نواز اہلیت’حکومتی سوچ تبدیل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ کے وکلاء نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر نواز شریف کی اہلیت کے بارے میں اپنے موقف سے ہٹ جانے کا الزام عائد کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں نواز شریف کی اہلیت کے بارے میں درخِواستوں کی سماعت کے دوران معروف وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت ان کی حمایت نہیں کر رہی ہے۔ اکرم شیخ نواز شریف کے تجویز کندہ کی سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ منگل کو میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں درخواستوں پر جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے دوران اکرم شیخ نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ان درخواستوں کے متعلق اپنے موقف سے ہٹ گئی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں تھیں تو اُس وقت وفاق نے پُر زور انداز میں کہا کہ حکومت میاں نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب میاں نواز شریف کی جماعت حکمراں اتحاد سے علیحیدہ ہوئی تو اُس کے بعد حکومت کی طرف سے ان درخواستوں کے حوالے سے موقف میں تبدیلی آتی گئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل آغا طارق کا کہنا ہے کہ حکومت نے درخواستوں کے بارے میں اس لیے اپیل دائر کی ہے کیونکہ اُنہیں ان درخواستوں میں فریق بنایا گیا ہے۔
سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس موسیٰ کے لغاری نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اُن کے پاس کوئی ایسی دستاویزات ہیں جس میں میاں نواز شریف کی سزا اُس وقت کے صدر نے ائین کے ارٹیکل 45 کے تحت صوابدیدی اختیارات کے تحت معاف کر دی تھی۔ جواب میں ڈپپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان دستاویزات کے بارے میں اُنہیں عدالت عالیہ یا سپریم کورٹ سے کوئی ہدایت نہیں ملی۔ واضح رہے کہ میاں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے معاملے میں سزا دی گئی تھی اور اُنہیں 21 سال تک انتخابات میں حصہ لینے سے نا اہل قرار دے دیا تھا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ریٹرنگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھیں جس میں انہوں نے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی قبول کر لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان درخواستوں میں نہ کسی کی حمایت کرتی ہے اور نہ مخالفت اور عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی حکومت اُسے تسلیم کرے گی۔ اکرم شیخ نے کہا کہ آئین کے ارٹیکل 225 کے تحت لاہور ہائی کورٹ کو نواز شریف کی اہلیت کے بارے میں درخواستوں کی سماعت کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ میں کوئی ایسے ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے گئے جس پر عدالت میاں نواز شریف کو ضمنی انتخانات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کے حوالے سے انہیں وفاقی حکومت کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ضمنی انتخاب میں نواز شریف کے تائید کندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ نواز شریف کی اہلیت کا معاملہ ایک اہم قومی نوعیت کا حامل ہے لہذا اُنہیں دلائل دینے کا پورا موقع فراہم کا جائے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت چودہ جنوری تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے نور الہی کی درخواست پر نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ جس کے خلاف نواز شریف کے تجویز کندہ اور تائید کندہ نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں جس پر سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کے فیصلے تک قومی اسمبلی کے حلقے 123 میں ضمنی انتخابات ملتوی کر دیئے تھے۔ قومی اسمبلی کے اس حلقے سے میاں نواز شریف انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ | اسی بارے میں ’نواز کوانتخاب لڑنے دیا جائے‘13 August, 2008 | پاکستان انتخابی اہلیت کیس کی سماعت ملتوی14 July, 2008 | پاکستان نوازشریف: نااہلی کی سماعت ملتوی30 June, 2008 | پاکستان ’جج بحال ہونگے، وقت معلوم نہیں‘20 June, 2008 | پاکستان حلقہ 123 میں انتخابات ملتوی25 June, 2008 | پاکستان ’خاموش رہے تو فیصلہ حق میں‘17 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||