BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 August, 2008, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز کوانتخاب لڑنے دیا جائے‘

نواز شریف
لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کے خلاف جو درخواستیں دائر کی گئیں تھیں اُس میں بھی نواز شریف پیش نہیں ہوئے
سپریم کورٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا عدالت میں پیش نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے۔

اسی دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ نواز شریف دو بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ بعد میں ان کے دلائل بھی سنے جائیں گے۔

بدھ کے روز جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

حلقہ این اے 123 سے ضمنی انتخابات کے امیدوار نورالہی کے وکیل ڈاکٹر محی الدین قاضی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں اُن کے مؤکل اور ایک شہری خرم شاہ نے نواز شریف کی اہلیت کے بارے میں درخواستیں دائر کی تھیں اور ان درخواستوں میں وفاق اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے صرف میاں نواز شریف متاثر ہوئے ہیں۔

ضمنی انتخابات
 سپریم کورٹ نےلاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر فیصلے تک قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 123 میں ضمنی انتخاب ملتوی کردیے تھے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ان درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے میاں نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر محی الدین قاضی نے کہا کہ اس فیصلے سے دوسرے فریق متاثر نہیں ہوئے اس لیے وفاقی حکومت کو لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وفاق کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر ہونے والی یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے لہذا اس کو خارج کر دیا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ میاں نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں متعدد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں جس کےبعد بینچ کے سربراہ جسٹس موسیٰ کے لغاری نے کہا کہ پہلے اُن افراد کے وکلاء کو سنا جائے جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے نواز شریف کی اہلیت کے خلاف اعتراضات اُٹھائے تھے۔

ڈاکٹر محی الدین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق صدر مملکت کو سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انہیں سزا ہوئی ہی نہیں۔

’سزا ہوئی تھی‘
آئین کے مطابق صدر مملکت کو سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انہیں سزا ہوئی ہی نہیں
ڈاکٹر محی الدین قاضی
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نہ صرف سزا یافتہ ہیں بلکہ مختلف مالیاتی اداروں کے نادہندہ بھی ہیں۔

مدعا علیہ نور الہی کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے نواز شریف کے وکیلوں سے متعدد بار کہا کہ وہ ایسی دستاویز دکھائیں جس میں صدر نے اُن کے مؤکل کی سزا کو معاف کر دیا ہو لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کے خلاف جو درخواستیں دائر کی گئیں تھیں ان پر کارروائی میں بھی نواز شریف پیش نہیں ہوئے جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بھی نواز شریف سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست میں یہ معاملہ اُٹھایا گیا ہے کہ آئین کی دفعہ 225 کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کو ان درخواستوں کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمٰن نے کہا کہ نواز شریف اس ملک کے دو مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں لہذا اُنہیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ جسٹس موسیٰ کے لغاری نے کہا کہ عدالت اُن کے دلائل بھی سُنے گی بعد ازاں عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت 26 اگست تک ملتوی کر دی۔

آئندہ سماعت پر ایک اور درخواست گزار خرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری دلائل دیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نےلاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر فیصلے تک قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 123 میں ضمنی انتخاب ملتوی کردیے تھے۔

زرداری، نوازکون کیا سوچتا ہے؟
حکمران اتحاد میں اختلافات کی حقیقت
نواز شریفخصوصی انٹرویو
اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان
نواز اور آصفحکومت سازی
پی پی پی اور مسلم لیگ نواز کی مشکلات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد