BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 January, 2009, 18:05 GMT 23:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشیر داخلہ کی نواز شریف سے ملاقات

نواز شریف اور رحمان ملک
پیپلز پارٹی سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی اور موجودہ صورت حال کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی اسی کی ایک کڑی ہے: رحمان ملک
وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک نے اتوار کو مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی اورانہیں ملک کے اندار امن وامان کی صورت اور بیرونی خطرات کے بارے میں حکومتی پالیسی کے بارے میں آگاہ کیا۔

رحمان ملک نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ملاقات میں بھارت کی طرف سے ملنے والی معلومات اور حکومتی اقدامات کے بارے میں مسلم لیگ ن کے قائد کو اعتماد میں لیا گیااور بقول ان کے نواز شریف نےاس ضمن میں حکومتی پالیسی سےاتفاق کیا۔

قابل ستائش
 رحمان ملک نے کہا کہ مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے اور صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مسلم لیگ ن کے ہیں۔انہوں نے شہباز شریف کی طرف سے صوبے میں کیے گئے انتظامات کو قابل ستائش قرار دیا
یہ ملاقات نواز شریف کے لاہور کے قریب رائے ونڈ میں واقع فارم ہاؤس میں ہوئی۔ دو گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس ملاقات میں بقول رحمان ملک کے ہلکے پھلکے انداز میں سیاست پر بھی بات ہوئی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی ملاقات میں موجود تھے۔

ایک سوال پر رحمان ملک نے کہا کہ سترھویں ترمیم پر تمام جماعتوں کا اپنا اپنا موقف ہے جو وہ سامنے لا رہی ہیں، تاہم اس کے بارے میں پارلیمنٹ جو فیصلہ کرے گی وہ سب کے لیے قابل قبول ہوگا کیونکہ پارلیمنٹ پوری قوم کی نمائندگی کرتی ہے۔

جب سے ان سے پوچھا گیا کہ کیا کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی پر نواز شریف کو اعتماد میں لیا گیا تو مشیر داخلہ نے کہا کہ یہ مت بھولیں کہ مریدکے ( جہاں جماعت الدعوۃ کا مرکز ہے) صوبہ پنجاب میں ہے اور کالعدم تنظیم کے خلاف اہم کارروائی حکومت پنجاب نے کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے جو تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اس میں بھی حکومت پنجاب کی مدد اور معاونت کی ضرورت ہے۔ مشیر داخلہ کے بقول ان کا روزانہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے رابطہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے اور صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مسلم لیگ نون کے ہیں۔انہوں نے شہباز شریف کی طرف سے صوبے میں کیے گئے انتظامات کو قابل ستائش قرار دیا۔

رحمان ملک نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے اتفاق رائے کا درس دیا ہے اور پیپلزپارٹی اتفاق رائے کی بات کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی اور موجودہ صورت حال کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں
سکول بند، اسمبلی کی تشویش
16 January, 2009 | پاکستان
سوات: تشدد جاری، تین ہلاک
18 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد