نواز اہلیت، لارجر بینچ کی درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواز شریف کے تجویز کنندہ کے وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے جج صاحبان ان درخواستوں کے بارے میں ہونے والے فیصلوں کا حصہ نہ بنیں۔ یہ بات انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کہی۔ میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست دی ہے۔ اس درخواست میں سپریم کورٹ کے اُن جج صاحبان کو شامل کرنے کی استدعا کی گئی ہے جنہوں نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف نہیں اُٹھایا تھا۔ بدھ کے روز جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال کے وکیل اکرم شیخ نے لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے دائر درخواست کے بارے میں دلائل دیے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کو ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے اس لیے روک دیا گیا کیونکہ اُنہوں نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اُن کے مؤکل کے رہنما متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد تشکیل پانے والی سپریم کورٹ کو نہیں مانتے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب کسی جج پر کسی فریق کا اعتماد اُٹھ جائے تو اُس کو خود بخود اُس بینچ سے علیحدہ ہوجانا چاہیے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ اُن کا مقصد کسی جج کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ اس سے عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس لارجر بینچ میں اُن جج صاحبان کو شامل کیا جائے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت چار جج صاحبان ہیں جنہوں نے تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا تھا بعدازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد اُنہوں نے دوبارہ حلف اُٹھایا ہے۔ ان میں جسٹس سردار رضا خان، جسٹس میاں شاکراللہ جان، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس تصدق حسین جیلانی شامل ہیں۔ جسٹس جمشید علی نے بھی دوبارہ حلف لیا تھا اور وہ ایک ماہ کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔ جسٹس سردار رضا خان موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج ہیں۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ وہ لارجر بینچ کی تشکیل کی درخواست اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججز اگر اس درخواست کے حوالے سے فیصلہ اُن کے حق میں بھی کریں تب بھی لوگوں کے ذہنوں میں شکوک وشہبات جنم لیتے رہیں گے۔ سماعت کے دوران بینچ میں شامل جج شیخ حاکم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کلائینٹ کی مرضی سے بینچ تشکیل نہیں دیا جاسکتا اُسی طرح بینچ بھی کسی مخصوص مقدمے کو سُننے کا مجاز نہیں ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس موسیٰ کے لغاری نے اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے مؤکل نے ان پی سی او ججز کو تسلیم کرتے ہوئے انصاف کے لیے عدالت میں آئے ہیں اور جج صاحبان ذاتی رنجش کی بنا پر کسی کے خلاف فیصلہ نہیں کرتا اور ہر مقدمے کی سماعت میرٹ پر ہوتی ہے۔ ان درخواستوں میں مدعاعلیہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ اُن کے مخالف وکیل کا مقصد عدلیہ کو تقسیم کرنا ہے جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ وہ اُن وکلاء میں سے نہیں ہیں جنہوں نے سابق صدر پرویز مشرف سے پیسے پکڑے ہوں۔ جس پر احمد رضا قصوری نے الزام عائد کیا کہ اکرم شیخ نے رائے ونڈ سے پیسے پکڑے ہیں۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی ۔میاں نواز شریف کے تائید کنندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر آئندہ سماعت پر دلائل دیں گے۔ | اسی بارے میں انتخابی اہلیت، شریف برادران کی طلبی05 June, 2008 | پاکستان ’شہباز بِلامقابلہ ایم پی اے‘02 June, 2008 | پاکستان نواز شریف کی اہلیت پر تنازع28 May, 2008 | پاکستان تنازع ختم ہونے کی بجائے بڑھ گیا06 May, 2008 | پاکستان شہباز اور اعتزاز کے کاغذات جمع05 May, 2008 | پاکستان نواز شریف، الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ03 May, 2008 | پاکستان شریف برادر: اہلیت کیس کا فیصلہ18 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||