BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قائمہ کمیٹی: حکم کے باوجود بحث

جنرل مشرف، حمید ڈوگر
قائمہ کمیٹی کو کارروائی سے روکنے کا حکم پارلیمنٹ کی بالادستی پر قدغن لگانے کی کوشش ہے: چودہری نثار
قومی اسمبلی نے سپریم کوٹ کے حکم کے باوجود چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دئیے جانے کے معاملے کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زیربحث لانے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کو چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو فیڈرل بورڈ کی جانب سے بیس اضافی نمبر دئیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کرنے سے روک دیا تھا۔

سوموار کے روز جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اس معاملے کو ایوان میں زیربحث لاتے ہوئے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو کارروائی سے روکنے کا حکم جاری کر کے پارلیمنٹ کی بالادستی پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ جسٹس ڈوگر کے ایک ذاتی فعل کو تحفظ دینے کی خاطر پارلیمنٹ کی بالادستی کو مجروح کرنے کی اس کوشش کی مزاحمت کی جائے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ عدالت کا یہ حکم پارلیمنٹ کی بالادستی کے خلاف ہے لہذا اس مسترد کر کے قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ کوئی فوجی جرنیل ہو یا سپریم کورٹ کا جج، کسی کو بھی پارلیمنٹ کا اختیار غصب کرنے کی جازت نہیں دی جا سکتی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی خان اور پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاؤ گرپ کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بھی اس مطالبے کی حمایت جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے اسکی مخالفت کی۔

اسفدر یارولی نے کہا کہ اگر کوئی فرد واحد ذاتی مفاد کی خاطر کوئی کام کر رہا ہے تو پارلیمنٹ کو اس میں فریق نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی پارلیمان کا حصہ ہے اور اسے کام کرنے سے روکنا پارلیمنٹ کا اختیار کم کرنے کے مترداف ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلانے کی مخالفت نہیں کی اور قومی اسمبلی کو یقین دلایا کہ حزب اختلاف کے مشورے سے بہت جلد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس بلا کر اس مسئلے پر بحث کی جائیگی۔

سپیکر سومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے بھی اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں ہے پارلیمنٹ ہی ملک کا بالادست ترین ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ آئین ہر چیز سے بالاتر ہے اور یہ آئین پارلیمنٹ بناتی ہے لہذا کسی کو اسکی بالادستی کے بارے میں شک نہیں ہونا چاہئے۔

اسی بارے میں
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد