’چیف جسٹس مستعفی ہو جائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے کہا ہے کہ صرف چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کے ہی نہیں بلکہ قواعد کے مطابق دیگر دو سو ایک طلباء کے امتحانی نتائج میں نظر ثانی کے بعد نمبروں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ منگل کی رات گئے فیڈرل بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلز میں پاکستان کے دو بڑے اخبارات جنگ اور دی نیوز پر چھپنے والی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہائر سکینڈری سکول سرٹیفیکیٹ پارٹ ٹو دو ہزار آٹھ کے نتائج کے بعد بورڈ کو ایک ہزار ترانوے امیدواروں کی طرف سے جوابی امتحانی پرچوں پر نظر ثانی ( ری چیک) کرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی۔ بورڈ کے بیان کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح حمید ڈوگر ان دو سو ایک طلباء کی فہرست میں شامل تھی جن کے جوابی امتحانی پرچوں پر دوبارہ سے نظر ثانی کی درخواست منظور کی گئی تھی۔ اور جوابی امتحانی پیپرز کو ری چیک کرنے کے بعد حاصل کردہ حتمی نمبرز کی دستاویز جاری کر دی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ منگل کے روز پاکستان میں اردو کے ایک بڑے اخبار جنگ اور انگریزی اخبار دی نیوز میں خبر نمایاں طور پر چھپی تھی کہ اعلی عدالتی فیصلوں اور بورڈ کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اکیس اضافی نبمر دلوائے گئے ہیں ۔ خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد بورڈ نے معمول سے ہٹ کر جوابی پرچوں کی دوبارہ چیکنگ کی اور چیف جسٹس کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کے نتیجے میں حاصل کردہ کل نمبروں میں مزید اکیس نمبروں کا اضافہ کر کے انھیں ملک کے کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلے کی درخواست دینے کے اہل بنا دیا ہے ۔ فیڈرل بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن سے جاری ہونے والے بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جوابی امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ دو اخبارات میں شائع ہونے والی خبر منگل کے روز پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر نشر ہوتی رہی ہے جبکہ قومی اسمبلی میں حکومت مخالف جماعت مسلم لیگ نواز نے بیان دیا ہے کہ چیف جسٹس عبالحید ڈوگر اپنے عہدے سے فوری مستعفی ہو جانا چاہیے۔ یاد رہےکہ گزشتہ سال نو مارچ کو سابقِ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے جسٹس افتخار محمد چودھری پر الزام لگاتے ہوئے انھیں معطل کردیا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو میڈیکل کالج میں داخلہ دلانےسے لے کر پولیس میں بھرتی کرانے تک اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ | اسی بارے میں جسٹس عبد الحمید ڈوگر کون؟ 03 November, 2007 | پاکستان جسٹس ڈوگر کی آمد پر احتجاج18 July, 2008 | پاکستان ڈوگر کو نہ بلائیں: اعتزاز کی اپیل09 July, 2008 | پاکستان ’پارلیمنٹ کونہیں روکا جا سکتا‘18 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||