BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 November, 2008, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیٹی کا داخلہ، کمیٹی کا بائیکاٹ

قومی اسمبلی(فائل فوٹو)
آئین نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی متعلقہ شخص کو بُلا کر اُن سے پوچھ سکتے ہیں: سربراہ قائمہ کمیٹی
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو ایف ایس سی کے امتحان میں مبینہ طور پر اضافی نمبر دیکر میڈیکل کالج میں داخلے کے معاملے پر حکومت نے تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔

تعلیم کے وزیر مملکت غلام فرید کاٹھیا اور اس کمیٹی میں شامل حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بیٹی کو پرچوں کی ری چیکنگ پر اضافی نمبر دینے کا معاملہ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔

تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ عابد شیر علی کی صدارت میں جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا تو تعلیم کے وزیر مملکت غلام فرید کاٹھیا نے کہا کہ کمیٹی کے سربراہ کو متعلقہ وزیر کے ساتھ مشاورت کے بعد کمیٹی کے ایجنڈے کو تشکیل دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم اور فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کے متعلقہ افسران چیف جسٹس کی بیٹی کو مبینہ طور پر اضافی نمبر دینے کے معاملے پر کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دے سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ کارروائی میڈیا پر نہ آئے۔

میڈیا پر کارروائی
 کمیٹی کے سربراہ کو متعلقہ وزیر کے ساتھ مشاورت کے بعد کمیٹی کے ایجنڈے کو تشکیل دینا چاہیے۔ وزارت تعلیم اور فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کے متعلقہ افسران چیف جسٹس کی بیٹی کو مبینہ طور پر اضافی نمبر دینے کے معاملے پر کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دے سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ کارروائی میڈیا پر نہ آئے
وزیر تعلیم
کمیٹی کے سربراہ جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے ہے کہا کہ یہ ایک قومی معاملہ ہے اس لیے عوام کو اس سے آگاہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کو ایف ایس سی کے امتحان میں پرچوں کی دی چیکنگ کی آڑ میں اضافی نمبر دے کر ہزاروں مستحق طلباء کی حق تلفی کی گئی ہے۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران وزیر مملکت اور کمیٹی کے چیئرمین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

عابد شیر علی نے فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی سربراہ شاہین خان سے کہا کہ وہ اس کی تفصیلات بتائیں کہ مذکورہ طلبہ کو اضافی نمبر کیوں دیئے گئے جس پر انہوں نے کہا کہ جب تک وزیر تعلیم اُنہیں ہدایات نہیں دیں گے وہ اس وقت تک اس معاملے پر کچھ نہیں کہہ سکتی۔

کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اُنہیں آئین نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی متعلقہ شخص کو بُلا کر اُن سے پوچھ سکتے ہیں۔

کمیٹی کی کارروائی کے دوران غلام فرید کاٹھیا مسلسل بولتے رہے جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر مملکت حکومت سے ڈکٹیشن لے کر آئے ہیں کہ قائمہ کمیٹی کی کارروائی نہ چلنے دی جائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت بدعنوان افراد کو تحفظ دے رہی ہے۔
عابد شیر علی نے دعویٰ کیا کہ اُنہیں فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی سربراہ نے فون کیا تھا کہ وہ چیف جسٹس کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے میں ملوث نہیں ہیں بلکہ بورڈ کے سابق سربراہ اس میں ملوث ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کا مؤقف
 چیف جسٹس کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کو ایف ایس سی کے امتحان میں پرچوں کی دی چیکنگ کی آڑ میں اضافی نمبر دے کر ہزاروں مستحق طلباء کی حق تلفی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی معاملہ ہے اس لیے عوام کو اس سے آگاہ ہونا چاہیے۔
جو بھی افسر اپنے اختیارات سے تجاوز کرے تو اُس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل مقامی میڈیا میں خبر نمایاں طور پر چھپی تھی کہ اعلیٰ عدالتی فیصلوں اور بورڈ کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف جسٹس عبدالحمیدڈوگر کی بیٹی کو اکیس اضافی نمبردلوائےگئے ہیں۔

خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد بورڈ نے معمول سے ہٹ کر جوابی پرچوں کی دوبارہ چیکنگ کی اور چیف جسٹس کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کے نتیجے میں حاصل کردہ کل نمبروں میں مزید اکیس نمبروں کا اضافہ کر کے انھیں ملک کے کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلے کی درخواست دینے کے اہل بنا دیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن سے جاری ہونے والے بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جوابی امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ نے وزیر مملکت کی طرف سے احتجاج کے باوجود جب کارروائی جاری رکھی تو تعلیم کے وزیر مملکت غلام فرید کاٹھیا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے ارکان اور وزارت تعلیم کے افسران کمیٹی کے اجلاس سے بائیکاٹ کر گئے۔تاہم اس کے باوجود کمیٹی کے سربراہ نے اجلاس کی کارروائی جاری رکھی۔

کمیٹی کی رکن تسنیم صدیقی نے کہا کہ قانون کے مطابق پرچوں کی دوبارہ چیکنگ میں صرف نمبروں کی گنتی دوبارہ کی جاتی ہے یہ نہیں ہوتا کہ پرچے دوبارہ چیک کر کے اُنہیں نمبر دیئے جائیں۔ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو دوبارہ ہوگا۔

معزول ججوں کی بحالی کی تحریک سے وابستہ وکلاء اس معاملے میں اختیارات سے تجاوز کرنے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد