BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک مخدوش عمارت میں چار سکول

مخدوش سکول
عمارت کی چھت جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے اور اس سے ملبہ گرتا رہتا ہے
بارہ سالہ محسن خان روزانہ اس خوف کے ساتھ سکول آتا ہے کہ عمارت کی چھت کا ملبہ اس پر نہ گر جائے۔

وہ سینٹ زیوئر سکول میں پانچویں کلاس میں زیر تعلیم ہے، شہر کے مرکزی علاقے صدر، لکی سٹار پر واقعے یہ سکول تیرہ کمروں پر مشتمل ہے، جس میں صبح اور شام کی دو شفٹوں میں چار سکول چلتے ہیں۔ جو چار سو طلبہ اور چالیس اساتذہ پر مشتمل ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل یعنی انیس سو اکتالیس میں کیتھولک کرسچن کمیونٹی نے اس سکول کی بنیاد ڈالی گئی تھی، جو انیس سو بہّتر تک ہسپانوی رومن کیتھولک سینٹ زیوئر سوسائیٹی کے زیر اہتمام جاری تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ اسے بھی قومی ملکیت میں لے لیا گیا۔

دس سال قبل تک اس عمارت میں صرف ایک ہی سکول دو شفٹوں میں جاری تھا مگر بعد میں اسی علاقے میں موجود کچھی میمن گورنمنٹ پرائمری سکول کو عمارت بوسیدہ ہونے کی وجہ سے یہاں منتقل کر دیا گیا اور آٹھ سال قبل ایک اور سکول حسنی پرائمری سکول کو بھی زبردستی یہاں متقل کردیا گیا اور اس کی جگہ ایک عمارت کھڑی کر دی گئی۔

ایک سکول میں چار سکول سمٹا گئے مگر عمارت کی نہ کبھی بھی مرمت ہوسکی اور نہ ہی بنیادی سہولتوں میں اضافہ کیا گیا۔

سکول کے ہیڈ ماسٹر کا کہنا ہے کہ گیارہ سال قبل سکول کی بجلی منقطع کردی گئی تھی جو آج تک بحال نہیں ہوسکی ہے، اور اب کنڈے کے ذریعے آتی ہے۔

شہر کے مرکزی علاقے صدر، لکی سٹار پر واقعے یہ سکول تیرہ کمروں پر مشتمل ہے،

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا جو بل آتا وہ ادائیگی کے لیے محکمہ تعلیم کے دفتر میں بھیج دیا جاتا ہے جو انہوں نے ادا ہی نہیں کیے یہ بل سینٹ زیوئر سوسائٹی کے نام آتا ہے جسے انہوں نے تبدیل کرانے کی کوشش کی مگر تبدیل نہیں ہوسکا۔ حکام کا کہنا ہے اس سوسائٹی کے کسی فرد سے لیٹر لے کر آئیں مگر وہ لوگ تو کب کے اس جہاں سے گذر گئے ان کا تو کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے۔

بجلی کا معاملہ ابھی حل ہی نہیں ہوا تھا کہ چار ماہ قبل روڈ کی کھدائی کے بعد سکول میں پانی کی فراہمی بھی منقطع ہوگئی۔ خاتون ٹیچر مس محمودہ کا کہنا ہے کہ پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے بچوں کے پینے تک کے لیے پانی نہیں ہے۔

سکول کے کمروں میں کھڑکیوں کے پٹ کب کے ٹوٹ چکے ہیں، جس وجہ سے گرمی میں لو اور سردی میں ٹھنڈی ہوائیں بغیر کسی روک ٹوک کے اندر آتی جاتی ہیں۔ بلیک بورڈ کےم لیے دیوار پر سیاہ رنگ لگا دیا گیا، دیواروں پر ٹیوب لائٹس کی پٹیاں تو لگی ہوئی ہیں مگر ان میں ٹیوبز نہیں ہیں۔

عمارت کی چھت جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے اور اس سے ملبہ گرتا رہتا ہے، سکول کے چپڑاسی محمد رفیق کا کہنا ہے کہ پچھلے سال ملبہ گرنے سے ایک ٹیچر اور چار بچے زخمی بھی ہوچکے ہیں، سکول انتظامیہ نے کئی بار شکایات کی ہیں مگر کوئی سننے والا ہی نہیں ہے۔

سکول کی عمارت کے ساتھ کا ایک پلاٹ خالی ہے۔ جس پر کچرے کے ڈھیر لگے ہیں

طالب علم محسن خان سمیت کئی طالب علموں کا کہنا ہے انہیں یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ چھت سے ملبہ کسی وقت بھی گر سکتا ہیں اس کی مرمت کرنی چاہیے۔
سکول کی صفائی کے لیے ایک جمعدار تعینات تھا، جس کا دس سال قبل انتقال ہوگیا اور اس کے بعد کوئی تعیناتی نہیں ہوئی اور کمروں کی صفائی کی ذمے داری زیر تعلیم لڑکیوں پر ہے۔

پانچویں کلاس میں زیر تعلیم آفرین انصارالدین کا کہنا ہے کہ گرد دھول سے بچ بچ کر صفائی کرتےہیں مگر پھر بھی یونیفارم خراب ہوجاتی ہے۔

سکول کی عمارت کے ساتھ کا ایک پلاٹ خالی ہے۔ جس پر کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، چپڑاسی کا کہنا ہے کہ جب کچرا جلایا جاتا ہے تو پورا دھواں سکول کے اندر آجاتا ہے جس وجہ سے جلد چھٹی کرنی پڑتی ہے۔ کیونکہ بچے سانس تک نہیں لے سکتے اتنا دہوان بڑہ جاتا ہے۔

ہیڈ ماسٹر کا کہنا ہے کہ اس سکول پر کبھی توجہ نہیں دی گئی اس وقت جو کچھ بہتر حالت نظر آ رہی ہے وہ بھی این جی اوز کی مدد سے لائی گئی ہے محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ کہتے ہیں فنڈز نہیں ہیں۔

گھوسٹ سکول
بلوچستان، ہزاروں سکول صرف کاغذوں پر
 سکول کہانی ایک سکول کی
ڈھوک چودھریاں کے سکول کا قصہ
اقتصادی سروے
ایک لاکھ سکول بنیادی سہولیات سے محروم
پاکستانی طالباتبغیر سکول کے دیہات
پنجاب میں ہزاروں دیہات بغیر سکول کے ہیں
اسی بارے میں
زیادتی کا بدلہ سکول بنا کر
07 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد