بیٹی کا داخلہ، استعفے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دیکر میڈیکل کالج میں داخلے کے معاملے پر قرارداد مذمت منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا پہلا باضابطہ اجلاس جمعہ کے روز بار کے صدر علی احمد کُرد کی صدارت میں سپریم کورٹ کی عمارت میں ہوا۔ اس اجلاس میں ایسوسی ایشن کے ارکان نےچیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کو امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کی آڑ میں اکیس نمبر اضافی دینے کے بارے میں ایک مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعہ کی چھان بین کر کے اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ چیف جسٹس کی بیٹی کو اضافی نمبر دیکر ہزاروں مستحق طلباء کو اُن کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے اُن ارکان کے خلاف بھی مذمتی قرارداد پاس کی گئی جو معزول ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے حوالے سے وکلاء تحریک کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ اگر معزول ججز عید الضحٰی تک بحال نہ ہوئے تو ان ججوں کی بحالی کے سلسلے میں وکلاء بھرپور تحریک چلائیں گے۔ | اسی بارے میں یہ سب ممکن تھا!27 November, 2008 | پاکستان بیٹی کا داخلہ، کمیٹی کا بائیکاٹ27 November, 2008 | پاکستان ’چیف جسٹس مستعفی ہو جائیں‘26 November, 2008 | پاکستان عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ30 October, 2008 | پاکستان ’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘26 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||