پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں مختلف معاملات پر سخت اختلافات کے باوجود بھی آج کل ایسا لگتا ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف روایتی جارحانہ انداز میں بیانات دینے سے احتیاط برت رکھی ہے۔ دو ہفتے قبل ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نوے کی دہائی والا انداز اپنا لیا ہے لیکن گزشتہ جمعہ کو جب میاں شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے کھانے پر ملاقات ہوئی تب سے صورتحال یکسر تبدیل نظر آتی ہے۔ اس ملاقات کے بعد آصف علی زرداری اور ان کی جماعت کے بعض وزیر یہ بیان دے رہے ہیں کہ پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف سمیت ان کے کچھ سرکردہ رہنما کہہ رہے ہیں کہ وہ مرکزی حکومت نہیں گرائیں گے۔ ان کے بیانات اپنی جگہ لیکن دونوں جماعتوں کے رہنماوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ دونوں کی لڑائی کا فائدہ ’اسٹیبلشمینٹ‘ کو ہی ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے بدلے میں شریف برادران نے اپنی جماعت باالخصوص چوہدری نثار علی خان کو آصف علی زرداری اور حکومت کے خلاف بیان بازی سے روکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آصف علی زرداری نے شہباز شریف سے وکلاء تحریک سے دور رہنے کی درخواست بھی کی جس پر میاں شہباز شریف نے انہیں کہا کہ مسلم لیگ (ن) وکلاء کے جلوس میں تو شریک ہوگی لیکن دھرنے میں نہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کے بقول میاں شہباز شریف نے جسٹس افتخار چوہدری کا معاملہ حل کرنے کے لیے’مفید نسخے‘ بتائے ہیں اور ان کی حکومت اب ان پر کام کر رہی ہے۔ وزیر نے نسخوں کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن وہ کافی پر امید تھے کہ وہ نسخے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق فریقین میں یہ بھی طے پایا ہے کہ مارچ کے مجوزہ سینیٹ کے الیکشن میں وہ ایک دوسرے کے اراکین نہیں توڑیں گے۔ ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کے مطالبے پر فروری کے آخر تک پنجاب کا کوئی نیا گورنر بھی مقرر کر سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں رائیونڈ میں ہونے والے
مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن اسمبلی نے بتایا کہ چوہدری نثار علی خان پہلے دن سے ان کی جماعت کو پیپلز پارٹی سے لڑانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں نے چوہدری نثار کی اس پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے ایک موقع پر شریف برادران کو یہ احساس دلایا کہ موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی سے لڑنا ان کے مفاد میں نہیں۔ کیونکہ ان کے بقول پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ (ن) کے جھگڑے کے نتیجے میں جمہوریت کو تو نقصان پہنچےگا ہی لیکن ایسی صورت میں سترہویں ترمیم میں دو بار سے زیادہ وزیراعظم بننے پر عائد پابندی ختم نہیں ہوگی اور اس کا براہ راست نقصان نواز شریف کو ہوگا اور وزیراعظم کے لیے کسی اور کی راہ ہموار ہوگی۔ شہباز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات کے بعد تو پیپلز پارٹی والے بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اب کی بار مسلم لیگ (ن) کو کرائی گئی یقین دہانیوں پر فوری عمل کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے ایک وزیر نے بتایا کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اعتماد کو پختہ بنانے کے لیے یہ ذمہ داری اب ان کی قیادت کی ہے کہ وہ گورنر پنجاب کی قربانی دے دیں‘۔ | اسی بارے میں پی پی، ایم کیو ایم کا اتفاق رائے26 January, 2009 | پاکستان ’اِسی عدالت کو قبول کرنا ہوگا‘27 January, 2009 | پاکستان عدلیہ پر انگلی نہ اٹھنے دیں: وکیل28 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||