BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 February, 2009, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوتے‘

نواز شریف
الیکشن ٹرائیبونل کی تشکیل وزیر اعلیٰ پنجاب پر لٹکتی تلوار ہے: ایڈوکیٹ جنرل پنجاب
سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرکاری مدد لیے بغیر عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتے ہیں تو شریف براداران ایسا کیوں پیش نہیں کر سکتے۔

نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نیب کی طرف سے ملنے والی سزا کے خلاف سرکاری اہلکار یا قانونی افسر کی بجائے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں تو شریف برادران ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔

منگل کے روز جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میاں شہباز شریف نہ کسی بینک کے نادہندہ ہیں اور نہ ہی اُن کے خلاف کوئی توہین عدالت کا مقدمہ درج ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریٹرنگ افسر نے میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے تھے جس کے بعد ہی انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے طرف سے الیکشن ٹربیونل کی تشکیل وزیر اعلیٰ پنجاب پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔

جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ اس ٹربیونل کی تشکیل سے ایک شخص تو متاثر ہوسکتا ہے پورا صوبہ کس قانون کے تحت متاثر ہوسکتا ہے۔

جسٹس شیخ حاکم نے استفسار کیا کہ صوبہ پنجاب کا چیف سکیرٹری اس مقدمے میں فریق کیوں بننا چاہتے ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل نے جواباً کہا کہ چونکہ چیف سیکرٹری وزیر اعلی کے ماتحت ہوتا ہے اور صوبے میں بیوروکریسی کا سربراہ ہوتا ہے اس لیے اگر وزیر اعلی کے خلاف کوئی درخواست عدالت میں آئی ہو تو چیف سیکرٹری اس میں فریق بنتا ہے۔

عدالتوں میں مفاد عامہ کی درخواستیں دائر کی شہرت رکھنے والے شاہد اورکزئی نے میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں میں فریق بننے کی درخواست دی ہے۔

انہوں نے اپنی درخواست میں کہا کہ جب سپریم کورٹ پر حملہ ہوا تو میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور ا س حملے کے لیے آنے والے افراد کے لیے پنجاب ہاؤس میں کھانے پینے کا انتظام کیا گیا تھا۔

جسٹس موسیٰ کے لغاری نے کہا کہ سپریم کورٹ پر حملے کی تحقیقات ہوئیں تھیں جس میں میاں شہباز شریف کو قصوروار قرار نہیں دیا گیا تھا۔

انہوں نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ ریٹرنگ افسر اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی پیش کی تھیں لیکن انہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا تو پھر یہ عدالت اس رپورٹ کو کیوں سُنے جس پر کسی مجاز شخص کے دستخط بھی نہیں ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ بدھ تک اپنے دلائل مکمل کریں جبکہ ان درخواستوں میں بنائے گئے فریق پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے وکیل اشتراوصاف سے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے دلائل شروع کریں۔

شریف برادران کی ایلیت کے متعلق درخواستوں کی سماعت بدھ کو بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ: بِل پیش کر رہے ہیں
27 January, 2009 | پاکستان
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم
28 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد