عدلیہ پر انگلی نہ اٹھنے دیں: وکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں بنائے گئے فریق خرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات کو عدالتوں میں لانے سے عدالتوں پر انگلیاں اُٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ بدھ کو جسٹس موسی کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے دوران ان درخواستوں کے خلاف دلائل دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو عدالتوں میں گھسیٹنے کی بجائے اُس کے متعلقہ فورم پر ہی ان کو حل کیا جانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ میں جب سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور ڈیموکریٹ پارٹی کے سابق صدارتی اُمیدوار الگور کے انتخابی نتائج کا معاملہ عدالت میں جانے کے بعد جب فیصلہ جارج بش کے حق میں ہوا تو لوگ ان عدالتوں پر بھی انگلیاں اُٹھانے لگے کہ ان عدالتوں میں جو جج صاحبان ہیں اُنہیں جارج بش کے والد بش سنیئر نے تعینات کیا تھا۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ ججوں پر متعصب ہونے کا الزام عدلیہ کو بدنام کرنے کی ایک منظم سازش ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے مؤکل نے اس بارے میں الیکشن کمیشن میں درخواست دی تو پنجاب حکومت نے راتوں رات الیکشن کمیشن کا ریکارڈ تبدیل کرکے ان افرد کے نام ووٹر لسٹ میں ڈلوادیے۔ خرم شاہ کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جو درخواست دائر کی گئی ہے اُن میں مہر ظفر اقبال اور شکیل بیگ کے دستخط نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کو ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سماعت کے دوران عدالت میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ عدالت میں پیش ہوئے اور اُنہوں نے اس ضمن میں عدالت میں بیان حلفی بھی پیش کیے جس پر عدالت نے کہا کہ وہ اس بیان حلفی رجسٹرار آفس میں جمع کروائیں۔ میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے وکلاء اکرم شیخ اور اے کے ڈوگر نے عدالت سے کہا کہ خرم شاہ اور نور الہی کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے مذکورہ افراد کی درخواستوں پر میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے اُنہیں ضمنی انتخابات میں حصلہ لینے سے روک دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’تنقید کے سبب عدالتی نظام پر دباؤ‘19 January, 2009 | پاکستان شریف برادران کیس، سماعت کل21 January, 2009 | پاکستان ’ڈکٹیٹر کے آئین پر حلف اٹھایا ہے ‘21 January, 2009 | پاکستان نواز اہلیت’حکومتی سوچ تبدیل‘06 January, 2009 | پاکستان حکومت پیروی کرے گی04 December, 2008 | پاکستان نواز اہلیت کیس، عدالت میں تلخی22 January, 2009 | پاکستان ’اِسی عدالت کو قبول کرنا ہوگا‘27 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||