BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 December, 2008, 10:57 GMT 15:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خاموش رہے تو فیصلہ حق میں‘

نواز اور آصف
حکومت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی پشت پناہی چھوڑ دے: نواز

پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور ان کی بیٹی کے معاملے پر خاموش رہیں تو ان کی اور شہباز شریف کے بارے میں زیر سماعت دائر درخواستوں کا فیصلہ اُن کے حق میں کر دیا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو پنجاب ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اُنہیں ایک شخصیت کی طرف سے پیغام ملا تھا کہ وہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے مستعفی ہونے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں تو سپریم کورٹ میں اُن کے اور وزیر اعلٰی پنجاب کے بارے میں زیر سماعت دائر درخواستوں کافیصلہ اُن کے حق میں کر دیا جائے گا۔

تاہم میاں نواز شریف نے اُس شخصیت کا نام نہیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پیغام بھجوانے والے اور پیغام لانے والے کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ وہ کیا پیغام بھجوا اور لا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اُن کی جماعت سابق صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات کو نہیں مانتی اور اُنہی اقدامات کی وجہ سے عبدالحمید ڈوگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی پشت پناہی چھوڑ دے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے خلاف میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جبکہ عدالت نے وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کا معاملہ الیکشن کمیمشن کو بھجوا دیا ہے۔

 سپریم کورٹ کے اُس جج کو بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے جنہوں نے فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کے معاملے کی تحقیقات کو روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا تھا۔
نواز شریف

میاں نواز شریف نے کہا کہ اُن کی جماعت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان اور سینیٹ میں اسحاق ڈار کی سربراہی میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو اُٹھائی گی۔

انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے اپنی بیٹی کے نمبر بڑھا کر ملک میں سب سے بڑی ناانصافی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے اور عدالت کو اس کی کارروائی میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بحثیت فرح حمید ڈوگر کے والد کے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں پیش ہونے کا فیصلہ کمیٹی کے چیئرمین کریں گے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اُس جج کو بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے جنہوں نے فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کے معاملے کی تحقیقات کو روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا تھا۔

 بھارتی طیاروں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بارے میں وضاحت بھارت کی طرف سے آنی چاہیے تھی لیکن پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے یہ ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی
نواز شریف

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ اعلٰی عدالتوں میں جو جج مقرر کیے جا رہے ہیں وہ میثاق جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو کسی بھی سیاسی پارٹی کی واسبتگی سے بالاتر ہونا چاہیے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد حکومت تو تبدیل ہوگئی لیکن آئین وہی موجود ہے جو کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس آئین میں سترھویں ترمیم بھی موجود ہے جس کے خاتمے کا ذکر میثاق جمہوریت میں ہے اور صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں بھی اس ترمیم کے خاتمے کے لیے دستخط موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس سیاسی جماعتوں نے سترھویں ترمیم پاس کروائی تھی اُنہوں نے بھی اس پر قوم سے معافی مانگی تھی اور وہ بھی اس ترمیم کے خاتمے کے حق میں ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نے کہا کہ موجودہ حکمراں جماعت میثاق جمہورت پر عملدرآمد نہیں کر رہی اور وہ حکومت کو ان وعدوں کے بارے میں یادہانی کرواتے رہیں گے۔

بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں اور دونوں مملک کو مل کر اُن عناصر کا سراغ لگانا چاہیے جو ایسے واقعات میں ملوث ہیں۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جاکر جلدبازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو پاکستانی سیاسی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے تھا۔

بھارتی جنگی طیاروں کی طرف سے پاکستانی فصائی حدود کی خلاف ورزی کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ ان طیاروں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بارے میں وضاحت بھارت کی طرف سے آنی چاہیے تھی لیکن پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے یہ ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی۔

اسی بارے میں
’چیف جسٹس مستعفی ہو جائیں‘
26 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد