہیں۔ دفاعی بجٹ کو کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سب مل کر اس آفت کا مقابلہ کریں گے۔

یاسر، لاہور:
میں صدر کی حمایت کرتا ہوں۔ زلزلے سے متاثرین کی امداد کے لیے اور بہت سے ذرائع ہیں۔ مگر جس طرح ہوا اور پانی ضروری ہے اسی طرح دفاعی بجٹ پاکستان کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔

بشیر سادات، پشاور:
میرے خیال میں متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور امداد کے لیے فوج کو دفاعی بجت میں کمی کرنی چاہیے۔ میں اس حوالے سے صدر مشرف کے بیان کی ہمایت نہیں کرتا۔

زہیر اقبال، ٹوبا ٹیک سنگھ:
پاکستانی لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر فوج کو رقم دیتے رہے ہیں۔ اب جب لوگ مر رہے ہیں تو فوج کیوں نہیں پیسے دے سکتی؟ مشرف صاحب لوگ مر رہے ہیں، ان کی مدد کریں۔

اوسم چوہان، ہری پور:
میرے خیال میں زلزلے کا ہمارے دفاعی بجٹ کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس لیے بجٹ میں کمی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ فوج کا استعمال ویسے ہی متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ میں اس معاملے میں صدر مشرف کے ساتھ ہوں۔

لطف الاسلام، برطانیہ:
میرے خیال میں صدر مشرف پر اس وقت افغانستان اور قبائلی علاقوں کی صورت حال کی وجہ سے کافی دباو ہے۔ بھارت سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اصل خطرہ ان شدت پسندوں سے ہے جو پاکستان کو ایک طالبانی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اس سب کی وجہ سے دفاعی بجٹ میں کمی ممکن نہیں ہے۔

شبیر احمد خان، پاکستان:
امداد اور تعمیر نو کے لیے فنڈس جمع کرنے کے لیے دفاعی بجٹ میں کمی کی جانی چاہیے۔

عارف قریشی، ٹانڈو محمد خان:
صدر صاحب کو چاہئے کہ دفاعی بجٹ کو کم کرکے متاثرین کی مدد کریں، ہم نیوکلیئر پاور ہیں۔ اگر دفاعی بجٹ کم کردی جائے گی تو کوئ فرق نہیں پڑے گا، اگر پڑتا تو صرف جنرلوں کی عیاشیوں پر پڑے گا۔

آفتاب اشرف، بارسلونا:
میں نہیں سمجھتا کہ صدر صاحب نے صحیح فیصلہ کیا ہے۔ یہ بجٹ کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گورنمنٹ یہ پیسے غربت کے خاتمے کے لئے خرچ کرے۔

جمیل مقصود، برسلز:
جنرل اپنی روگ آرمی کے مفاد کے دفاع کے لئے مکمل طور پر اوپن ہیں۔پاکستان کی فوج اپنا بجٹ کیوں کم کرے گی؟ فوج یہ کچھ کرہی ہے پیسے وصول کرنے کے لئے۔ حالیہ برسوں میں فوج نے چھپن ادارے خریدے ہیں جو پروفِٹ میں چل رہے تھے اور کئی لوگوں کا گھر چلتا تھا۔ دوسری یہ کہ اقتصادی معاملے میں بھی اب فوج اپنی پاور بڑھا رہی ہے۔ ایسے مشکل حالات میں اس نے اپنے بجٹ کم کرنے سے انکار کیا ہے۔ کشمیریوں کو فوج کا موقف معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے لئے کشمیر اہم ہے لیکن کتنا؟

محمد اعجاز، قطر:
عوام ہیں تو ملک ہے، ملک بچانے کے لئے سب سے پہلے عوام کو بچانا ہوگا۔ مشرف عوام کا دفاع کریں گے تو عوام ملک کا دفاع کریں گے۔

خلیل میر، کینیڈا:
میں اس فیصلے سے متفق ہوں۔

احمد عمران، یو اے ای:
دونوں چیزیں الگ ہیں، ظاہر ہے دفاع ایک حساس معاملہ ہے، اسی واقعے سے تو ہم بیلنس میں ہیں، نہیں تو دیکھیں جب تک ہم نے دھماکے نہیں کیے تھے انڈیا کی طرف سے کیسے بیانات آرہے تھے، باقی انشاء اللہ امداد اتنی آجائے گی پاکستان میں کہ کشمیری بہن بھائی دوبارہ اپنے گھروں میں بس جائیں گے۔

فراز حیدر، کراچی:
مشرف صاحب تو زلزلے میں ملنے والی امداد بھی آرمی کو دےسکتے ہیں، یہ تو ان کا بڑکپن ہے۔۔۔

سید حسن، لندن:
مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ آرمی ملک سے الگ ہے۔ آرمی کے لوگ بھی ملک کے لوگ ہیں۔ اگر گورنمنٹ یا آرمی کرپٹ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ لوگ بھی کرپٹ ہیں اور لہذا بجٹ میں کمی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنی جیبیں کھولیں۔ ہمارے اپنے سیوِنگ اکاؤنٹ میں کروڑوں روپئے ہیں، صرف حکومت کو کیوں ذمہ دار ٹھہرائیں؟ ہم کتنا ٹیکس دیتے ہیں؟

قیصر:
جس کا ہمسایہ انڈیا جیسا ملک ہو وہاں دفاعی بجٹ کم نہیں کیا جاسکتا۔ میں صدر صاحب سے اتفاق کرتا ہوں۔

عالمگیر درانی، چرسدا:
ڈیفنس بجٹ کو اب عسکری ہاؤسنگ اور شاپنگ سنٹر بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بجٹ کا اسی فیصد حاصل کرنے کے بعد فوج کے پاس صرف سات ہیلی کاپٹر ہیں۔

عمار کریم، پاکستان:
صدر کو کچھ کہنا ہی نہیں آتا، اسی لئے اس طرح باتیں کرتا پھرتا ہے۔۔۔۔

داؤد بٹ، سول، ساؤتھ کوریا:
دفاعی بجٹ کم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ملک ہے تو کشمیر ہے اور ہم ہیں، بس صدر صاحب متاثرین کا بھی حق ان کو دیں اور ان کو مزید پریشانیوں اور مصیبتوں سے تحفظ دیں، اللہ کی مدد ان کے اور ہم سب کے ساتھ ہے۔

علی حیدری، نیو یارک:
اگر شہید بھٹو آج زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی فیصلہ کرتے۔

انور حسین، ٹورانٹو:
زلزلہ کے بعد تعمیر نو کے لئے دفاعی بجٹ کم ہونا چاہئے تاکہ غریبوں کے لئے فنڈز اکٹھا کرسکے۔ ویسے بھی پاکستان اتنا غیرمعمولی دفاعی بجٹ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ظفر علی شگری، بالتستان:
صدر صاحب نے کوئی اچھا فیصلہ نہیں کیا ہے، بلکہ دفاعی بجٹ کم کرنا چاہئے۔

شاہ شفیق پرویز، اٹک:
دفاعی بجٹ ملک کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ ملک ہے تو سب کچھ ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے، اب صدر صاحب نے جو کہہ دیا ہے بس کہہ دیا، آپ کچھ بھی کہتے رہیں، کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ دفاعی ضروریات پر خرچ کرنا ملکی ضرورت تو ہے، سب ٹھیک ہے، کرنا بھی چاہئے۔ لیکن ایک جنرل کے منہ میں کیا اپنی زبان بھی نہیں ہوتی، جو کچھ ان کو کہا جارہا ہے اس پر ہی عمل کرنا ہوگا نہ۔ ان کو لیکن دل صرف اس بات پر دکھتا ہے کہ ہمارے صدر صاحب جو کچھ بھی کہتے ہیں سوچے سمجھے بغیر کہتے ہیں، جذبات سے حقیقت میں ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور سپاہی کی زندگی میں شاید جذبات ہوتے بھی نہیں، کبھی عورتوں کےمتعلق اپنی عجیب سی بات بلا سوچے سمجھے کہہ دیتے ہیں اور جب کہ ملک ایک اتنے بڑے سانحے سے گزررہا ہے لوگوں کے جذبات کو سمجھے بغیر انہوں نے اتنی بڑی بات کیسے کہہ دی؟ یہی بھی نہیں سوچا کہ ان کے الفاظ سے کتنے دکھی دل اور دکھی ہوجائیں گے۔

اصغر فاروق، لاہور:
میرے خیال میں یہ فیصلہ ٹھیک ہے کیوں کہ وطن کی سلامتی سے بڑھ کر اور کوئی چیز ضروری نہیں۔

اننی سیدہ، کراچی:
دفاعی بجٹ کا کیا قبرستانوں کا دفاع کرنے کو مسٹر مشرف کو؟ آپ کی عقل پر تو ماتم ہی کی جاسکتی ہے۔

آصف محمد میاں، لاہور:
جل گئی رسی، رہ گئی بال۔ میں تو کیا کہوں گا۔۔۔

چمن کی فکر کر نادان قیامت آنے والی ہے،
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔

اے سبحانی:
گورنمنٹ کو دفاعی بجٹ میں فوری طور پر کمی کرنی چاہئے کیوں کہ ابھی ملک کو کسی جارحیت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر خطرہ ہے تو وہ صرف ان لوگوں کی زندگی کو ہے جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں، جن کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ دفاعی بجٹ کم کم یا ختم کرکے زلزلہ متاثرین کے لئے خیمہ بستیاں قائم کرنے کے بجائے ان کے لئے نئے شہر بسائے تاکہ لوگ پرمانینٹلی محفوظ ہوجائیں۔

علی عمران شاہین، لاہور:
میں جانتا ہوں کہ اکثر لوگ اس مسئلے پر پرویز صاحب کی مخالفت کریں گے لیکن میری رائے اور خیال میں جنرل صاحب کا یہ فیصلہ ان کے دور اقتدار کے صرف گنتی کے اچھے فیصلوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعریف کی جانی چاہئے۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
جب ہر سرکاری ادارہ زلزلہ زدگان کے لئے مالی امداد کرسکتا ہے تو فوج اپنے بجٹ میں کیوں کمی نہیں کرسکتی؟ صدر مشرف نے برسر اقتدار آنے کے چند ماہ بعد دفاعی بجٹ میں پانچ ارب روپئے کی کمی کی تھی۔ کیا اس وقت ملک کی سلامتی کا خیال نہیں تھا؟

ماجد وسیم، لاہور، پاکستان:
میرے خیال میں یہ سب غلط ہے۔ پاکستان 60 سالوں سے 80 فیصد بجٹ دفاع پر خرچ کر رہا ہے مگر حیرت ہے کہ ابھی تک ہمارے پاس ہیلی کاپٹر بھی نہیں ہیں تو یہ بجٹ کس پر لگتا ہے؟ اب تو بینظیر اور نواز شریف بھی نہیں ہیں۔ اور آرمی کا بھی آڈٹ ہونا چاہئے اور ان سے پوچھنا چاہئے کہ 60 سال میں ہم 60 ہیلی کاپٹر بھی نہیں جمع کر سکے

شفقت حمید، برطانیہ:
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں پاکستانی فوج کی تربیت کرنی چاہئے۔ ہماری فوج معاشرتی اور اخلاقی طور پر بہت پسماندہ ہے۔

جاوید، جاپان:
کیسا دفاعی بجٹ، فوج کا حکومت کا یا بیچارے بے سہارا مظلوم عوام کا؟ بی بی سی والے اس سوال کی تشریح فرما دیں

حیدر خان، لاھور، پاکستان:
پاکستان فوج پر پیسے ضائع کر رہا ہے۔ یہ بے کار ہیں ۔ یہ مشرقی پاکستان نہیں بچا سکے، یہ زلزلے سے نہیں نمٹ سکے۔ انہیں اسلام آباد سے پیار اور سویلین لوگوں سے نفرت ہے۔

زبیر دہلوی، کراچی، پاکستان:
مشرف اب تو خدا کا خوف کروآخر امدادی کاروایاں کیوں سست روی کا شکار ہیں۔ اس لئے کہ پیسے نہیں ہیں مگر یاد رکھو کہ مظلوم کی بد دعا رائیگاں نہیں جاتی۔

عامر مہاجر، سویڈن:
دفاع کیسا دفاع؟ یہ دفاعی بجٹ نہیں یہ جرنیلوں کا اور مشرف کا عیاشی بجٹ ہے۔

یاسر مختار،کراچی، پاکستان:
یہ فوج جو ملک کا 70 فیصد بجٹ کھاتی ہے اس کا یہ حال ہے کہ اس کے پاس کل 14 ہیلی کاپٹر ہیں جن میں سے دو تین خراب ہو کر گراؤنڈ ہو چکے ہیں اوپر سے جناب مشرف صاحب دفاعی بجٹ کم نہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے کہ یہ بجٹ کم کر کے غریب لوگوں کی مدد کر کے انکی دعائیں لے لیں ورنہ ہمارا بجٹ فوج کی عیاشیوں پر خرچ ہو جائے گا۔

عبدالمجید، اسلام آباد، پاکستان:
اگر دفاعی بجٹ کم کر دیا گیا تو ان جرنیلوں کے پیٹوں میں کیا جائے گا جو اپنی عوام پر تو بندوق تاننے میں تو بہت تیز ہیں مگر جب مدد کرنے کا وقت آیا تو یہ آفت آنے کے ایک مہینے بعد بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔

کامران تہور، لاہور، پاکستان:
اس زلزلے سے ہلاکتوں اور گھروں کی تباہی کی تعداد بھارت کے ساتھ لڑی گئی جنگوں سے زیادہ ہوئی ہے۔ اس لئے ہمیں دفاعی بجٹ میں کمی کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ مشرف کو فوج کا بجٹ بڑھا دینا چاہئے کیونکہ فوج لوگوں کی مدد کر رہی ہے اور کوئی سول ادارہ اس سے اچھا کام نہیں کر سکتا اس لئے کہ فوج میں زیادہ نظم و ضبط ہے۔

ایذد امداد، اوکاڑہ، پاکستان:
دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سعید بٹ، لاہور، پاکستان:
دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کا مطلب ہو گا کہ زلزلے کی تباہی پورے ملک میں پھیلا دی جائے کیونکہ کمزور دفاع دشمن کو تباہی برپا کرنے کی کھلی دعوت دینا ہو گا۔

اسلم میمن، کراچی، پاکستان:
پہلے تو ضرورت ہے کہ جو فنڈز اکٹھے ہو گئے ہیں انکو وقت پر صحیح خرچ کیا جائے۔ اگر فنڈز کی کمی پیش آئے تو دفاعی بجٹ کے ساتھ ساتھ نئے جی ایچ کیو کی تعمیر اور افسر شاہی اور فرضی حکومت یعنی سیاستدانوں کا بجٹ بھی کم کیا جائے۔ مہنگی گاڑیاں، غیر ملکی دورے اور عیاشانہ زندگی نہ فوجیوں کو زیب دیتی ہیں نہ افسر شاہی کو اور نہ کاغذی حکمرانوں کو

شوکت علی، دبئی، متحدہ عرب امارات:
میرے خیال میں پرویز مشرف اسلامی دنیا کا سب سے اچھا لیڈر ہے۔ جو فیصلہ وہ کرے وہ اسلامی دنیا اور دوسری دنیا کے لئے اچھا ہو گا۔

نجف علی، بھکر، پاکستان:
موجودہ صورتحال میں کچھ عرصے کے لئے دفاعی بجٹ کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے

عارف جبار، سندھ، پاکستان:
اس وقت صرف زلزلے سے متاثرین کی مدد کی بات ہونی چاہئے

محمد عرفان، سویڈن:
اگر ہم مشرف کی خارجہ پالیسی کی بنیاد کو دیکھیں تو یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ کسی بھی حالت میں جنگ نہیں کرنی ،چاہے اس کے لئے ہم اپنی اسلامی شناخت اور نظریے کو کھو دیں۔ اس لئے میرے خیال میں زلزلہ ذدگان کے لئے دفاعی بجٹ ضرور کم کرنا چاہئے

آصف خان، ریاض، سعودی عرب:
اصل میں پاکستانی فوج ضرورت سے چار گنا زیادہ ہے۔ ذرا ہمارے جرنیلوں کو دیکھیں، وہ چھ مرسڈیذ کاروں، بارہ جیپوں اور سولہ موٹر سائیکل سوار محافظوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یہ سب قوم کے ایک ملازم کے لئے ہے۔ ہمیں پاکستان کی فوج اور اسکے بجٹ میں فوراً 75 فیصد کمی کرنی چاہئے۔

خرم، اسلام آباد، پاکستان:
یہ صحیح ہے کہ دفاع اور بحالی علیحدہ چیزیں ہیں اور دونوں اہم ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم کہاں رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں صرف اسلحہ ہے دوائیں اور مشینری نہیں ہے، آلات نہیں ہیں جو ملبے کے نیچے دبے ہوئے بچوں کا پتا چلائیں۔ یہ سب کیا ہے؟ اگر کوئی فوج سے پیسے کے متعلق پوچھے تو اسے غدار کہا جاتا ہے۔

: سلمان بشیر، خیر پور، پاکستان
بڑے افسوس کی بات ہے اس وقت دفاع کی ضرورت نہیں قیمتی جانوں کو موت کے منہ سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہماری حکومت کس کا دفاع کرنا چاہتی ہے؟ اپنا اور اپنی وردی کا۔ ویسے بھی ہمارے حکمرانوں نے آج تک کون سا دفاع کیا ہے سوائے اپنی حکومت کو بچانے کے

احمد باری، کینیڈا:
میرے خیال میں مشرف صاحب کا بیان ایک طرح سے صحیح بھی ہے اور نہیں بھی۔ لیکن میں یہی کہوں گا کہ کب تک ہم لوگ فوج کو پالتے رہیں گے۔ جو دفاعی بجٹ ہے پوری طرح دفاع پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ موج میلے پر خرچ ہوتا ہے۔ ہمیں اب جاگ جانا چاہئے

افتخار احمد، کشمیر:
صحیح فیصلہ ہے

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66آپ کی رائے
کیا زلزلے کے بعد بدنظمی معاشرے کی عکاس نہیں؟
66زلزلہ : آپ کی رائے
کیا دنیا کو تباہی کی شدت کا صحیح اندازہ ہے؟
66آپ کی رائے
زلزلہ: کیا بین الاقوامی برادری وقت پر کام آئی؟
66آپ کی رائے
اقوام متحدہ: امداد کی کمی، محدود آپریشن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد