زلزلہ متاثرین:کیا پھر سرما بغیر گھر کے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو گھروں کی تعمیر میں کئی طرح کی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ حالیہ مہینوں میں تعمیراتی سامان کی قیمتیوں میں اضافے نے گھروں کی تعمیر کا کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔ مظفرآباد سے پندرہ کلومیڑ کے فاصلے پر دریائے جہلم کے کنارے پر واقع مجہوئی گاؤں میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کے گھر تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ ان ہی میں راجہ فیاض خان بھی ہیں جن کا آٹھ کمروں پر مشتمل دو منزلہ گھر مکمل ہونے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب تک گھر کی تعمیر پر بارہ لاکھ روپے پر خرچ ہوچکے ہیں اور تین لاکھ روپے اور درکار ہیں کیونکہ ابھی دروازے اور کھڑکیاں لگانا باقی ہیں اور بجلی کا کام بھی کرانا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ کہ’میں نے ڈیڑھ سال پہلے گھر کی تعمیر کا شروع کی تھی اور مجھے امید ہے کہ ہم اگلے چھ ماہ میں کام مکمل کر کے نئے گھر میں منتقل ہوجائیں گے‘۔
اس گاؤں میں بعض لوگوں نے امدادی رقوم کی اقساط وصول کرنے کے بعد بھی گھروں کی تعمیر شروع نہیں کی ہے۔ محمد بشیر کا، جو پیشے سے ڈرائیور ہیں، کہنا ہے کہ ان کو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کی امداد تین قسطوں میں ملی ہے جبکہ پچاس ہزار روپے کی آخری قسط ابھی تک نہیں ملی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس رقم سے گھر بنانا ممکن ہی نہیں تھا لہذا میں نے ایک کمرے پر مشتل عارضی رہائشگاہ تعمیر کی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے پانچ بچے ہیں اور اس منہگائی کے دور میں ان کا پیٹ پالنا مشکل ہے تو گھر کیسے بنائیں‘۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ترکھانوں اور مستریوں کی عدم دستیابی کے باعث وہ شاہد اس سال بھی اپنے گھروں کی تعمیر مکمل نہیں کر پائیں گے۔
محمد وسیم کا بھی کہنا ہے کہ’ان کے گھر کا کام رکا ہوا ہے کیونکہ مستری اور مزدور دستیاب نہیں ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو حکومت کی طرف سے ایک لاکھ پچیس ہزار کی امداد تین قسطوں میں مل چکی ہے جبکہ پچاس ہزار کی آخری قسط رہ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی امداد سے گھر تو دور کی بات ہے ایک کمرہ بھی تعمیر نہیں ہوسکتا ہے۔ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں تعمیراتی اخراجات میں اضافہ ہوگیا کیونکہ سڑکوں کی خراب حالت کے باعث تعمیراتی سامان کے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ مزدور مستری اور ترکھان کی کی روزانہ اجرت بھی دو گناہ ہوگئی ہے۔ تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث لوگ پہلے ہی پریشان تھے کہ حالیہ مہینوں میں تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات اور بڑھا دی ہیں۔ پولیس اہلکار شاہد عظیم نے ابھی صرف گھر کی بنیاد تعمیر کی ہے اور وہ پیسے نہ ہونے کے باعث گھر کی تعمیر کا کام جاری نہیں رکھ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی طرف سے ایک لاکھ روپے کی امداد دو قسطوں میں ملی اور کچھ رقم کا خود انتظام کیا اور گھر کی بنیاد تعمیر کی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’اس کی بنیاد تعمیر کرنے پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوئے‘۔
انہوں نے کہا کہ’حالیہ مہینوں میں سیمنٹ کے ایک بیگ کی قیمت ڈھائی سو سے چار سو روپے تک پہنچ گئی اور ایک من سریا کی قیمت تیرہ سو روپے بڑھ کر تین سے چار ہزار روپے ہوگئی ہے‘۔ اسی طرح سے ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی سامان کے نقل حمل کے اخراجات میں چند ماہ کے دوران اور اضافہ ہوا ہے۔ شاہد عظیم نے بتایا کہ کچھ ماہ تک ہمیں ایک جیپ ریت تیرہ سو روپے پڑتی تھی اور اب یہی انہیں تین ہزار روپے میں پڑتی ہے۔’مجھ جیسے کم تنخواہ والے ملازم گھر تعمیر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔‘ مجہوئی گاؤں میں بیشتر لوگوں نے گھروں کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے لیکن بہت سارے لوگ اسے مکمل نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے امدادی رقم کی اقساط بر وقت نہ ملنے کے باعث انہیں تعمیر روکنا پڑی ہے۔ زلزلے کے تین سال بعد بھی اڑتالیس ہزار متاثرین ایسے ہیں جن کو گھروں کی تعمیر کے لیے امدادی رقم کی دوسری قسط نہیں ملی جبکہ ایک لاکھ پینتیس ہزار کو تیسری اور آخری قسط ادا نہیں کی گئی ہے۔ تعمیر نو اور بحالی کے ریاستی ادارے کے سربراہ آصف حسین سے جب امدادی رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا کہ لوگ کام ہی نہیں کر رہے ہیں اور بنیاد تعمیر کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پونے تین لاکھ میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو امداد کی چوتھی اور آخری قسط مل چکی ہے جبکہ تیس ہزار مزید ایسے لوگ ہیں جن کو اگلے کچھ دنوں میں چوتھی قسط مل جائے گی‘۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ امداد کی رقم میں اضافہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے برقت کام شروع کیا وہ اپنے گھر بناچکے ہیں اور جنہوں نے سستی کی ان کو اب اس طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو گھروں کی تعمیر کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے عوامی نمائندوں کی بھی مدد لے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک پونے تین لاکھ میں سے پونے دو لاکھ گھر تعمیر ہو چکے ہیں۔ حکام کا موقف اپنی جگہ لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں مجموعی صورت حال اسی طرح کی ہے کہ تعمیراتی اخراجات میں اضافہ، ناکافی امدادی رقم، امدادی اقساط کی ادائیگی میں تاخیر، تعمیراتی سامان کی نقل و حمل میں مشکلات اور مستریوں اور ترکھانوں کی مطلوبہ مقدار کی عدم دستیابی، تعمیرات کے عمل میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ اس صورت حال میں بیشتر لوگوں کو شاید اس سال کی سردیاں بھی عارضی رہائش گاہوں میں ہی گزرانا پڑیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||