BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2009, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سترھویں ترمیم کا خاتمہ ضروری‘

نواز شریف
’جن کی اپنی اہلیت متنازعہ ہو وہ کسی اور کی اہلیت کا فیصلہ کیا کرسکیں گے۔ میرے منصف عوام ہیں‘
حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ سترہویں آئینی ترمیم کے خاتمے میں تاخیر ان کے لیے ناقابل قبول ہوگی۔

اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے اور مزید تاخیر سے بدگمانیاں اور انتشار بڑھے گا۔

مسلم لیگ کی جانب سے مجوزہ بل کا مسودہ کل حکمراں جماعت کے رہنماؤں کو پیش کیا گیا تھا۔ ’ہمارا ترمیمی بل کا مسودہ غیرمتنازعہ ہے تاکہ سترہویں آئینی ترمیم کی منسوخی میں دیر نہ ہو۔ اتفاق رائے کی گنجائش نہیں یہ ترمیم تو میثاق جمہوریت کا پہلا نکتہ تھی۔ نہ تو بینظیر بھٹو کی سیاسی وصیت ہے۔ یہ بل دو سو فیصد میثاق جمہوریت پر مبنی ہے۔‘

’غیرمتنازعہ مسودہ‘
 ہمارا ترمیمی بل کا مسودہ غیرمتنازعہ ہے تاکہ سترہویں آئینی ترمیم کی منسوخی میں دیر نہ ہو۔ اتفاق رائے کی گنجائش نہیں یہ ترمیم تو میثاق جمہوریت کا پہلا نکتہ تھی۔ نہ تو بینظیر بھٹو کی سیاسی وصیت ہے۔ یہ بل دو سو فیصد میثاق جمہوریت پر مبنی ہے
نواز شریف
نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرری کی اہلیت سے متعلق بھی ایک بل جلد تیار کرے گی۔ انہوں نے حکومت سے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی یکطرفہ تقرریوں نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے وکلاء کی جانب سے نو مارچ کو آزادی عدلیہ کے لیے مارچ کی حمایت کا اعلان دوبارہ کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا عزم کیا۔ ’مسلم لیگ پہلے دن سے اس تحریک میں ہراول دستے کے طور پر متحرک رہی ہے اور آئندہ بھی یہ کردار ادا کرتی رہے گی۔‘

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کے ہمراہ اس اخباری کانفرنس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خاں، اسحاق ڈار اور احسن اقبال بھی موجود تھے۔

نواز شریف نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں لوگوں نے تبدیلی اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے ووٹ دیا تھا۔ ’آج پارلیمان ناتواں اور عدلیہ عوام کے اعتماد سے محروم ہو چکی ہے۔ ملک میں خوشحالی کے خواب ادھورے رہ گئے ہیں۔‘

سپریم کورٹ میں ان کی نااہلیت سے متعلق جاری سماعت کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ آمریت کی باقیات کو ہٹانے کے لیے انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے تو وہ انہیں قبول ہوگا۔’میں ایک نشست کے لیے سولہ کروڑ عوام کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گا۔جن کی اپنی اہلیت متنازعہ ہو وہ کسی اور کی اہلیت کا فیصلہ کیا کرسکیں گے۔ میرے منصف عوام ہیں۔‘

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور بھارتی ہائی کمشنر سے آج ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت سے زیادہ سنجیدگی کا ثبوت دینے کا تقاضہ کیا ہے۔ ’دونوں پوائنٹ سکورنگ کی بجائے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات کریں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد