عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | سنیچر کو نواز شریف اور جان مکین کی ملاقات |
سابق امریکی صدارتی امیدوار سینیٹر جان مکین اور مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں اس وقت کشیدگی ہے وہ نہ تو پاک بھارت اور نہ ہی عالمی امن کے مفاد میں ہے۔ یہ بات مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے سینیٹر جان مکین اور نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتائی۔ ان کے بقول ملاقات میں پاک-امریکہ تعلقات کے علاوہ ممبئبی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر بات کی گئی ہے۔ سینیٹر جان مکین نے سنیچر کو بھارت کے دورے کے بعد پاکستان پہنچے جہاں انہوں نے لاہور کے نواح میں نواز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چودھری نثار علی خان کے علاوہ دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ ملاقات کے بعد احسن اقبال نے بتایا کہ نواز شریف نے امریکی سینیٹر کو بتایا کہ پوری قوم نے بھارت میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے اور پاکستان خود بھی بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔  | | | ملاقات میں شہباز شریف بھی موجود تھے | ان کے بقول نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ بھارت کو بغیر ثبوت کوئی بات نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے جان میکن کو آگاہ کیا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ ملکر ملکی مفاد کے لیے کام کر رہی ہے اور اے پی سی کی صورت میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ نواز شریف نے امریکی سینیٹر کو بتایا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد دہشت گردی کے مقابلے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ہے۔ ملاقات میں نواز شریف نے جان مکین کے پاکستان کی خود مختاری کے بارے میں ان کلمات کی تعریف کی جو انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہے تھے۔ ان کے بقول جان مکین کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ ایک سوال پر احسن اقبال نے بتایا کہ ملاقات میں نواز شریف نے جان مکین کے ساتھ پاکستان میں امریکی فضائی حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ماضی میں پاکستان غیر جمہوری حکومتوں کی وجہ سے آج مسائل کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو پاکستان کی خود مختاری کا تحفظ اور اس کا احترام کرنا چاہئے تھا۔ |