BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 January, 2009, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اِسی عدالت کو قبول کرنا ہوگا‘

نواز شریف اور ان کی جماعت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں پر کئی بار عدم اعتماد ظاہر کر چکی ہے
شریف برادران کی انتخابی اہلیت کی سماعت کرنے والی عدالت کے ایک جج کا کہنا ہے کہ تین نومبر دو ہزار سات کے اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس روز کے بعد بننے والی عدالتوں کو ہر کسی کو قبول کرنا ہو گا۔

جسٹس شیخ حاکم علی نے یہ ریمارکس مسلم لیگ کے قائدین نواز اور شہباز شریف کی اہلیت کا دفاع کرنے والے وکلاء کے اس استدلال کے جواب میں دئیے جس میں اکرم شیخ اور اے کے ڈوگر ایڈووکیٹس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں پر مشتمل یہ عدالت ان کے مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتی۔

سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ فی الحال بنچ کی تبدیلی کے لئے دائر کردہ ان وکلاء کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

منگل کے روز جب ایک ہفتے بعد اس کیس کی دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو اس مقدمے کے ایک فریق کے وکیل احمد رضا قصوری نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

احمد رضا قصوری جب اس نکتے پر پہنچے کے انکے مخلاف وکلاء کی نئے بنچ کی تشکیل کی درخواست بے بنیاد ہے، تو جسٹس حاکم علی نے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ ہر ایک کو اسی عدالت کو قبول کرنا ہو گا کیونکہ تین نومبر کے بعد ججوں نے وہی حلف لیا ہے جو آئین میں درج ہے۔ اور حلف کے حوالے سے ججوں میں تفریق نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ تین نومبر کے روز کئے گئے اقدامات کو سپریم کورٹ کے ایک حکم کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہو چکا ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ پارلیمنٹ نے ابھی تک اس کی توثیق نہیں کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ اس کی توثیق کرتی ہے یا نہیں لیکن یہ عدالت ایک جائز عدالت ہے اور یہ بات ہر ایک کو تسلیم کرنی ہو گی۔

عدالت کے ان ریمارکس سے قبل عدالت کا ماحول گزشتہ کئی روز کی طرح آج بھی کشیدہ رہا۔

اس سے پہلے کئی روز تک شریف برادران کے حامی وکلاء عدالت کے سامنے یہ دلائل دیتے رہے کہ اس میں موجود جج صاحبان متعصب ہیں اور انصاف کے اہل نہیں ہیں۔

آج جب نواز شریف کے وکیل مخالف احمد رضا قصوری نے دلائل کا آغاز کیا تو انہوں نے شریف برادران کی ذات کے بارے میں ہتک آمیز باتیں کئیں جس پر نواز شریف کے حامی وکیل اے کے ڈوگر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فاضل وکیل کی گفتگو سے عدالت کا ماحول خراب ہو گا۔

اس پر بنچ کے سربراہ موسٰی لغاری نے کہا کہ آج آپ کو عدالت کے ماحول کا خیال آیا ہے۔ اتنے روز جو آپ یہاں باتیں کرتے رہے اس وقت آپ کو یہ خیال نہیں آیا۔

جسٹس موسٰی نے کہا کہ وہ اس طرح کی باتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے لیکن باقی وکلاء کو اپنی باری پر بھی عدالت کے ماحول کا خیال رکھنا چاہئے۔

اس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ وہ جو بھی باتیں عدالت کے سامنے کرتے ہیں، اپنے مؤکلوں سے ہدایات لے کر کرتے ہیں۔

اس موقع پر احمد رضا قصوری نے یہ نکتہ اٹھایا کہ اس مقدمے کے براہ راست فریق جو دو حضرات ہیں وہ میاں نواز اور شہباز شریف کے تجویز اور تائید کنندہ ہیں۔

قصوری نے کہا کہ یہ لوگ دراصل نواز شریف کے ’ایجنٹس‘ یا ’فرنٹ مین‘ ہیں اور ان کا اپنا کوئی مؤقف نہیں ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ وہ ان دونوں کو عدالت میں طلب کر کے پوچھیں گے کہ ان کے وکیل کیا جو کہ رہے ہیں، انہیں وہ سب کہنے کی ہدایت آپ نے دی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
شریف برادران کیس، سماعت کل
21 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد