کھلے آسمان تلے تعلیم کب تک؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کو آنے والے زلزلے کو تین سال ہو چکے ہیں لیکن پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اب تک صرف دو فیصد تعلیمی ادارے ہی تعمیر کیے گئے اور بیشتر تعلیمی ادارے اب بھی خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے چلائے جا رہے ہیں۔ مظفرآباد کے نواحی گاؤں نلوچھی کے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کی بچیاں تین سالوں سے خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سکول کی بچیوں کی تعداد ڈھائی سو ہے اور ان کا سکول چار خستہ حال خیموں پر مشتمل ہے لیکن خیموں میں جگہ کم پڑنے کے باعث یہ بچیاں باہر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ اس سکول کی آٹھویں جماعت کی طالب علم لیبہ کا کہنا ہے کہ’ ہم زلزلے کے تین سال سے خیموں میں پڑھ رہے اور اب یہ خیمے بھی پھٹ چکے ہیں۔جب بارش ہوتی ہے تو پانی خیمے کے اندر آجاتا ہے اور ہم اس میں بیٹھ نہیں سکتے‘۔ ان کا کہنا ہے’زلزلے کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک ہمارے اسکول کی عمارت تعمیر نہیں کی گئی۔ میں ٹیلی ویژن پر سنتی ہوں کہ بہت امداد آئی لیکن یہ امداد کہاں گئی‘۔ لیبہ کی ہم جماعت نورین کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پڑھائی کا ماحول ہی میسر نہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ ہم پڑھنے کے لئے آتے ہیں اور جب سکول ہی نہیں تو ہم کیا پڑھیں گے‘۔ ایک اور طالبہ عائشہ پرویز نے شکایت کی کہ ’سرکاری افسر اور امدادی تنظیموں کے لوگ خود تو قیمتی گاڑیوں میں گھومتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں کرتے کہ دو تین گاڑیاں بیچ کر ہمیں سکول کی عمارت تعمیر کروا دیتے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں سکول میں پینے کے لیے صاف پانی بھی میسر نہیں اور نہ ہی صحت اور صفائی کی مناسب سہولیات ہیں۔ ایک اور طالبہ وجیہہ کا کہنا ہے کہ ’ گرمیوں میں کڑی دھوپ میں ہمارے سر میں درد ہوجاتا ہے اور ہمارے گھر والے ہمیں چھٹی کراتے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم کا حرج ہو رہا ہے‘۔
سکول کی ایک ٹیچر شاہدہ تبسم کا کہنا ہے کہ’ زلزلے سے پہلے ہمارا اسکول پانچ کمروں پر مشتمل تھا اور پڑھائی اچھی طرح ہورہی تھی لیکن زلزلے کے بعد ہمارے پاس خیمے بھی نہیں ہیں۔سردیوں میں جب بارش ہوتی ہے تو بچیاں سکول نہیں آتی کیوں یہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورت حال ہو تو بچوں کی تعلیم پر اثر تو پڑے گا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مشکلات کے باوجود تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ واحد سکول نہیں جس کے بچے خیموں یا پھر کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ کشمیر کے اس علاقے کے متاثرہ علاقوں میں بیشتر تعلیمی ادارے یا تو خیموں میں چلائے جاتے ہیں یا پھر یہ بچے کھلے آسمان کے نیچے پڑھتے ہیں۔ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے میں دو ہزار سے زیادہ اسکولوں سمیت کوئی چھبیس سو تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے تھے۔ ان تعلیمی اداروں کو جون دو ہزار نو تک مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا تھا اور ان میں ساٹھ فیصد سے زیادہ تعلیمی ادارے زلزلے سے متعلق تعمیر نو کے ادارے ایرا نے تعمیر کرنے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک صرف چھپن تعلیمی ادارے ہی بن سکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں تقریباً تین لاکھ طلبہ میں سے پونے تین لاکھ کے لگ بھگ اب بھی خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کشمیر کے متاثرہ علاقے کی تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر آصف حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ’تین سالوں میں پونے تین ہزار تعلیمی اداروں کی تعمیر کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ طور پر اونچا ہدف تھا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’یہ بہت بڑا کام ہے اور اس میں وقت لگ رہا ہے۔ متعدد تعلیمی اداروں پر کام شروع کیا گیا ہے اور بہت سوں پر کام شروع کرنا ہے‘۔ڈاکٹر آصف کے مطابق بہت سارے جگہوں پر مسائل حل کیے گئے ہیں اور اگر کسی جگہ کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کو ساتھ ساتھ حل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ اب تعلیمی اداروں کی تعمیر کا کام تیزی سے آگے بڑھے گا۔ حکام اس امکان کا اظہار کررہے ہیں کہ دو ہزار گیارہ تک تمام تعلیمی ادارے کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی۔ حکام کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن متاثرہ علاقوں کے بچے پوچھتے ہیں کہ آخر کب تک ان کو چلچلاتی دھوپ اور کڑ کڑاتی سردی میں ان پھٹے ہوئے خیموں میں یا پھر کھلے آسمان تلے تعلیم خاصل کرنا پڑے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||