نیو بالاکوٹ سٹی، لوگ تیار نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ہمارے دیس میں کون لوگ آ گئے جنہوں نے میرے لاڈلے عادل کی جان لے لی۔‘ یہ الفاظ بکریال کی رہائشی ایک ماں کے تھے جن کے بائیس سالہ بیٹے نے حکام کی جانب سے نیا بالاکوٹ شہر بنانے کے لیے آبائی گھر خالی کروانے کے نوٹس پر دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔ دو ہزار پانچ کے زلزلے میں تباہ ہونے والے صوبہ سرحد کے شہر بالاکوٹ کو بکریال کے مقام پر منتقل کرنے کے لیے پانچ ہزار کنال پر ترقیاتی کام شروع تو ہو چکا ہے۔ لیکن بکریال میں پہلے سے رہائش پذیر لوگ اپنے آبائی گھر اور زمین چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آتے ہیں۔ جبکہ ایک نوجوان آبائی گھر خالی کروانے کے نوٹس پر دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر چکا ہے۔ دوسری طرف بالاکوٹ کےزیادہ تر رہائشی اپنا علاقہ خالی کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں حکومت دوسری جگہ بسانے کی بجائے ادھر ہی بہتر سہولتیں اور رہائش مہیا کرے۔ بکریال کے کاشت کار فقیر محمد کے بائیس سالہ بیٹے عادل نے حکام کی جانب سے آبائی زمین پر ترقیاتی کام شروع کیے جانے پر چار ماہ قبل خودکشی کی تھی۔ محمد فقیر نے بتایا کہ یہ زمین ان کے باپ دادا کی نشانی ہے جسے وہ ہر گز نہیں چھوڑیں گےجبکہ اس زمین کے لیے ان کے بیٹے نے جان دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرا کی جانب سے انھیں ایک کنال زمین کا ستر ہزار روپے دیا گیا ہے لیکن اس گاؤں سے نو کلومیٹر دور اتنی ہی جگہ آٹھ دس لاکھ سے کم میں نہیں ملتی۔ ’میں ستر ہزار بھی واپس کرنے پر تیار ہوں۔‘ محمد فقیر کی بیوی نے روتے ہوئے کہا ’اچھا بھلا میرا بیٹا محنت مزدوری کر رہا تھا یہ کون ہمارے دیس میں آ گئے اور میرا لاڈلہ مجھ سے چھین لیا۔‘ بکریال کے کاشت کار نثار احمد نے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے زلزلے کے بعد بحالی کے کام کے لیے قائم کیے گئے ادارے کے ڈپٹی چیئرمین جنرل ندیم نے ان کے گاؤں کے ساتھ والی جگہ بالاکوٹ شہر بسانے کے لیے حاصل کی تھی۔ لیکن بعد میں دھوکے سے پولیس کی مدد سے ہماری آبائی زمینوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے جبکہ زمینوں کا معاوضہ بھی انتہائی کم دیا جا رہا ہے جو انھیں قطعی منظور نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا گاؤں سات سو کے قریب گھروں پر مشتمل ہے اور زبردستی ان سے جگہ خالی کروائی جا رہی ہے لیکن وہ مرتے دم تک اپنی جگہ خالی نہیں کریں گے۔ بکریال کے ایک اور رہائشی سفیر نے بتایا کہ پہلے ایرا نے دھوکے سے ہماری زمین حاصل کر لی ہے اب ہمیں گھروں سے بے دخل کرنے کا نوٹس ملا ہے۔ ’ہمیں کہا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو سات مرلے کا پلاٹ ملے گا۔ جس کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے۔ کئی بار ایرا کے دفتر کے چکر لگائے لیکن ہر بار ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ جلد ہو جائے گا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں ہی کے ایک شخص خالد جو دو بچوں کے والد تھے گھر خالی کرنے کے نوٹس کے بعد مبینہ طور پر ذہنی دباؤ سے فوت ہو گئے ہیں۔ بکریال میں ترقیاتی کام کرنے والی نجی فرم ممتاز کنسٹرکشن کپمنی کے پروجیکٹ میجنر محمد خالد نے بتایا کہ جولائی دو ہزار سات سے اب تک تقریباً تیس فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ انھوں نے تین سالوں میں پانچ ہزار کنال پر ترقیاتی کام مکمل کرنا ہے۔
محمد خالد نے بتایا کہ مقامی لوگوں کا ایرا کے ساتھ آبائی گھروں کی جگہ پلاٹ حاصل کرنے کے بارے میں کوئی بات چیت چل رہی ہے لیکن اس سے ترقیاتی کام متاثر نہیں ہو رہا ہے۔ دوسری طرف بالاکوٹ میں زلزلے سے متاثرین کو سعودی عرب کی حکومت کی مالی امداد سے تیار کردہ دو کمروں پر مشتمل چار ہزار عارضی گھروں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ ان کے پیاروں کی یادیں اور کاروبار اس جگہ سے وابسطہ ہیں اس لیے نئے بالاکوٹ شہر میں بسنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ’اگر حکومت ہمارے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسی جگہ ہمیں بہتر رہائش گاہ تعمیر کر کے دے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||