BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2008, 02:54 GMT 07:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ، تین سال بعد تعمیر نو کا انتظار

جمشید علی قادر
جمشید علی قادر کے گھر کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑی ہیں
آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے میں دریائے نیلم اور جہلم کے سنگم پر واقع مظفرآباد شہر زلزلے تباہ ہوگیا تھا لیکن زلزلے کے تین سال پورے ہونے کے بعد اس کی تعمیر نو کا کام شروع نہیں ہوسکا۔

زلزلے کے تین سال کے بعد بھی تعمیراتی کام شروع نہ ہوسکنے کے باعث مظفرآباد شہر میں بہت سارے لوگ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں یا پھر عارضی رہائش گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

خواجہ محلہ کے جمشید علی قادر سرکاری ملازم ہیں۔ اپنے بیوں اور بچوں کے ہمراہ آج بھی اس ٹوٹے پھوٹے اور خستہ حال مکان میں رہتے ہیں، جس میں رہنا جانتے بوجھتے اپنی زندگی کو داؤ پر لگانے کے برابر ہے۔ ان کے گھر کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑی ہیں۔

زلزلے کے بعد جمشید علی قادر اپنے بیوی بچوں کو لے راولپنڈی چلے گئے تھے جہاں وہ ایک سال تک ایک کرائے کے گھر میں رہتے رہے لیکن مالی پریشانیوں کے باعث وہ واپس مظفرآباد آئے اور اپنے اسی ٹوٹے پھوٹے گھر میں رہنے لگے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر کی مرمت کرنا چاہتے تھے لیکن حکام نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ گلی کھلی کرنے کے لئے انہیں پانچ فٹ جگہ چھوڑنا پڑے گی۔

مظفرآباد کے تعمیر نو کے منصوبے کے تحت کئی سڑکیں اور گلیاں کھلی کرنی ہیں۔

جمشید علی قادر نے کہا کہ مظفرآباد کی تعمیر نو کا کام ابھی تک شروع نہیں ہوسکا اور ہم تذبذب ہیں کہ کیا کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم تذبذب میں ہیں کہ کب تعمیر نو کا کام شروع ہوگا اور صورت حال واضع ہوگی

کشمیر زلزلہ
تین سال پہلے آنے والے زلزلے میں چوہتر ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے
تین سال قبل آنے والے زلزلے میں مظفرآباد شہر میں کوئی ساڑھے آٹھ ہزار گھر تباہ ہوئے تھے جبکہ لگ بھگ چھ ہزارو گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔

پہاڑوں کے دامن میں واقع اس شہر کی تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکنے کی وجہ صلاحیتوں یا وسائل کی کمی نہیں بلکہ لوگ کے مطابق حکام کی عدم توجہی ہے۔ حکمران جماعت جماعت مسلم کانفرنس کے سینئیر نائب صدر اور کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے رکن فاروق حیدر خان بھی پریشان ہیں۔ ان کا گھر بھی زلزلے میں تباہ ہوگیا تھا۔

راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرائے پر گھر لیا ہے اور اس کے ساتھ دو خیمے بھی لگائے ہیں اور تین سال سے ان خیموں میں ہی سوتے ہیں۔

’میں نے اپنے تباہ ہوئے گھر کا ملبہ ہٹایا ہے اور میں نیا گھر تعمیر کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ سڑک کھلی کرنے ہے اور میری زمین اس کی زد میں آسکتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نہ جانے کب صورت حال واضع ہوگی اور ہم کب اپنا گھر بناسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مظفرآباد شہر کی تعمیر نو کے کام کے آغاز میں تاخیر کے ذمہ داری حکومت پاکستان، پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے ساتھ ساتھ کشمیر کے اس علاقے کی مسلم کانفرنس کی حکومت پر ڈالی۔

آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے کے کے فوراً بعد حکومت پاکستان نے کہا تھا کہ مظفرآباد شہر کو جدید خطوط پر تعمیر کیا جائے گا۔

نومبر سن دو ہزار پانچ میں اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ڈونر کانفرنس میں چین کی حکومت نے مظفرآباد شہر کے لئے نرم شرائط پر تیس کڑوڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کا وعدہ کیا جبکہ حکومت پاکستان نے یہ کہا تھا کہ وہ اس کی تعمیر کے لئے اکسٹھ کڑوڑ ڈالر فرہم کرے۔

زلزلہ
حکام کا کہنا ہے کہ مظفرآباد شہر کی تعمیر نو کے منصوبے کا سنگ بنیاد اس سال رکھا جائے گا
ستمبر دو ہزار سات میں پاکستان کے تعمیر نو کے ادارے ایرا اور چین کی دو کمپنیوں کے درمیان شہر کی تعمیر نو کے لئے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہوئے اور پاکستان کے عہدیداروں نے یہ اعلان کیا کہ اکتوبر دو ہزار سات میں ہی تعمیر کے آغاز کیا جائے گا۔

لیکن چینی کمپنیوں اور ایرا کے درمیان شرح منافع اور انتطامی اخراجات کے معاملے پر اختلافات کے باعث یہ منصوبہ ابھی تک التوا کا شکار رہا۔

مظفرآباد میں تعمیر نو اور بحالی کے ریاستی ادارے کے سربراہ آصف حسین شاہ نے اب دعویٰ کیا چینی کمپنیوں کے ساتھ معاملات طے پاگئے ہیں اور آج یعنی آٹھ اکتوبر کو ہی شہر کی تعمیر نو کے منصبوبے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔

لیکن مظفرآباد شہر کی سنگ بنیاد رکھنے سے پہلے اس پر ایک اور تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

مظفرآباد شہر کے ترقیاتی ادارے کے چیرمین نے زاہد امین کاشف کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان مظفرآباد شہر کی تعمیر نو کے لئے مختص رقم میں سے ہی باغ اور راولاکوٹ کے شہر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’یہ مظفرآباد شہریوں کے ساتھ سراسر زیادتی اور نا انصافی ہے۔‘

زاہد امین کاشف نے کہا کہ’یہ فیصلہ بدنیتی کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا جس کا مقصد تینوں علاقوں کے لوگوں کو آپس میں الجھانا ہے بھائی کو بھائی سے لڑانا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ تعمیر نو کے نام پر بھائی کو بھائی کو نہ لڑایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ رقم کہاں جائے گی جو باغ اور راولاکوٹ کے شہروں کی تعمیر نو کے لئے رکھی گئی تھی۔

لیکن تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے سربراہ ڈاکڑ آصف حسین شاہ نے اس کو بے بنیاد قراردیا کہ مظفرآباد شہر کا پیسہ کئی اور منتقل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ حکومت پاکستان نے ہم سے واعدہ کیا ہے کہ تینوں شہروں کی تعمیر نو کے لئے درکار رقم فراہم کرے گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’ یہ غیر ضروری اور نامناسب بحث ہے کہ پیسے منتقل کئے جارہے ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی صداقت ہے۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہی چینی کمپنیاں باغ اور راولاکوٹ شہر تعمیر کریں گے جن کو مظفرآباد کی تعمیر نو کا کام سونپا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مظفرآباد شہر کی تعمیر نو کے منصوبے کا سنگ بنیاد کل رکھا جائے گا لیکن فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ دوسرے دو شہروں باغ اور راولاکوٹ کے تعمیر نو کے کام کا آغاز کب ہوگا۔

زلزلہ اور کرپشن
’اٹھارہ لاکھ متاثرین کھلے آسمان تلے‘
زلزلہ متاثرزلزلے کے دو سال بعد
تعمیرنو جاری لیکن پھر بھی لوگ بےگھر
نیا گھرزلزلے کے دو سال
گھر بنانا مشکل، متاثرین اب بھی پناہ گاہوں میں
متاثرین زلزلہزلزلہ کے 400 اپاہج
وہ جنہیں آٹھ اکتوبر کا زلزلہ فالج دے گیا
زلزلہ سے تباہ عمارتزلزلہ انجینئرنگ مرکز
پشاور مرکز کی توسیع اور فنڈز کی منظوری
کشمیر: زلزلہ متاثرین
ایک سال بعد بھی سردیاں خیموں میں ہی ہوں گی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد