BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 December, 2008, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرح ڈوگر، سپیکر اسمبلی سے مطالبہ

 نواز شریف
پارلیمنٹ ایک خودمختار ادارہ ہے: نواز شریف
مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے قومی اسمبلی کی سپیکر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو چیف جسٹس کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے پر کارروائی سے روکنے کا سخت نوٹس لیں اور اس فیصلے کو منسوخ کریں۔

رائے ونڈ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک خود مختار ادارہ ہے اور ملک کے سولہ کروڑ عوام کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے ہر مسئلہ پر بچث کرکے اس کو حل کرے۔

سابق وزیر اعظم نے حیرت کا اظہار کیا کہ کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کا معاملہ پر ہر گھر، ہر گلی اور ہر محفل اور مجلس میں تو بحث ہو رہی ہے لیکن کیا صرف پارلیمنٹ ہی اس پر بحث نہیں کرسکتی۔

سابق وزیر اعظم نے سپیکر قومی اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے یہ واضح کریں کہ پارلیمنٹ کی خود مختاری کو کسی طور بھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ بڑی قربانیوں کے بعد وجود میں آئی ہے اور اس ادارے کی خود مختاری کے لیے میں نے جلاوطنی کاٹی اور اس ادارے کو مضبوط بنانے کے لیے بینظیر بھٹو کے ساتھ ملکر می میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔

نواز شریف نے کہا کہ اتنی مشکلات کا سامنا اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ آج سب لوگ بے بس ہو جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب بے بسی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا اور نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے ۔

آج کا دور مشرف دور کا تسلسل ہے: نواز شریف
نواز شریف نے خبردار کیا کہ جو بھی پارلیمنٹ کی خود مختاری کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا اس کو راستے سے ہٹا دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو تو اضافی اکیس نمبر دیے گئے لیکن غریب آدمی کی بچی کو اکیس نمبر کون دے گا۔ ان کے بقول ایسے بے شمار لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو صرف ایک نمبر کم ہونے کی وجہ سے میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں لے سکے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ کو فرض نہیں بنتا کہ محکمۂ تعلیم اور تعلیمی بورڈ نے جو لاقانونیت اور ناانصافی کا مظاہرہ کیا ہے اس کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نےسوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ کے پاس محکمۂ تعلیم کے ان افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے جنہوں نے یہ جرم کیا ہے۔

ان کے بقول دیگر ملکوں میں جج پارلیمنٹ کے سامنے پیش بھی ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ نے ججوں کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔

نواز شریف کے بقول جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینا کا معاملہ سپریم کورٹ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی ذات کا معاملہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جسٹس ڈوگر نے اس درخواست کی سماعت کے لیے ابتدائی کارروائی کی جس میں وہ خود فریق تھے اور یہ روش درست نہیں ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی خودمختاری کو پاکستانی عوام کا حق سمجھتا ہوں اور اٹھارہ فروری کو قوم نے اس پارلیمنٹ کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ان کے بقول پارلیمنٹ کی خود مختاری ہم پر پاکستانی قوم کا قرض ہے اور یہ حق پاکستانی عوام کو ضرور ملنا چاہئے۔

نواز شریف نے افسوس ظاہر کیا کہ اٹھارہ فروری کے انتخابی نتائج کے بعد نیا سورج طلوع ہونا چاہئے تھا جو آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کا پیغام لے آتا لیکن ان کے بقول عوام کے تمام خواب ادھورے رہ گئے ہیں اور آج کا دور مشرف دور کا تسلسل ہے۔

اسی بارے میں
جسٹس ڈوگر کے خلاف درخواست
06 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد