BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 January, 2009, 18:04 GMT 23:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تنقید کے سبب عدالتی نظام پر دباؤ‘

سپریم کورٹ
’اگر عدالتی نظام تباہ ہوا تو ججوں، وکلاء سیاستدانوں اور عوام کو خمیازہ بھگتنا ہوگا‘
نواز شریف اور شہباز شریف کی انتخابی اہلیت کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے رکن جسٹس شیخ حاکم علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کے سبب عدالتی نظام دباؤ میں ہے اور اگر عدالتی نظام تباہ ہوا تو اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔

سوموار کو شریف برداران کی انتخابی اہلیت کے کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیر اعطم میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو صلاحتیوں اور کردار کے لحاظ سے انتہائی بلند ہونا چاہیے اور انصاف ایسا ہونا چاہیے جو سب کو نظر آئے۔

انہوں نے انگریزی اخبار دی نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام رائے پیدا ہو رہی ہے کہ جج اپنے ذاتی مفاد کے لیے آئین کے مفہوم کو تبدیل کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ چکا ہے ۔

یاد رہے کہ چودہ جنوری کو میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ نے انتخابی اہلیت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کی درخواست دی تھی ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ لارجر بینچ میں ان ججوں کو شامل کیا جائے جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا ہے ۔

اے کے ڈوگر کے دلائل پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس موسی کے لغاری نے ریمارکس دیتے ہویے کہا کہ آپ کے دلائل تمام ججوں کے خلاف ہیں جبکہ تین رکنی بینچ کے رکن جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ ججوں نے عدالتی نظام کو بچانے کے لیے پی سی او کے تحت دوبارہ حلف اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء اور لوگوں کی تنقید کے باعث عدلیہ دباؤ میں ہے اور ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ آئندہ کیا کرنا ہے کوئی نہیں سوچ رہا ہے اور اگر عدالتی نظام تباہ ہوا تو ججوں، وکلاء سیاستدانوں اور عوام کو خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

وکلاء اور لوگوں کی تنقید کے باعث عدلیہ دباؤ میں ہے اور ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ آئندہ کیا کرنا ہے کوئی نہیں سوچ رہا ہے اور اگر عدالتی نظام تباہ ہوا تو ججوں، وکلاء سیاستدانوں اور عوام کو خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
جسٹس شیخ حاکم علی

اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی تاریخ میں عدالت نے صرف ایک یا دو بار میرٹ پر فیصلہ دیا ہے اور ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھانے والوں کو یہ اختیارحاصل نہیں ہے کہ وہ شریف برداران کے کیس کی سماعت کریں۔ جسٹس موسی کے لغاری نے ریمارکس دیتے ہویے کہا کہ آپ ہماری اخلاقی ذمہ داری کو چیلنج کر رہے ہیں ۔

اس پر مدعا علیہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے یہ کہتے ہوئے عدالتی کاروائی کا دو منٹ کے لیے علامتی بائیکاٹ کیا کہ اے کے ڈوگر عدالت کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کر رہے ہیں ۔

لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے اور کل اے کے ڈوگر دوبارہ اپنے دلائل مکمل کریں گے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف برداران کا کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور جج کسی قسم کی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور مکمل توجہ سے کیس سن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف برداران کے وکیل اس اہل ہی نہیں کہ وہ ججز کے سامنے پیش ہوں وہ صرف اس لیے آتے ہیں کہ عدالت کا وقت ضائع کیا جائے اور سیاسی مقاصد کے لیے کیس کو طول دیا جائے ۔

نواز شریف کے تائید کنندہ کے وکیل اے کے ڈوگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں کے خلاف اعتراض ہے کہ اگر ایک جج پی سی او کے تحت حلف لیتا ہے تووہ جج نہیں رہتا ہے بلکہ اس کے ذہن میں تعصب بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد