امتحانی پرچے سِیل کرنے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کے امتحانی پرچوں کا ریکارڈ سیل کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ جمعہ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کو میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ری چیکنگ کی آڑ میں اضافی نمبر دینے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے اس درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار اعظم سلطانپوری نے عدالت سے استدعا کی کہ وفاقی تعلیمی بورڈ فرح حمید ڈوگر کے امتحانی پرچوں کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔ عدالت کے حکم پر وفاقی تعلیمی بورڈ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کے امتحانی پرچوں کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی بیٹی کا ہے اس لیے اُنہیں خطرہ ہے کہ اس امتحانی ریکارڈ میں رد و بدل نہ کیا جائے۔
اُدھر سپریم کورٹ کی طرف سے فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کے معاملے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کیٹی کو تحقیقات سے روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کرنے کے باوجود کمیٹی کے چیئرمین عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ وہ کمیٹی کی کارروائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی کمیٹی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے پیشہ ورانہ امور کو زیر بحث نہیں لا رہی بلکہ انہوں نے جو اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے اپنی بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے اُس کے نمبر بڑھوائے ہیں، اُس کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نزہت صادق کی سربراہی میں بنائی جانے والی سب کمیٹی اس واقعہ کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے گی۔ تعلیم کے بارے میں قومی امسبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کمیٹی کا اجلاس 15 دسمبر کو طلب کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی تعلیمی بورڈ کے سابق چیئرمین شمشاد بیگ نے جمعرات کو تعلیم کے بارے میں قومی امسبلی کی قائمہ کمیٹی کو فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کی تحقیقات سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی درخواست دی تھی جسے عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے اور عدالت اُن کو کارروائی کرنے سے نہیں روک سکتی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں حکومت کا یہ موقف ہے کہ چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے قائمہ کمیٹی اس پر کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ | اسی بارے میں ’پارلیمانی کمیٹی تحقیقات روک دے‘04 December, 2008 | پاکستان عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ30 October, 2008 | پاکستان ’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘26 September, 2008 | پاکستان اختلافات ختم کرنے کے لیے کمیٹی22 November, 2008 | پاکستان سترہ رکنی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل10 November, 2008 | پاکستان سات کمیٹیاں، پی ایم ایل ن کے سپرد23 October, 2008 | پاکستان قرارداد کی منظوری کے لیے کمیٹی 21 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||