BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2008, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: نہ گلے گئے، نہ شکایتیں

متاثرین کا احتجاج
موجود حالات میں نا تو حکومت اور نہ ہی امدادی تنظیموں کے لیے ممکن ہے کہ وہ یہ وثوق سے کہہ سکیں کہ آئندہ برس شکایت دور ہو جائیں گی
آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزے کو تین برس مکمل ہوگئے تاہم اس سے متاثرہ افراد کے نہ گلے ختم ہوئے نہ ہی شکایتیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق یہ قدرتی آفت ہی اتنے بڑے پیمانے پر آئی کہ ہر کسی کی داد رسی اور مکمل تشفی کرنا مزید کئی برسوں تک ممکن ہی نہیں۔

سات اعشاریہ چھ کی شدت کے زلزلے سے متاثرہ تقریباً اڑھائی سو افراد تین برس مکمل ہونے پر بھی شکایات لے کر منگل سے اسلام آباد کی سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ کل اگر وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب احتجاج کرتے نظر آئے تو آج مارگلہ ٹاورز کے باہر دھرنا دیتے ہوئے۔ ان مظاہرین میں عورتیں بھی ہیں اور بچے بھی۔

ان میں صوبہ سرحد کے ضلع ایبٹ آباد کی یونین کونسل بوئی کے محمد ارشاد کو شکایت تھی کہ ان کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ’تین برسوں میں ہمارا متاثرہ علاقہ مسائلستان بن گیا ہے مسائل ہی مسائل ہیں۔ مہنگائی میں سو فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ جو کمرہ آج سے تین سال پہلے ڈیڑھ لاکھ میں بن سکتا تھا آج تین لاکھ میں بھی ممکن نہیں۔‘

’کام یقیناً مشکل ہے‘
 ایرا کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پانچ ہزار سے زائد تباہ سکولوں میں سے صرف ایک سو پچھتر بن پائے ہیں۔ اسی طرح صحت کے تین سو سے زائد مراکز بنانے تھے جن میں سے اڑتیس بنے ہیں۔ یہ کام یقیناً مشکل ہے لیکن انہیں یہ باتیں عوام کے سامنے رکھنی ہوں گی
علی اصغر خان
یہ متاثرین اس دعوی کو مسترد کرتے ہیں کہ بحالی کا نوے فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ بوئی کے ہی محمد رفیق بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے اپنے مسائل میں اضافے سے پریشان نظر آئے۔

’تین برس پہلے جو سیمنٹ کی بوری سو روپے میں دستیاب تھی اب چار سو میں بھی نہیں مل رہی۔ اسی طرح کرائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایرا کی پالیسیوں میں بھی آئے روز تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ انہوں نے جو ابتداء میں پالیسی دی تھی مکانات کی تعمیر کے لیئے وہ آج اہلکار آتے ہیں اور مسترد کر دیتے ہیں۔

’انہوں نے ہمیں ڈیڑھ لاکھ روپے دیے لیکن مکان کا جو نقشہ یا پالیسی دی ہے وہ پانچ لاکھ میں بھی نہیں تعمیر ہوسکتا۔‘

انہوں نے شکایت کی کہ ان کے بچے اب بھی زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ’وزیر اعظم کے بچوں کے لیے ہر سہولت ہے، گاڑیاں ہیں، سکول ہیں لیکن کیا ہمارے بچے مسلمان نہیں۔ کیا تعیلم پر ان کا حق نہیں۔‘

زلزلے سے متاثر ہونے والا مارگلہ ٹاور
متاثرین کی امداد میں مصروف اور انہیں اسلام آباد لانے والی تنظیم عمر اصغر خان فاؤنڈیشن کے علی اصغر خان ان شکایات کو بےجا قرار نہیں دیتے۔

انہیں بنیادی مسئلہ مشاورت کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ ’جو پالیسی بنی ہے وہ لوگوں کے مشورے کے بغیر بنی ہے۔ متاثرین کو اگر انہوں نے یکمشت رقم دے دی ہوتی تو نہ یہ مسئلے ہوتے نہ یہ شکایتیں۔ (حکومت کو) ان کے جائز مطالبات کو سن کر آگے چلنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایرا کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پانچ ہزار سے زائد تباہ سکولوں میں سے صرف ایک سو پچھتر بن پائے ہیں۔ اسی طرح صحت کے تین سو سے زائد مراکز بنانے تھے جن میں سے اڑتیس بنے ہیں۔ ’یہ کام یقیناً مشکل ہے لیکن انہیں یہ باتیں عوام کے سامنے رکھنی ہوں گی۔‘

متاثرین کی شکایات کا خاتمہ ان کی مکمل بحالی سے جڑا ہوا ہے لیکن موجودہ حالات میں نا تو حکومت اور نہ ہی امدادی تنظیموں کے لیے ممکن ہے کہ وہ یہ وثوق سے کہہ سکیں کہ آئندہ برس شکایت دور ہو جائیں گی۔

زلزلہ اور کرپشن
’اٹھارہ لاکھ متاثرین کھلے آسمان تلے‘
زلزلہ متاثرزلزلے کے دو سال بعد
تعمیرنو جاری لیکن پھر بھی لوگ بےگھر
نیا گھرزلزلے کے دو سال
گھر بنانا مشکل، متاثرین اب بھی پناہ گاہوں میں
اسی بارے میں
ابوبکر کہاں جائے!
08 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد