نمبروں میں اضافہ، حکومت سے جواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی صاحبزادی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے پر دائر درخواست پر وزارت تعلیم اور وفاقی تعلیمی بورڈ سمیت متعلقہ افراد سے جواب طلب کر لیا ہے۔ بدھ کو افتخار حسین راجپوت کی طرف سے دائر کی جائے والی درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے کی۔ اس درخواست میں بارہ افراد کو فریق بنایا گیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی اہلیہ اور اُن کی بیٹی بھی شامل ہے۔ اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل جاوید اقبال جعفری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے جو 21 نمبر اضافی دیئے گئے ہیں اُن کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ کی طرف سے ری چیکنگ کی آڑ میں جو اضافی نمبر دیئے گئے ہیں اس کی وجہ سے ہزاروں طلباء اور طالبات میڈیکل کالج میں داخلے سے محروم ہوگئے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینا غیر قانونی ہے اور یہ غیر قانونی اقدام کرنے پر اُن پر کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلے پر پانچ سال کی پابندی عائد کی جائے۔ چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسی نوعیت ایک اور درخواست بھی عدالت میں دائر کی گئی ہے جس کی سماعت آئندہ چند روز میں ہوگی اور ان دونوں کی درخواست کو یکجا کیا جائے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ چونکہ ملک سے باہر جا رہے ہیں اس لیے اس درخواست کی سماعت علیحدہ کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست میں بنائے گئے 12 افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔ واضح رہے کہ تعلیم کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے معاملے پر وزارت تعلیم اور وفاقی تعلیمی بورڈ سے تین ہفتوں کے دوران جواب طلب کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس بھی بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو رہا ہےجس میں پاکستان کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلے کے سلسلے میں اضافی نمبر دینے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔ اس کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے دوران کمیٹی کےچیئرمین عابد شیر علی اور تعلیم کے وزیر مملکت غلام فرید کاٹھیا کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی تھی جس کے بعد وزیر مملکت اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے ارکان نے اس اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ | اسی بارے میں عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ30 October, 2008 | پاکستان ’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘26 September, 2008 | پاکستان اختلافات ختم کرنے کے لیے کمیٹی22 November, 2008 | پاکستان سترہ رکنی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل10 November, 2008 | پاکستان سات کمیٹیاں، پی ایم ایل ن کے سپرد23 October, 2008 | پاکستان قرارداد کی منظوری کے لیے کمیٹی 21 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||