’ڈکٹیٹر کے آئین پر حلف اٹھایا ہے ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ موجودہ عدلیہ کے تمام ججوں اور اراکین پارلیمان نے ڈکٹیٹر کے ترمیم شدہ آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ یہ بات شریف برداران کی انتخابی اہلیت کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت کے دوران تین رکنی بینچ کے رکن جسٹس شیخ حاکم علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہی۔ بدھ کے روز شریف برداران کی انتخابی اہلیت کے کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیر اعطم میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی درخواست پر دلائل دیے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تین رکنی بینچ کے دو جج صاحبان جسٹس موسٰی کے لغاری اور جسٹس سخی بخاری نے دو نومبر دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او پر حلف لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ججوں نے ایک آمر سے وفاداری کے لیے حلف اٹھایا اور بعد میں یہ دونوں جج صاحبان تئیس نومبر دو ہزار سات کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ میں شامل تھے جنہوں نے تین نومبر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ دو جج صاحبان کی جانبداری اور تعصب واضع ہے اس لیے وہ شریف برداران اہلیت کیس کی سماعت نہیں کر سکتے۔ اے کے ڈوگر کے دلائل پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے رکن جسٹس شیخ حاکم علی نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عدلیہ کے تمام ججوں اور اراکین پارلیمنٹ نے جنرل پرویز مشرف کے ترمیم شدہ آئین کی شق 770/AAA کے تحت حلف اٹھایا ہے اور موجودہ حکومت کے دور میں واپس آنے والے ججوں نے بھی اسی آئین کے تحت حلف لیا ہے۔
انہوں نے اے کے ڈوگر سے کہا آپ کھل کر بتائیں کہ سپریم کورٹ کے کن ججوں پر آپ کو تحفظات ہیں۔ اے کے ڈوگر نے جواب دیا کہ آپ ( جسٹس شیخ حاکم علی ) پر اعتراض نہیں کیونکہ آپ نے بیس فروری دو ہزار آٹھ کو حلف لیا تھا۔ تاہم موجودہ پانچ ججوں پر اعتراضات ہیں لیکن میں ان کے نام نہیں بتا سکتا۔ اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے اراکین سے حلف لینے سے پہلے کہا تھا کہ آئین میں جنرل مشرف کی ترمیم شدہ شق 770/AAA شامل نہیں ہے۔ اے کے ڈوگر کے دلائل جاری تھے کہ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس موسٰی کے لغاری نے سماعت کل (جمعرات) کو صبع ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی۔ اے کے ڈوگر نے عدالت سے درخواست کی کہ سماعت چند روز کے لیے ملتوی کی جائے تاہم تین رکنی بینچ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سماعت ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مدعا علیہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف برداران کے وکیل کو اگر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں پر اعتراضات ہیں تو انہیں بھی موجودہ دور حکومت میں دوبارہ حلف لینے والے ججوں پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے تین نومبر کو حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے جلسے جلوسوں پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور بعد میں حلف لینے والے جج سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے کندھوں پر بیٹھ کر سپریم کورٹ آئے ہیں۔ | اسی بارے میں شریف برادران کیس، سماعت کل21 January, 2009 | پاکستان مشیر داخلہ کی نواز شریف سے ملاقات 18 January, 2009 | پاکستان ’سترھویں ترمیم کا خاتمہ ضروری‘16 January, 2009 | پاکستان نواز اہلیت، لارجر بینچ کی درخواست14 January, 2009 | پاکستان نواز اہلیت’حکومتی سوچ تبدیل‘06 January, 2009 | پاکستان نواز شریف اور جان مکین کی ملاقات06 December, 2008 | پاکستان افغان مصالحت، نواز شریف کا کردار؟07 October, 2008 | پاکستان پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں: نواز شریف02 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||