BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 January, 2009, 18:31 GMT 23:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات: کالج کے طلبہ کا مظاہرہ

پولیس
وزیر اعلٰی پنجاب نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے
پنجاب کے شہر گجرات میں پولیس نے کالج کی ممکنہ نجکاری اور زمین پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنے والے گورنمنٹ زمیندار کالج کے طلبہ و طالبات پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد کو حراست میں لے لیا۔

وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

اسی کالج میں پنجابی کے پروفیسر وسیم گردیزی نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کالج کو بدھ کی صبح سے پولیس کی بھاری نفری نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ طلبہ اور اساتذہ نے احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کی تو پولیس نے طلبہ پر حملہ کردیا۔

ان کے بقول پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور طلبہ کالج کے اندر بھاگے تو پولیس نے کالج میں داخل ہوکر طلبہ کو مارا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسجد میں پناہ لینے والے طلبہ کو بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کے مناظر پاکستان کے مقامی نجی ٹی چینلز پر دکھائے گئے۔ ایک ٹی وی چینل پر دو پولیس اہلکاروں کو پناہ کے لیے مسجد کی چھت پر چڑھ جانے والے طالبعلم پر لاٹھیاں برساتے دکھایا گیا۔

پروفیسر گردیزی نے بتایا کہ اس تشدد میں کم از کم دس طلبہ اور دو اساتذہ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کالج سنہ انیس سو بیس میں نواب زادہ فضل عمل کی کاوشوں سے قائم کیا گیا تھا اور بعد میں حکومت نے اسے سرکاری تحویل میں لے لیا تھا۔

پروفیسر گردیزی نے کہا کہ یہ کالج چندہ کرکے قائم کیا گیا تھا لیکن اب ان کے بقول نواب زادہ فضل عمل کے رشتہ دار چاہتے ہیں کہ اس کالج کو نجکاری کے بعد ان کے حوالے کردیا جائے۔

کالج کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ کالج کی دس کنال اراضی پر مبینہ طور پر قبضہ کر کے اس پر زمیندار ایسوسی ایشن کا ایک بورڈ لگا دیا گیا ہے جس پر طلبہ و طالبات سراپا احتجاج ہیں۔

پولیس تشدد کے بعد ٹیچر نے ایک ریلی نکالی جس میں مقامی ڈاکٹروں وکلاء اور طلبہ کے والدین نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء پریس کلب تک گئے جہاں ایک پریس کانفرنس کی گئی۔

اس موقع پر کالج کے استاد ڈاکٹر آصف ہزاروی نے خطاب کرتے ہوئے کلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور کہا کہ جب تک حکومت کالج کے اساتذہ اور طلبہ سے باضابطہ رابطہ کرکے انہیں اعتماد میں نہیں لیتی یہ بائیکاٹ اور احتجاج جاری رہے گا۔

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما نواب زادہ غضنفر گل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کالج ان کے دادا نے قائم کیا تھا اور کالج کی ایک سو ایکڑ سے زیادہ اراضی اور اس کے اندر جو کچھ بھی ہے وہ ان کی ملکیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ البتہ کالج کی انتظامی امور حکومت یا کوئی بھی انتظامی ادارہ چلا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
کھلے آسمان تلے تعلیم کب تک؟
13 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد