ملک گیر ہڑتال کی اپیل، مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شریف برادران کو سرکاری عہدوں کے لیے نااہل قرار دئے جانے کے خلاف مسلم لیگ ن نے جمعرات کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کئی شہروں سے چھوٹے مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ مسلم لیگ ن کے چئرمین راجہ ظفر الحق نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی۔ ادھر وزیر اعلی شہباز شریف کے ترجمان اور نامزد سینیٹر پرویز رشید نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت آسانی سے کسی کے حوالے نہیں کی جائے گی اور ہر سطح پر مزاحمت اور مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے لیے عوام کو کال دینے کی ضرورت نہیں ہے وہ پہلے ہی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے کئی علاقوں سے مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جس سے مال روڈ پر ٹریفک رک گئی۔ گوجرانوالہ میں ڈسٹرکٹ بار میں ہڑتال کی گئی جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے دو روزہ ہڑتال کااعلان کیا ہے۔ پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق فیصلے کی خبر سن کر مسلم لیگ (ن) کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔ مسلم لیگ کے درجنوں کارکنوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر سڑک پر ٹائر جلائے اور کچھ وقت کےلیے سڑک بند کرکے دھرنا دیا۔ اس موقع پر لیگی کارکنوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ نے بھی پشاور ہائی کورٹ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہےکہ بلوچستان میں مظاہرین کی تعداد زیادہ نہیں تھی لیکن بہت سے لوگوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے نواز شریف اور شہباز شریف سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد درجنوں کارکن اور رہنما کوئٹہ پریس کلب کے سامنے نعرے لگاتے ہوئے پہنچے ۔ جماعت کے کارکنوں نے منان چوک پر ٹائر جلائے ہیں اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے رہنماوں امان اللہ بلوچ اور باز محمد کاکڑ نے کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ملک کو انتشار کی طرف لے جانا چاہتی ہے جس کے خلاف وکلا اور جمہوریت پسند جماعتوں کی تحریک جاری رہے گی۔ بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شریف برادران کو سرکاری عہدوں کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ |
اسی بارے میں اہلیت کیس میں اٹارنی جنرل طلب23 February, 2009 | پاکستان ’نااہل قراردلانےکی کوشش نہ کریں‘21 February, 2009 | پاکستان ’عدالت کے پاس بہت اختیار ہے‘20 February, 2009 | پاکستان پنجاب گورنر کی حکومت پر تنقید19 February, 2009 | پاکستان ’عدلیہ کو جرنیلوں نے تقسیم کیا‘10 February, 2009 | پاکستان ’عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوتے‘ 17 February, 2009 | پاکستان اہلیت کیس، لارجر بنچ پر فیصلہ موخر11 February, 2009 | پاکستان ’نواز شریف کیساتھ امتیازی سلوک‘02 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||