BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2008, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں: نواز شریف

نواز شریف
جسٹس ڈوگر سے انصاف کرنے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے: نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کو پنجاب ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنی بیٹی کو اضافی نمبر دلواکر ہزاروں طلباء اور طالبات کی حق تلفی کرسکتا ہے اُس سے انصاف کی فراہمی کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نے عبدالحمید ڈوگر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے چیف جسٹس اگر مستعفی نہ ہوئے تو اُن کی جماعت وکلاء برادری کے ساتھ ملکر چیف جسٹس کے خلاف تحریک چلائیں گے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت اس واقعے میں فریق بننے کے بجائے اس کی آزادانہ تحقیقات کروائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے پریس سیکرٹری کو اُن کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی اجازت کے بغیر عبدالحمید ڈوگر سے ملاقات کی تھی۔

اُدھر تعلیم کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے کی تحقیقات تین ہفتوں میں مکمل کرکے کمیٹی کو رپورٹ دے۔

منگل کوپارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن روزینہ عالم کی سربراہی میں اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی طرف سے مبینہ طور پر دوبارہ جانچ پڑتال کی آّڑ میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے پر غور کیا گیا۔

میڈیا کو کمیٹی کے اجلاس کی کوریج سے روک دیا گیا۔ بعدازاں اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ جونہی یہ اجلاس شروع ہوا تو اٹارنی جنرل کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ چیف جسٹس کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کا معاملہ اب عدالت میں چلا گیا ہے اس لیے اس معاملے کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات نہیں ہوئیں اور وزیر تعلیم نے کیمٹی کو یقین دلایا ہے کہ اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہوں گی۔

روزینہ عالم نے کہا کہ اگر کمیٹی کے ارکان اس معاملے کی تحقیقات سے مطمعین نہ ہوئے تو کمیٹی اپنے طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے طلباء کا فیڈرل بورڈ اف ایجوکیشن سے اعتماد اُٹھ گیا ہے اور اس اعتماد کو بحال کرنا بہت ضروری ہے۔

واضح رہے کہ تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے پر کمیٹی کے چیئرمین عابد شیر علی جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے ہے اور تعلیم کے وزیر مملکت غلام فرید کاٹھیا کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تھی جس کے بعد حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا

اسی بارے میں
یہ سب ممکن تھا!
27 November, 2008 | پاکستان
’چیف جسٹس مستعفی ہو جائیں‘
26 November, 2008 | پاکستان
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد