احسان داوڑ بٹگرام |  |
 | | | ’امی ابو کی قبر پر بہت روتا ہوں‘ |
آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ وہ دن ہے جس نےنو سالہ سید ابو بکر سے اس کے ماں اور باپ چھین لیے۔ اب ابوبکر بارہ سال کا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اُسے وہ وقت یاد ہے جب وہ بٹگرام کے سوڈگئی گاؤں میں اپنے سکول کے لان میں موجود تھا کہ زلزلہ آیا اوروہ گھر کی طرف بھاگا۔ اپنے والدین کو زور زور سے پکارا لیکن ان کی آواز ملبے کے نیچے ہی دب گئی۔ سید ابوبکر کا کہنا ہے کہ وہ ایک مہینے تک اِمدادی کیمپ میں اپنی بہن کے ساتھ رہا جس کی عمر تیرہ سال تھی لیکن ایک مہینے بعد اُس کا ایک دور کا چچا آیا اور بہن کو اپنے ساتھ کراچی لے گیا۔ سید ابو بکر کے بقول واحد سہارا چھن جانے کے بعد وہ ایبٹ آباد آیا اور ایک ڈاکٹر جان محمد خان کے گھر میں کچھ عرصہ تک رہا۔ پھر ایبٹ آباد ہی میں ایک دوسرے خان کے گھر میں ان کے چھوٹے موٹے کام کرتا رہا۔ تیسرے سال بٹگرام کے ایک زمیندار اقبال خان اسے اپنے گھر لے گئے لیکن کچھ عرصہ وہاں گزارنے کے بعد بقول ابو بکر کے وہ بڑے خان صاحب اقبال خان کے والد کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس لیے وہ وہاں سے بھی نکل آیا اور اب بٹگرام کی سڑکوں پر جگہ کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ ابوبکر کا کہنا ہے کہ اسے امی ابو کی بہت یاد آتی ہے اور جب وہ قبرپر جاتا ہے تو بہت روتا ہے۔ سید ابو بکر نے بتایا کہ اسے کسی بھی حکومتی یا غیر حکومتی ادارے کے اہلکاروں نے سکول میں داخل نہیں کرایا۔ حالانکہ اسے پڑھائی کا بے حد شوق ہے اور وہ بڑا افسر یا ماسٹر بننا چاہتا ہے لیکن فی الحال تو اس کے پاس چھت بھی نہیں ہے۔کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔ |