BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2009, 22:29 GMT 03:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریف برادران کیس، سماعت کل

سپریم کورٹ
’ہر بلی نو سو چوہے کھانے کے بعد حج پر چلی جاتی ہے‘ جج کے ریمارکس
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شریف برداران کی انتخابی اہلیت کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل دینے کی درخواست پرسماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے ۔

منگل کے روز شریف برداران کی انتخابی اہلیت کے کیس کی دوبارہ شنوائی شروع ہوئی۔ آغاز میںسابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی درخواست پر دلائل دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جج اس وقت آزاد ہوتے ہیں جب ان پر کوئی بندش نہ لگائی جائے اور ان کی ملازمت کی مدت میعاد محفوظ ہو اور انھیں مالی تحفظ بھی حاصل ہو۔

اے کے ڈوگر نے عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے لیے جسٹس ریٹائرڈ فضل کریم کی کتاب کا حوالہ دیا تو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ موسٰی کے لغاری نے کہا کہ ’آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ جسٹس فضل کریم نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا کہ نہیں‘۔ مزید ریمارکس دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہر بلی نو سو چوہے کھانے کے بعد حج پر چلی جاتی ہے ‘۔

جسٹس موسٰی لغاری نے کہا کہ ’آپ ہیڈ لائن بنانے کے لیے دلائل دے رہے ہیں۔ ہمیں بھی فون آتے ہیں کہ آپ باہر میڈیا پر جا کر اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں۔‘

اے کے ڈوگر کے عدالت کی خود مختاری کے حوالے سے مزید دلائل دینے پر تین رکنی بینچ کے رکن جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ پرانی کتابوں اور فیصلوں کے حوالے دینے کی بجائے کیس کی حد تک دلائل دیئے جائیں۔

عدالت نے درخواست کی سماعت کل بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے کل دوبارہ اے کے ڈوگر دلائل دیں گے۔

کیس کی شنوائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مدعا علیہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف برداران کے وکیل عدالت کو دو نومبر سے پہلے اور تین نومبر دو ہزار سات کے بعد کی عدالت کہہ کر عدالت کو دو حصوں میں تقسم کرنے اور تصادم پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ اے کے ڈوگر عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں کیونکہ ابھی تک یہ ثابت نہیں کر پائے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جانبدار اور متعصب ہے ۔

اے کے ڈوگر نے میڈیا سے بار کرتے ہوئے شریف برداران کی انتخابی اہلیت کیس کی سماعت موجودہ پی او ججوں پر مشتمل بینچ نہیں کر سکتا ہے کیونکہ ان کی حثیت متنازع ہو چکی ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد